30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَجَلَّ کے پاس ایک نیکی لکھی جائے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس نیکی کے سبب اسے جنت میں داخل فرمادے گا ۔ (المعجم الاوسط ، الحدیث ۳۲ ، ج۱، ص۱۹)
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ایک شخص کسی راستے سے گزررہا تھا، اس نے اس راستے پر ایک کانٹے دار شاخ کو پایا تو اسے راستے سے ہٹادیا ، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کو اس شخص کا یہ عمل پسند آیا اور اس بندے کی مغفرت فرمادی۔ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص راستے کے بیچ میں پڑی ہوئی درخت کی شاخ کے قریب سے گزرا تو اس نے کہا : خدا کی قسم! میں مسلمانوں کے راستے سے اسے ضرور ہٹادوں گا تاکہ وہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے تو اسے جنت میں داخل کردیا گیا۔ایک روایت میں ہے کہ میں نے ایک شخص کو جنت میں پھرتے ہوئے دیکھا کیونکہ اس نے راستے میں گرے ہوئے ایک درخت کو کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو تکلیف پہنچا رہا تھا ۔
(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، الحدیث ۱۹۱۴، ص۱۴۱۰)
حضرت سَیِّدُنا ابو حَفْص حداد علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الجواد پہلے پہل ایک خوبصورت کنیز پر عاشق ہو کر اپنا سُکھ چین کھو بیٹھے۔کسی نے آپکو بتایا کہ فلاں علاقے میں ایک یہودی رہتا ہے جو جادو کا ماہرہے، وہ یقینا تم کو تمہاری محبوبہ سے ملا دے گا ۔آپ فورا اس یہودی کے پاس پہنچے اور اس سے اپنا تمام حال بیان کیا ۔اس یہودی نے کہا کہ تمہارا کام ہوجائے گا لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ تم چالیس دن تک کسی بھی قسم کی نیکی نہیں کرو گے ، پہلے اس پر عمل کرو پھر میرے پاس آنا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس شرط کو قبول کر لیا اورچالیس دن حسب ِشرط گزارنے کے بعد آپ اس کے پاس پہنچ گئے ۔ اس نے جادو کرنا شروع کیا ، لیکن اس کا کوئی اثر ظاہر نہ ہوا ۔کئی مرتبہ کوشش کرنے کے بعد اس نے کہاکہ ہو نہ ہو ، تم نے ان چالیس دنوں میں کوئی نہ کوئی نیکی ضرور کی ہے ، ورنہ میرا جادو کبھی ناکام نہ جاتا!ذرا سوچ کر بتاؤ! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا : میں نے کوئی نیکی نہیں کی، ہاں !ایک دن راستے میں پڑے ہوئے پتھر کو اس خیال سے ایک طرف کر دیا تھاکہ کوئی مسلمان اس سے ٹکرا کر زخمی نہ ہو جائے ۔یہ سن کر اس جادوگر نے کہا : افسوس ہے تم پر کہ تم نے چالیس دن تک اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے حُکْم کی نافرمانی کی اور اسے فراموش کئے رکھا لیکن اس نے تمہارے ایک عمل کو بھی ضائع نہیں جانے دیا اور اس چھوٹی سی نیکی کو وہ شرف قبولیت بخشا کہ میرا جادو مکمل طور پر ناکام ہو گیا ؟اس بات سے آپ کے دل میں ایک آگ سی لگ گئی ، فورا توبہ کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مشغول ہوگئے ، آخرِ کاردرجہ ولایت پر فائز ہو ئے ۔(تذکرۃ الاولیاء، باب سی وھشتم ، ذکر ابو حفص حداد ، ج ۱، ص۲۸۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ مسلمان کو تکلیف سے بچانے کی مَدَنی سوچ کی بدولت حضرت سَیِّدُنا ابو حفص حداد علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الجوادکو توبہ نصیب ہو گئی ، مگر افسوس کہ آج کل کے مسلمان اس عظیم نیکی سے قدرے غافِل ہیں بلکہ اُلٹا راستوں میں تکلیف دہ چیزیں ڈال دیتے ہیں مثلاً ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹینڈ پر کیلے کے چھلکے پھینک دیتے ہیں پھر جب لوگ ٹرین یا بس میں سوار ہونے کے لئے دوڑتے ہیں تو اس چھلکے سے پھسل کر گر کر زخمی ہوجاتے ہیں اور بعض تو ٹرین یا بس کے نیچے کُچل کر ہلاک بھی ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح بعض لوگ شادیوں یا نیاز وغیرہ کے موقع پر گلی میں گڑھے کھود کر دیگیں پکاتے ہیں اور بعد میں ان گڑھوں کو کھلا ہی چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے کئی گاڑیاں حادثے کا شکار ہوتی ہیں اور کئی بوڑھے حضرات ان میں گر کر ہڈیاں تڑوا بیٹھتے ہیں ۔تمام اسلامی بھائیو ں کو اس قسم کی حرکتوں سے بچنا چاہئے بلکہ راستوں میں موجود کسی تکلیف دہ چیز پر نظر پڑ جائے تو اس کواچھی اچھی نیتوں کے ساتھ ہٹا کر ثواب کمانا چاہئے ۔
کچھ نیکیاں کمالے جلد آخِرت بنالے
کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی! زندَگی کا (وسائلِ بخشش، ص۱۹۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اسلام اتنا پیار امذہب ہے کہ اس میں انسان تو انسان جانوروں کے بھی حقوق موجودہیں ، چنانچہ جو جانورسانپ بچھو وغیرہ کی طرح مُوذِی(یعنی اذیت پہنچانے والے ) نہ ہوں ان کو بلاوجہ تکلیف پہنچانا مَنْع ہے ، یہاں تک کہ جن جانوروں کو کھانے کے لئے ذَبح کیا جاتا ہے انہیں بھی ایسے طریقے سے ذَبح کرنے کی تاکید ہے جس میں انہیں کم سے کم تکلیف ہو ، چنانچہ مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُکْم دیا کہ جب تم ذَبح کرو تو اَحسن(یعنی خوب عمدہ) طریقے سے ذَبح کرو اورتم اپنی چُھری کو اچّھی طرح تیز کرلیا کرواورذَبیحہ کو آرام دیا کرو۔ (صَحیح مُسلِمص۱۰۸۰ حدیث۱۹۵۵)بوقتِ ذَبْح رضائے الٰہی کی نیّت سے جانور پر رَحْم کھانا کارِثواب ہے جیساکہ ایک صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عَرْض کی : یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! مجھے بکری ذَبْح کرنے پر رَحْم آتا ہے ۔ فرمایا : اگر اس پر رَحْم کرو گے اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی تم پر رَحْم فرمائے گا۔(مُسندِ اِمام احمد بن حنبلج۵ ص ۳۰۴حدیث ۱۵۵۹۲)
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’ابلق گھوڑے سوار‘‘ کے صفحہ 15پر لکھتے ہیں : گائے وغیرہ کوگرانے سے پہلے ہی قبلے کا تَعَیُّن کر لیا جائے ، لِٹانے کے بعد بِالخصوص پتھریلی زمین پر گھسیٹ کر قبلہ رُخ کرنابے زَبا ن جانورکیلئے سخت اذیَّت کا باعث ہے ۔ ذَبْح کرنے میں اتنا نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مُہرے(ہڈی) تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور مکمَّل طور پر ٹھنڈا نہ ہو جائے نہ اس کے پاؤں کاٹیں نہ کھال اُتاریں ، ذَبْح کر لینے کے بعد جب تک رُوح نہ نکل جائے چھری کٹے ہوئے گلے پر مَس(TOUCH) کریں نہ ہی ہاتھ۔بعض قصّاب جلد ’’ٹھنڈی ‘‘ کرنے کیلئے ذَبْح کے بعد تڑپتی گائے کی گردن کی زندہ کھال اُدھیڑ کر چُھری گھونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں ، اِسی طرح بکرے کوذَبْح کرنے کے فوراً بعد بے چارے کی گردن چٹخا دیتے ہیں ، بے زَبا نو ں پر اِس طرح کے مظالم نہ کئے جائیں ۔ جس سے بن پڑے اس کے لئے ضَروری ہے کہ جانور کوبِلا وجہ اِیذا پہنچانے والے کو روکے ۔ اگر باوُجُودِ قدرت نہیں روکے گا تو خود بھی گنہگار اور جہنَّم کا حقدار ہو گا۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِداریمکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3 صَفْحَہ660پر ہے : ’’ جانو ر پرظُلم کرنا ذِمّی کافرپر(اب دنیا میں سب کافر حَربی ہیں )ظُلْم کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور ذِمّی پر ظُلْم کرنا مسلم پر ظُلْم کرنے سے بھی بُرا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی مُعِین و مددگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا نہیں اس غریب کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع