دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

اس ظُلْم سے کون بچائے!‘‘    (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۶۳)

مرنے کے بعد مظلوم جانور مُسَلّط ہو سکتا ہے

        دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1012 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’جہنَّم میں لے جانے والے اَعمال ‘‘جلد2  صَفْحَہ323 تا 324 پر ہے :  انسان نے ناحق کسی چوپائے کو مارا یا اسے بھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن اس سے اسی کی مِثْل بدلہ لیا جائے گا جو اس نے جانور پر ظُلْم کیایا اسے بھوکا رکھا۔ اس پر درجِ ذَیل حدیث ِ پاک دَلالت کرتی ہے۔چُنانچِہ رَحمت ِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے جہنَّم میں ایک عورت کو اس حال میں دیکھا کہ  وہ لٹکی ہوئی ہے اور ایک بلّی اُس کے چِہرے اور سینے کو نوچ رہی ہے اور اسے ویسے ہی عذاب دے رہی ہے جیسے اس(عورت) نے دنیا میں قید کر کے اور بھوکا رکھ کراسے تکلیف دی تھی۔ اس روایت کا حُکْم تمام جانوروں کے حق میں عام ہے۔  (اَلزَّواجِرُج۲ ص۱۷۴)

کتے کو پانی پلانے والے کی بخشش ہوگئی

        حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوی ہے کہ حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، ایک روز ایک شخص کسی رستہ سے جارہا تھا کہ اسے سخت گرمی محسوس ہوئی اسے ایک کنواں مل گیا وہ کنوئیں میں اُترا اور پانی پیا، جب باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے اس شخص نے سوچا اس کتے کو بھی میری ہی طرح پیاس لگی ہے، وہ دوبارہ کنوئیں میں اُترا اپنے (چمڑے کے)موزے کو پانی سے بھرا ، اور موزہ اپنے منہ میں دبا کر باہر آیا پھر اس پیاسے کُتے کو پانی پلادیا اس کا یہ عمل  اللّٰہ  تَعَالٰی کو پسند آیا اور اس کی مغفرت فرمادی۔ صحابہ رضوانُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہِم اَجمعیننے عَرْض کی : یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !کیا ہمارے لئے چوپایوں میں بھی اجر ہے؟ فرمایا : فِیْ کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ أَجْرٌ ہر تَر جگر (یعنی ذی روح)میں ثواب ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم، ، ج۴، ص۱۰۳،  الحدیث ۶۰۰۹ :  )

مکّھی پر رَحم کرنا باعثِ مغفِرت ہو گیا

       کسی نے خواب میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیکو دیکھ کر پوچھا : ما فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا : اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بخش دیا، پوچھا :  مغفِرت کا کیا سبب بنا؟ فرمایا :  ایک مکّھی سیاہی(INK) پینے کے لئے میرے قلم پر بیٹھ گئی ، میں لکھنے سے رک گیا یہاں تک کہ وہ فارِغ ہو کر اُڑگئی۔

(لطائفُ الْمِنَن وَالْاَخلاق لِلشَّعرانی ص۳۰۵)

مکھی کو مارنا کیسا؟

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  لکھتے ہیں : یادرہے! مکھیاں تنگ کرتی ہوں تو ان کو مارنا جائز ہے تاہم جب بھی حُصولِ نَفْعْ یا دَفعِ ضَرر(یعنی فائدہ حاصِل کرنے یا نقصان زائِل کرنے) کیلئے مکھی یا کسی بھی بے زَبان جانور کی جان لینی پڑے تو اُس کو آسان سے آسان طریقے پر مارا جائے خوامخواہ اُس کو بار بار زندہ کُچلتے رہنے یاایک وار میں مار سکتے ہوں پھر بھی زخم کھا کر پڑے ہوئے پر بِلاضَرورت ضَربیں لگاتے رہنے یا اُس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس کو تڑپانے وغیرہ سے گُریز کیا جائے۔ اکثر بچّے نادانی کے سبب چیونٹیوں کو کچلتے رہتے ہیں اُن کو اِس سے روکا جائے ۔ چیونٹی بہت کمزور ہوتی ہے چٹکی میں اٹھانے یا ہاتھ یا جھاڑو سے ہٹانے سے عُمُوماً زخمی ہوجاتی ہے، موقع کی مُناسَبَت سے اس پر پھونک مار کر بھی کام چلایاجا سکتا ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵۱)مریض کی عِیادت کرنا

        بیمار کی عِیادت کرنا بھی بڑے اجروثواب کا کام ہے، شَہَنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جس نے مریض کی عِیادت کی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اس پر پَچَھتَّرہزار ملائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپَس آنے تک اسکے ہرقدم اٹھانے پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اورایک دَرَجہ بلند کیا جائے گا، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے ڈھانپ لے گی اور اپنے گھر واپس آنے تک رحمت اسے ڈھانپے رہے گی ۔(التر غیب والتر ھیب حدیث۱۳، ج۴ ، ص۱۶۵)

فِرِشتے عِیادت کریں گے

        حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا :  ’’حضرت ِ سیِّدناموسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  سے عَرْض کی کہ ’’مریض کی عیادت کرنے والے کو کیا اجرملے گا؟ ‘‘اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  نے اِرشادفرمایا :  ’’اس کے لئے دو فِرِشتے مقرر کئے جائیں گے جوقیامت تک اس کی قَبْر  میں روزانہ اس کی عیادت کریں گے۔‘‘(شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور، ص۱۵۹)

عِیادت کے سات مَدَنی پھول

        دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد3حصہ16 صَفْحَہ505پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   فرماتے ہیں :   ٭مریض کی عِیادت کرنا سنت ہے ٭اگر معلوم ہے کہ عِیادت کوجائے گا تو اس بیمار پر گِراں گزرے گا ایسی حالت میں عِیادت نہ کرے ٭ عِیادت کو جائے اور مرض کی سختی دیکھے تو مریض کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ تمہاری حالت خراب ہے اور نہ سر ہلائے جس سے حالت کا خراب ہونا سمجھا جاتا ہی٭ اس کے سامنے ایسی باتیں کرنی چاہئیں جو اس کے دل کو بَھلی معلوم ہوں ٭اس کی مِزاج پُرسی کرے ٭ اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھے مگر جبکہ وہ خود اس کی خواہش کرے۔٭ فاسِق کی عِیادت بھی جائز ہے کیونکہ عِیادت حقوقِ اسلام سے ہے اور فاسِق بھی مُسلِم ہے۔(بہارِ شریعت ، ج۳، ص۵۰۵)

مریض کے لئے ا یک دُ عا

        حضرت ِ سیِّدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : جس نے کسی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن