30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورخود کھڑے رہ کر ، کار میں سفر کا موقع مُیَسَّر ہونے کے باوُ جود دوسرے اسلامی بھائی کیلئے قربانی دیکر اُسے کار میں بٹھا کر اور خود پیدل یا بس وغیرہ میں سفر کر کے ، سنّتوں بھرے اجتِماع وغیرہ میں آرام دِہ جگہ مل جائے تو دوسرے اسلامی بھائی پر جگہ کُشادہ کر کے یا اُسے وہ جگہ پیش کر کے، کھاناکم ہو اورکھانے والے زیادہ ہوں تو خود کم کھاکر یا بالکل نہ کھا کر نیز اسی طرح کے بے شمار مَواقِع پر اپنے نفس کو تھوڑی سی تکلیف دیکر مُفت میں ایثارکاثواب کمایا جاسکتاہے ۔(ماخوذ ازمدینے کی مچھلی، ص۲۷)
دے جذبہ تُو ایسا ترے نام پر دوں
پسندیدہ چیزیں لُٹا یاالٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴۰) خاموش رہنا
زَبان اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ ایسی عظیم نعمت ہے جس کی حقیقی قدر وہی شخص جان سکتا ہے جو قوتِ گویائی سے محروم ہو۔زَبان کے ذریعے اپنی آخرت سنوارنے کے لئے نیکیوں کا خزانہ بھی اکٹھا کیا جاسکتا ہے اور اس کے غلط استعمال کی وجہ سے دنیا وآخرت برباد بھی ہوسکتی ہے ۔خاموش رہنا بھی ایک طرح کی عبادت ہے اور باعثِ ثواب ہے، احادیث مبارکہ میں زَبان پر قابو پانے کے لئے خاموشی کی بہت سی فضیلتیں بیان ہوئی ہیں ، سرِ دست چار یار کی نسبت سے چار فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ملاحظہ کیجئے : (۱)اَلصَّمْتُ اَرْفَعُ الْعِبَادَۃِخاموشی اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطاب ج۲ص۳۶، الحدیث ۳۶۶۵)(۲) مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوِ لْیَصْمُتْ’’ جو اللہ اور قِیامت پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے ۔ ‘‘ (بُخاری ج ۴ ص۱۰۵حدیث ۶۰۱۸) (۳)اَلصَّمْتُ سَیِّدُ الْاَخْلاَقخاموشی اَخلاق کی سردار ہے۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطاب ج۲، ص۳۶، الحدیث ۳۶۶۶)(۴) آدَمی کا خاموشی پر قائم رہنا60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
(شُعَبُ الْاِیمان ج۴ص۲۴۵ الحدیث ۴۹۵۳)
رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سَیِّدُنا ابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے دوعمل نہ بتاؤں جو کرنے میں بہت ہلکے لیکن میزانِ عمل میں بہت بھاری ہیں ؟ انہوں نے عَرْض کی : یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! ضرور بتائیے۔اِرشاد فرمایا : طُوْلُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ یعنی کثرت سے خاموش رہنا اور خوش اخلاقی ، پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! مخلوق کا کوئی عمل ان دونوں جیسا نہیں ہے۔(شعب الایمان للبیہقی ج۶ص۲۳۹حدیث۸۰۰۶)
حُجَّۃُالْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالیعلیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالیکے فرمانِ والا شان کا خلاصہ ہے : گفتگو کی چارقِسمیں ہیں : (1)مکمّل نقصان دِہ بات(2) مکمَّل فائدے مند بات (3)ایسی بات جو نقصان دِہ بھی ہو اور فائدے مند بھی اور (4)ایسی بات جس میں نہ فائدہ ہو نہ نقصان۔پس پہلی قِسم کی بات جو کہ مکمّل نقصان دِہ ہے اُس سے ہمیشہ پرہیز ضَروری ہے۔ اور اسی طرح تیسری قِسم والی بات کہ جس میں نقصان اور فائدہ دونوں ہیں ، اس سے بھی بچنا لازِم ہے ۔ اور جو چوتھی قِسم ہے وہ فُضُولیات میں شامل ہے کہ اُس کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان لہٰذا ایسی بات میں وَقت ضائِع کرنا بھی ایک طرح کا نقصان ہی ہے ۔ ا س کے بعد صِرْف دوسری ہی قِسم کی بات رَہ جاتی ہے یعنی باتوں میں سے تین چوتھائی (یعنی75%)تو قابلِ استعمال نہیں اور صِرْف ایک چوتھائی(یعنی25%) بات جو کہ فائدہ مند ہے بس وُہی قابلِ استِعمال ہے مگر اِس قابلِ استِعمال بات کے اندر باریک قسم کی رِیا کاری ، بناوَٹ ، غیبت ، جھوٹے مبالغے ’’ میں میں کرنے کی آفت ‘‘ یعنی اپنی فضیلت و پاکیزگی بیان کر بیٹھنے وغیرہ وغیرہ اندیشے ہیں نیز فائدہ مندگفتگو کرتے کرتے فُضُول باتوں میں جا پڑنے پھر اس کے ذَرِیعے مزید آگے بڑھتے ہوئے اِس میں گناہ کا ارتِکاب ہو جانے وغیرہ وغیرہ خدشات شامل ہیں اوریہ شُمُولِیَّت ایسی باریک ہے جس کاعِلْم نہیں ہوتا، لہٰذا اس قابلِ استِعمال بات کے ذَرِیعے بھی ا نسان خطرات میں گِھرا رہتا ہے۔ (مُلخَّص ازاِحیائُ الْعُلوم ج ۳ص۱۳۸)
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں : خاموشی کے طلبگار کو چا ہئے کہ زَبان سے کرنے کے بجائے روزانہ تھوڑی بَہُت باتیں لکھ کر یا اشارے سے بھی کر لیا کرے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس طرح خاموشی کی عادت شُروع ہوجا ئے گی۔ اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ!’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کی طرف سے نیک بننے کے عظیم نسخے ’’ مَدَنی اِنعامات‘‘ کا ایک مَدَنی اِنعام یہ بھی ہے : کیا آج آپ نے زَبان کا قفلِ مدینہ لگاتے ہوئے فُضُول گوئی سے بچنے کی عادت ڈالنے کے لیے کچھ نہ کچھ اشارے سے اور کم ازکم چار بار لکھ کر گفتگو کی؟
گھر میں مَدَنی ماحول بنانے میں خاموشی کا کردار
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے ضَرورت بات ، ہنسی مذاق اورتُوتَڑاق کی عادات نکال دینے سے گھر میں بھی آپ کا وقاربُلند ہوگااور جب گھر کے اَفراد آپ کے سنجیدہ پن سیمُتأَثِّر(مُ۔تَ۔اَث۔ثِر)ہوں گے توان پر آپ کی ’’نیکی کی دعوت‘‘ بَہُت جلد اثر کرے گی اور گھر میں مَدَنی ماحول نہ ہوا تو بنانے میں آسانی ہوجائے گی۔ چُنانچِہ’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کے سنّتوں بھرے اجتِماع میں خاموشی کی اَھَمِّیَّت پر کیا ہوا ایک سنّتوں بھرا بیان سُن کر ایک اسلامی بھائی نے جو تحریر دی اُس کاخُلاصہ ہے : سنّتوں بھرے بیان میں دی گئی ہدایت کے مطابِق اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! مجھ جیسے باتُونی آدَمی نے خاموشی کی عادت ڈالنی شروع کردی ہے، سُبْحٰنَ اللّٰہ!اس کا مجھے بے حدفائدہ پہنچ رہا ہے، میرے ابوالفضول ہونے کی وجہ سے گھر کے اَفراد مجھ سے بدظن تھے مگر جب سے چُپ رہنا شروع کیا ہے، گھر میں میری ’’پوزیشن‘‘بن گئی ہے اورخُصُوصاً میری پیاری پیاری ماں جو کہ مجھ سے خوب بیزار رہا کرتی تھیں اب بے حد خوش ہوگئی ہیں ، چُونکہ پہلے میں بَہُت ’’ بکّی‘‘ تھا لہٰذا میری اچّھی باتیں بھی بے اثر ہو جاتی تھیں مگر اب میں امّی جان کو جب کوئی سنَّت وغیرہ بتاتاہوں تو وہ نہ صِرْف دلچسپی سے سنتی ہیں بلکہ عمل کرنے کی بھی کوشِش کرتی ہیں ۔(ماخوذ از خاموش شہزادہ ، ص۳۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع