دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

                   اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش شریف)

مغفرت کر دی جاتی ہے

        حضرتِسیِّدُنا نُفَیْع اَعمٰیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا بَرَاء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے میری ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھ سے مُصافَحہ فرما یا (یعنی ہاتھ ملائے ) اور مسکرانے  لگے، پھر پوچھا :  جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا؟میں نے عَرْض کی :  نہیں ۔ تو فرمانے لگے کہ نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم نے مجھے شَرَف ِملاقا ت بخشا تو میرے ساتھ ایسے ہی کیا پھر مجھ سے پوچھا :  جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے عَرْض کی : نہیں ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایاکہ جب دو مسلمان ملاقات کرتے وَقت مُصافَحہ کرتے(یعنی ہاتھ ملاتے) ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے سامنے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   کے لئے مسکراتے ہیں تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفِرت کردی جاتی ہے۔(اَلمعجم الاوْسَط لِلطّبَرانی، ج ۵، ص۳۶۶، حدیث۷۶۳۰)

       میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں لَفْظ ’’ اللہکیلئے ‘‘ اچّھی نیّت کی صَراحت کرتا ہے۔ بَہَرحال کسی مسلمان سے ہاتھ ملانا اور دورانِ گفتگو  مُسکرانا صِرْف اسی صورت میں باعثِ ثوابِ آخِرت و مغفِرت ہے جبکہ یہ ہاتھ ملانا اورمُسکرانا صِرْف اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی رِضا پانے کی نیّت سے ہو۔ اپنی مِلَنْساری کا سکّہ جمانے، کسی مالدار یا سیاسی’’ شخصیَّت‘‘ کی خوشنودی پانے، دُنیوی مذموم مَفاد پرستی والی’’ ذاتی دوستی‘‘ بڑھانے اور مَعَاذَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  !اَمرد کے ہاتھوں کے مَساس (یعنی چُھونے) اور اُس کی جوابی مُسکراہٹ کے ذَرِیعے گناہوں بھری لذّت پانے وغیرہ بُری نیّتوں کے ساتھ نہ ہو۔(ماخوذ از’’ نیکی کی دعوت‘‘ص۲۴۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (۴۵بیچی ہوئی چیز واپس لینا

        بعض اوقات ایک اسلامی بھائی کوئی چیزخریدنے کے بعد کسی مجبوری سے واپس کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس شے میں کوئی عیب بھی نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی اور شرعی وجہ ہوتی ہے جس سے بیچنے والے پر اس چیز کا واپس لینا واجب ہو ، لیکن ایسی صورت میں اگر وہ خریدار کی پریشانی ختم کرنے کی نیت سے وہ چیز واپس لے لے(جسے فقہی زَبان میں ’’اِقَالَہ‘‘ کہتے ہیں ) تو اسے خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن فضیلت بہت بڑی ملے گی ۔ رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جس نے کسی مسلمان کو بیچی ہوئی چیز اس کے واپس کرنے پر واپس لے لی اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  قیامت کے دن اس کی پریشانی کو اٹھادے گا۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، ج ۳ ، ص۳۶،  الحدیث  : ۲۱۹۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

  (۴۶)  قبلہ رخ بیٹھنا

        باِلخُصُوص تِلاوت ، دِینی مُطالَعَہ ، فتاوٰی نَوِیسی ، تصنیف و تالیف ، دُعا و اَذکار اور دُرُود وسلام وغیرہ کے مواقِع پر اور باِلعُمُوم جب جب بیٹھیں یا کھڑے ہو ں اور کوئی رکاوٹ نہ ہوتو اپنا چِہرہ قِبلہ رُخ کرنے کی عادت بناکر آخِر ت کیلئے ثواب کا ذخیرہ اکٹھّا کیجئے ۔ (قبلہ کی دائِیں یا بائِیں جانب 45ڈگری کے زاوِیے(یعنی اینگل) کے اندر اندرہوں توقِبلہ رُخ ہی شُمار ہوگا) سرکارِ مدینہ، فیض گنجینہ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  عُمُوماً قِبلہ رُو ہوکر بیٹھتے تھے ۔ (احیاء العلوم، ج۲، ص۴۴۹ )

  تین فرامین مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

        (۱)مجالِس میں سب سے مُکرّم (یعنی عزّت والی ) مجلس(یعنی بیٹھک ) وہ ہے جس میں قبلے کی طرف مُنہ کیا جائے ۔ (المعجم الاوسط ، ج ۶، ص۱۶۱،  الحدیث  : ۸۳۶۱) (۲)ہر شے کے لئے شَرَف (یعنی بُزُرگی) ہے اور مجلس (یعنی بیٹھنے ) کا شَرَف یہ ہے کہ اس میں قِبلے کو مُنہ کیا جائے۔(المعجم الکبیر، ج ۱۰، ص۳۲۰،  الحدیث  : ۱۰۷۸۱)(۳) ہر شَے کیلئے سرداری ہے اور مجالِس کی سرداری اس میں قِبلے کو مُنہ کرنا ہے ۔

                                                                                                                                                                                    (المعجم الاوسط، ج۲، ص۲۰ ،  الحدیث  : ۲۳۵۴)

مُبلِّغ اور مُدرِّس کیلئے سنّت

        مُبلِّغ اور مُدرِّس کیلئے دورانِ بیان و تَدریس سُنّت یہ ہے کہ پیٹھ قِبلے کی طرف رکھیں تاکہ ان سے عِلم کی باتیں سننے والوں کا رُخ جانبِ قبلہ ہوسکے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ حافِظ سَخاوی علیہ رَحمۃ اللّٰہ القَوِی فرماتے ہیں :  نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  قِبلے کو اس لئے پیٹھ فرمایا کرتے تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جنہیں عِلم سکھارہے ہیں یا وعظ فرمارہے ہیں اُن کا رُخ قبلے کی طرف رہے۔ (المقاصد الحسنۃ ، ص۸۸ دارالکتاب العربی بیروت)ممکن ہو تو میز کُرسی وغیر ہ اس طرح رکھئے کہ جب بھی بیٹھیں آپ کا مُنہجانبِ قِبلہ رہے۔

حصولِ ثواب کی نیت ضرور کر لیجئے

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  لکھتے ہیں : اگر اتِّفاق سے کعبہ رُخ بیٹھ گئے اور حُصولِ ثواب کی نیّت نہ ہو تو اَجْر نہیں ملے گا لہٰذا اچھّی اچھّی نیّتیں کرلینی چاہئیں مَثَلاً یہ نیّتیں :

 (۱ ) ثوابِ آخِر ت (۲) ادائے سنّت اور(۳) تعظیمِ کعبہ شریف کی نیّت سے قِبلہ رُو بیٹھتا ہوں ۔دِینی کُتُب اور اسلامی اسباق پڑھتے وَقْت یہ بھی نیّت شامل کی جاسکتی ہے کہ قِبلہ رُو بیٹھنے کی سنّت کے ذَرِیعے علمِ دین کی بَرَکت حاصِل کروں گا ، اِنْ  شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔   

مدینے شریف کی نیت بھی شامل کرلیجئے

        پاک و ہند نیز نیپال، بنگال اور سی لنکا وغیرہ میں جب کعبے کی طرف مُنہ کیاجا ئے تو ضِمناً مدینۂ منوّرہ کی طرف بھی رُخ ہوجاتا ہے لہٰذایہ نیّت بھی بڑھا دیجئے کہ تعظیماً مدینۂ منوّرہ کی طرف رُخ کرتا ہوں ۔(ماخوذ از جنات کا باد شاہ، ص۱۷)

         بیٹھنے کا حسیں قرینہ ہے          رُخ اُدھر ہے جِدھر مدینہ ہے

دونوں عالم کا جو نگینہ ہے         میرے آقا کا وہ مدینہ ہے

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن