30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے تو آپ گنہگار ہوں گے۔ [1]؎ (زلزلہ اور اس کے اسباب ، ص۱۵)
؎ عطاہو’’ نیکی کی دعوت‘‘ کا خوب جذبہ کہ
دُوں دُھوم سنّتِ محبوب کی مچا یاربّ (وسائل بخشش ص۹۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکی کی بات بتانے ، گناہ سے نفرت دلانے اور ان کاموں کیلئے کسی پر اِنفِرادی کوشِشکا ثواب کمانے کیلئے یہ ضَروری نہیں کہ جس کو سمجھا یا وہ مان جائے تو ہی ثواب ملیگا بلکہ اگر وہ نہ مانے تب بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب ہی ثواب ہے، آئیے اورساری دنیا میں نیکی کی دعوت عام کرنے کا دَرد رکھنے والی ’’مَدَنی تحریک ‘‘یعنی تبلیغِ قراٰن و سنَّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوکر ’’اپنی اور ساری دُنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشِش‘‘میں لگ جائیے۔ اپنی اِصلاح کی کوشِش کیلئے مَدَنی اِنعامات کے مطابِق عمل اورساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کیلئے عاشِقانِ رسول کیمَدَنی قافِلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیجئے۔آپ کی ترغیب و تحریص کیلئے ایک مُشکبار’’مَدَنی بہار ‘‘ آپ کے گوش گزارکی جاتی ہے ، چنانچِہ
عِصیاں کامریض ’’عالِم‘‘ بن گیا
حافظ آباد (پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکاخلاصہ ہے : ۱۴۱۴ھ بمطابق1993ء کی بات ہے کہ جب میں آٹھویں کلاس کا طالبِ علم تھا۔ ٹی وی اوروی سی آر پر فلمیں دیکھنا، گانے باجے سننا، بدنگاہی کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، بات بات پرہرکسی کو جھاڑ دینا اوردن بھرآوارہ گردی کرتے رہنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ایک روز میرے ایک کلاس فیلو نے مجھے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا تعارف پیش کیا اور مجھے دعوت دی کہ ہر جمعرات کو مغرب کی نمازکے بعد دعوتِ اسلامی کاہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ہوتا ہے آپ بھی سنّتوں کی تربیت کیلئے اس اجتماع میں شرکت فرمایا کریں ۔ میں نے سوچا ایک بار شرکت کرنے میں کیا حرج ہے! لہٰذا ایک دن میں بھی اجتماع میں شریک ہو گیا۔ جب وہاں کے روح پرور مناظر دیکھے تو دل کوبڑی فرحت ملی خصوصاً اجتماع کے بعداسلامی بھائیوں کی آپس میں ملاقات کے اَنداز نے تو مجھے حیران کر دیا کہ نہ توآپس میں کوئی جان پہچان، نہ ہی کوئی رشتہ داری اس کے باوجود
ایک دوسرے سے کیسے پرجوش اَنداز میں مسکرا کر مصافحہ و معانقہ کر رہے ہیں اس کا مجھ پر گہرا اثر پڑا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں پابندی سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے لگااور امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہوکرآپ کی نگاہِ فیض اثر سے نہ صِرْف گناہوں بھری زندگی سے تائب ہو گیا بلکہ ۱۴۱۹ھ بمطابق 1999ء میں اپنے والدین سے اِجازت لے کرپنجاب سے باب المدینہ (کراچی ) آگیا اور دعوتِ اسلامی کے تعلیمی اِدارے ’’جامعۃ المدینہ‘‘ میں داخلہ لے کرحصولِ علمِ دین میں مشغول ہو گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شوال المکرم ۱۴۲۷ھ بمطابق نومبر 2006ء میں عالم کورس مکمل کرلیااور میری خوش نصیبی کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے میرے سرپردستارِفضیلت سجائی۔ اس وَقْت میں دیگر مَدَنی کاموں کے ساتھ ساتھ جامعۃ المدینہ میں تدریسی خدمات بھی سرانجام دے رہا ہوں ۔
اسی ماحول نے ادنی کو اعلیٰ کر دیا دیکھو
اندھیرا ہی اندھیرا تھا اُجالا کردیا دیکھو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳۶) جمعہ کے دن ناخن کاٹنا
جُمُعہ کے دن ناخن کاٹنامُستَحَبہے۔ ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جُمُعہ کا اِنتظار نہ کیجئے (درمختار، ج۹، ص۶۶۸)صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ مولیٰنا امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں : منقول ہے : جو جُمُعہکے روز ناخُن تَرَشوائے (کاٹے)اللّٰہ تَعَالٰی اُس کو دوسرے جُمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جُمُعہ کے دن ناخُن تَرَشوائے (کاٹے) تو رَحمت آئیگی اور گُناہ جائیں گے۔(درمختار، ردالمحتارج۹ص۶۶۸، بہارِشریعت ، ج۳، حصہ۱۶ ص۵۸۳)
ہاتھوں کے ناخُن کاٹنے کے منقول طریقے کاخُلاصہ پیشِ خدمت ہے : پہلے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شُرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سَمیت ناخن کاٹے جائیں مگر انگوٹھا چھوڑدیجئے ۔اب اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سے شروع کرکے تر تیب وار انگوٹھے سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔اب آخِرمیں سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹا جائے۔(درمختار ج۹ص۶۷۰، احیاء العلوم ج ۱ص۱۹۳) پاؤں کے ناخُن کاٹنے کی کوئی ترتیب منقول نہیں ، بہتر یہ ہے کہ سیدھے پاؤں کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی)سے شُروع کر کے تر تیب وار انگو ٹھے سَمیت ناخن کاٹ لیجئے پھر اُلٹے پاؤں کے انگو ٹھے سے شُرو ع کر کے چھنگلیا سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔(اَیضاً)(ماخوذ از101مدنی پھول ، ص۱۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع