دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

       فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے :  اِمْلَاءُ الْخَیْرِخَیْرٌ مِّنَ السُّکُوْتِ وَالسُّکُوْتُ خَیْرٌ مِّنْ اِمْلَاءِالشَّرِّ یعنی اچّھی بات کہنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموش رہنا بُری بات کہنے سے بہتر ہے۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۴ص۲۵۶حدیث۴۹۹۳)کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جو صِرْف اچھی بات کہنے کے لئے زَبان کو حرکت میں لاتے ہیں ، نیک لوگوں کا تذکرہ بھی اچھی گفتگو میں شامل ہے اور باعثِ رحمت بھی ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا فرمان ہے :  ’’عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحمَۃُ یعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وَقْت رحمت نازل ہوتی ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیائ، ج ۷، ص۳۳۵،  الحدیث ۱۰۷۵۰) جامع صغیر میں ہے : انبیاء کرام علیہم السلام کا ذِکر کرناعبادت ہے اورصالحین کا ذِکر (گناہوں کا)  کفارہ ہے۔(جامع صغیر، ص۲۶۴،  الحدیث  ۴۳۳۱ ملخصًا)

ہمیں بُزُرگوں کی باتیں سنایئے

        محدّثِ اعظم پاکستان حضرت مولاناسردار احمدقادری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری کو بچپن ہی سے اپنے بُزُرگوں سے والہانہ عقیدت تھی، چنانچہ آپ اسکول کی تعلیم کے دوران اپنے استاذ سے عَرْض کیا کرتے : ماسٹر جی! ہمیں بُزُرگوں کی باتیں سنائیے اور حضور سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی حیاتِ طیبہ پر ضرور روشنی ڈالا کیجئے ۔(حیاتِ محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ، ص۳۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (۳۸شعائرِ اسلام کی تعظیم کرنا

        شعائرِ اسلام مثلاً قرآن شریف، خانہ کعبہ، صفا مَروہ ، مکہ معظمہ ، مدینہ منورہ ، بیت المقدس، طُورسینااور مختلف مقاماتِ مقدسہ نیز انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام واولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامکے مزارات اور آب زمزم وغیرہ کی تعظیم کرنا بھی بہت بڑی نیکی ہے ، سورۂ حج کی آیت 32میں اِرشاد ہوتا ہے :

وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲) ۱۷، الحج۳۲)

ترجمہ کنزالایمان : اور جو اللّٰہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔

قرآن پاک کو چُوما کرتے

        امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  روزانہ صُبح قراٰنِ مجیدکو چُوم کر فرماتے :  یہ میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ  کاعَہد اور اُس کی کتاب ہے۔(دُرِّمُختار، ج۹، ص۶۳۴)

ہاتھ چہرے پر پھیر لیاکرتے

         حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  منبر شریف پر جس جگہ بیٹھتے تھے  حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما  خاص اس جگہ پر اپنا ہاتھ پھرا کر اپنے چہرے پر پھیر لیا کرتے تھے۔  (الشفاء، ج۲، ص۵۷)

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۹)ایثار کرنا

         اِیثار کا معنیٰ ہے : ’’دو سروں کی خواہِش اور حاجت کو اپنی خواہِش وحاجت پر ترجیح دینا۔‘‘اس کا بھی بڑا ثواب ہے ، نفس کو دبا لیا جائے تو زیادہ مشکل بھی نہیں ، اس کی فضیلت ملاحظہ ہو، سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ بخشِش نشان ہے :  جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُس خواہش کو روک کر  اپنے اوپر(دوسرے کو) ترجیح دے تو اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  اُسے بخش دیتا ہے۔(اِتحافُ السّادَۃ  للزّبیدی ج۹ص۷۷۹)

انوکھا دسترخوان

        حضرتِ سیِّدُناشیخ ابوالحسن انطاکی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الباقی کے پاس ایک بار بَہُت سے مہمان تشریف لے آئے ۔رات جب کھانے کا وَقت آیا تو روٹیاں کم تھیں ، چُنانچِہ روٹیوں کے ٹکڑے کر کے دَسترخوان پر ڈالدئیے گئے اوروہاں سے چَراغ اُٹھا دیاگیا ، سب کے سب مہمان اندھیرے ہی میں دَسترخوان پر بیٹھ گئے ، جب کچھ دیر بعد یہ سوچ کر کہ سب کھاچکے ہونگے چَراغ لایاگیا تو تمام ٹکڑے جُوں کے تُوں موجود تھے ۔ ایثار کے جذبے کے تحت ایک لقمہ بھی کسی نے نہ کھایا تھاکیونکہ ہر ایک کی یِہی مَدَنی سوچ تھی کہ میں نہ کھاؤں تاکہ ساتھ والے اسلامی بھائی کا پیٹ بھر جائے ۔

 (اِتحافُ السّادَۃج۹ ص ۷۸۳ )

       شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اس روایت کو نَقْل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :  اللّٰہ  ! اللّٰہ !ہمارے اَسلاف کا جذبۂ ایثار کس قَدَر حیرت ناک تھا اور آہ! آج ہمارا جذبۂ حِرص وطَمع کہ جب کسی دعوت میں ہوں اورکھانا شروع کیا جائے تو ’’کھاؤں کھاؤں ‘‘ کرتے کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑیں کہ’’کھانا اور چبانا‘‘بھول کر ’’نگلنا اور پیٹ میں لڑھکانا‘‘ شروع کر دیں کہ کہیں ایسانہ ہوکہ ہمارا دوسرا اسلامی بھائی تو کھانے میں کا میا ب ہو جائے اور ہم رہ جائیں ! ہماری حرص کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ ہم سے بن پڑے تو شاید دوسرے کے منہ سے نوالہ(نِ۔والہ) بھی چھین کرنگل جائیں !

 ایثار کا ثواب مُفت لوٹنے کے نُسخے

        کاش!ہمیں بھی ایثارکاجذبہ نصیب ہو، اگر خَرچ کرنے کو جی نہیں چاہتا تو بغیر خَرچ کے بھی ایثارکے کئی مَواقِع مل سکتے ہیں ۔ مَثَلاً کہیں دعوت پر پہنچے ، سب کیلئے کھانا لگایا گیاتو ہم عمدہ بوٹیاں وغیرہ اس نیّت سے نہ اُٹھائیں کہ ہمارا دوسرا بھائی اُس کو کھالے ۔ گرمی ہے کمرے کے اندر یا سنّتوں کی تربیت کے مَدَنی قافِلے میں مسجِد کے اندرکئی اسلامی بھائی سوناچاہتے ہیں ، خود پنکھے کے نیچے قبضہ جمانے کے بجائے دوسرے اسلامی بھائی کو موقع دیکر ایثار کا ثواب کما سکتے ہیں ۔اسی طرح بس یا ریل گاڑی کے اندربھیڑکی صورت میں دوسرے اسلامی بھائی کو بَاِصرار اپنی نِشَسْت پر بٹھا کر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن