دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

تگودار خان اپنی پوری تاتاری قوم سمیت مسلمان ہوگیا۔ اس کا اسلامی نام ’’احمد‘‘ رکھا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک مبلِّغ کے میٹھے بول کی بَرَ کت سے وسط ایشیا کی خونخوار تاتاری سلطنت اسلامی حکومت سے بدل گئی ۔

  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم    

       شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اس روایت کو نَقْل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ؟ مبلّغ ہو تو ایسا! اگر تگودار کے تیکھے جملے پروہ بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ غصّے میں آجاتے تو ہر گز یہ مَدَنی نتائج برآمد نہ ہوتے۔ لہٰذا کوئی کتنا ہی غصّہ دلائے ہمیں اپنی زَبان کو قابو میں ہی رکھنا چاہئے کہ جب یہ بے قابو ہوجاتی ہے تو بعض اوقات بنے بنائے کھیل بھی بگاڑ کررکھ دیتی ہے۔ میٹھی زَبان ہی توتھی کہ جس کی شیرینی اور چاشنی نے تگودار خان جیسے وحشی اور خونخوار انسا نِ بدتر از حیوان کو انسانیت کے بلند و بالا منصب پر فائز کردیا۔     ؎

ہے فلاح وکامرانی نرمی وآسانی میں

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نرمی کامَدَنی اِنعام

       امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطا کردہ نیک بننے کے نسخے  ’’ مَدَنی اِنعامات‘‘ میں سے ایک مَدَنی اِنعام نرمی کے بارے میں بھی ہے ، چنانچہ  دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 30صفحات پر مشتمل رسالے ’’72مَدَنی اِنعامات‘‘ کے صفحہ 10پر مَدَنی اِنعام نمبر28ہے :  آج آپ نے (گھر میں یا باہَر)کسی پر غصہ آجانے کی صورت میں چپ سادھ کر غصے کا علاج فرمایا یا بول پڑے؟ نیز درگزر سے کام لیا یا اِنتقام (یعنی بدلہ لینے) کا موقع ڈھونڈتے رہے؟

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۴۳) مسلمان بھائی کو تکیہ پیش کرنا

        مجلس میں آنے والے مسلمان کو تکیہ پیش کرنا باعث مغفرت ہے ، حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس حاضِرہوئے، اس وَقْت امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ تکیہ حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دے دیا تو انہوں نے عَرْض کی : ’’ اَللّٰہُ اَکْبَر! رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے سچ فرمایا۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  ’’ہمیں بھی بتاؤکہ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کیافرمایاتھا؟‘‘ عَرْض کی :  میں بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا اس وَقْت حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تکیہ سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے وہ تکیہ مجھے عطا فرمادیا اور اِرشاد فرمایا :  کوئی مسلمان اپنے بھائی کے پاس جائے اوروہ اس کی تکریم کرتے ہوئے اپنا تکیہ اُسے دے دے تو  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  اس کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔

 (المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب تکریم المسلم بالقاء۔۔۔الخ، ج۴، ص۷۸۳،  الحدیث  : ۶۶۰۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۴) مسلمان بھائی کے لئے مسکرانا

حضرتِ سیِّدُنا ابوذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ہادیٔ راہِ نَجات، سَرْ وَرِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رَحمت نشان ہے :  اپنے بھائی سے مُسکرا کر مِلنا تمہارے لیے صَدَقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے مَنع کرنا صَدَقہ ہے۔(سُنَنِ تِرمِذی ج ۳ ص۳۸۴حدیث۱۹۶۳)

شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اس روایت کو نَقْل کرنے کے بعد ’’نیکی کی دعوت‘‘ صفحہ 245پر لکھتے ہیں :  بیان کردہ حدیثِ مبارَکہ میں مُسکرا کر ملنے، نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے مَنْع کرنے کو صَدَقہ کہا گیا ۔سُبْحٰنَ اللّٰہ!  مُسکرا کر ملنے کی تو کیا بات ہے! مسکر اکرملنا، مسکرا کر کسی کو سمجھانا عُمُوماً نیکی کی دعوت کے مَدَنی کام کو نہایت سَہل و آسان بنا دیتا اور حیرت انگیز نتائج کا سبب بنتا ہے۔ جی ہاں آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندَگی میں مَدَنی انقِلاب برپا کر سکتی ہے اورملتے وَقت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ہاتھ ملانا کسی کا دل توڑ کر اُس کومَعَاذَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!گمراہی کے گہرے گڑھے میں گر اسکتا ہے، لہٰذا جب بھی کسی سے ملیں ، گفتگو کریں اُس وَقت حتَّی الامکان  مُسکراتے رہئے۔ اگر خُشک مزاجی یا بے توجُّہی سے ملنے کی خصلت ہے تو مِلنساری اورمُسکرا کر ملنے کی عادت بنانے کیلئے خوب کوشِش کیجئے، بلکہ مُسکرانے کی عادت پکّی کرنے کیلئے ضَرورتاً کسی کی ذِمّے داری بھی لگایئے کہ وہ دوسروں سے بات کرتے ہوئے آپ کا منہ پھولا ہوا یا سَپاٹ مَحسوس کرے تو گاہے بہ گا ہے یاد دِہانی کروا تے ہوئے کہتا رہے یا آپ کو اِس طرح کی تحریر دکھا دیاکرے :

 ’’ بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔‘‘ جی ہاں واقِعی یہ سنَّت ہے۔ چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 73 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ حُسنِ اَخلاق‘‘ صَفْحَہ  15پر ہے : حضرتِ سیِّدَتُنااُمِّ دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا، حضرتِ سیِّدُناابو دَردا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مُتَعَلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے، جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا : ’’ میں نے حُسنِ اخلاق کے پیکر، ملنساروں کے رہبر ، غمزدوں کے یاوَر، محبوبِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو دیکھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دَورانِ گفتگو مسکراتے رہتے تھے ۔‘‘( مکارِمُ الاخلاق للطَّبَرانی ، ص۳۱۹،  الحدیث ۲۱ )

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن