30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے کچھ کم نہ کرے گا۔ (مسلِم ص۱۴۳۸حدیث۲۶۷۴)
مُفَسّرِشہیر، حکیمُ الْاُمَّت، حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہ المنّان فرماتے ہیں : یہ حُکْم (عام ہے یعنی )نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صَدقے
سے تمام صَحابہ، اَئِمّۂ مُجتَہِدِین ، عُلَماء مُتَقَدِّمین و مُتَأَخِّرین سب کو شامل ہے مَثَلاً اگر کسی کی تبلیغ سے ایک لاکھ نَمازی بنیں تو اُس مبلِّغ کو ہر وَقت ایک لاکھ نَمازوں کا ثواب ہو گا اور ان نَمازیوں کواپنی اپنی نَمازوں کا ثواب، اس سے معلوم ہو ا کہ حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا ثواب مخلوق کے اَندازے سے وَراء ہے۔ ربّ (عَزَّوَجَلَّ) فرماتاہے :
وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ(۳) (پ۲۹، القلم : ۳)
(ترجَمۂ کنزالایمان : اورضَرور تمہارے لئے بے انتہا ثواب ہے)
ایسے ہی وہمُصَنِّفِین جن کی کتابوں سے لوگ ہِدایت پارہے ہیں قِیامت تک لاکھوں کا ثواب انہیں پہنچتا رہے گا، یہ حدیث اِس آیت کے خلاف نہیں :
لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) (پ۲۷، النجم : ۳۹)
(ترجَمۂ کنزالایمان : آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش)
کیونکہ یہ ثوابوں کی زیادَتی اس کے عملِ تبلیغ کانتیجہ ہے۔مزید فرماتے ہیں : اس میں گمراہیوں کے مُوجِدین مُبَلِّغین(یعنی گمراہی ایجاد کرنے اور گمراہی دوسروں کو پہنچانے والے) سب شامِل ہیں تا قِیامت ان کو ہر وَقْت لاکھوں گناہ پہنچتے رہیں گے۔(مِراٰۃُ المَناجِیح ج۱ص۱۶۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکی کی دعوت دینے کی حرص اپنا لیجئے ، دوسروں کو نَماز ی بنانے کی مُہم تیز سے تیز تر کر دیجئے ، جب بھی نَمازِ باجماعت کیلئے سُوئے مسجِد جانے لگیں ، دوسروں کو ترغیب دیکر ساتھ لیتے جایئے، جنہیں نَماز نہیں آتی اُنہیں نَماز سکھایئے۔اگر آپ کے سبب ایک بھی مسلمان نَمازی بن گیا تو جب تک وہ نَمازیں پڑھتا رہے گا اُس کی ہر ہر نَماز کا آپ کو بھی ثواب ملتا رہے گا۔۔عَلاقائی دَورہ برائے نیکی کی دعوت اور مَدَنی قافِلوں میں سنّتوں بھرے سفرکے ذَرِیعے اپنی اور دوسروں کی اِصلاح کی زور دارمُہم چلا کر مسلمانوں کو ’’نیک بنانے کی مشین‘‘ بن جایئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب کا انبار لگ جائے گا اوردونوں جہانوں میں بیڑا پار ہو جائے گا۔
فائدہ آخرت کے بنانے میں ہے سب مبلغ کہیں قافلے میں چلو
دین پھیلائیے ، سب چلے آئیے کہتے عطار ہیں ، قافلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایک بار حضرتِ سیِّدُنا مُوسیٰ کلیمُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے بارگاہِ خُداوندی عَزَّوَجَلَّمیں عَرْض کی : یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ!جو اپنے بھائی کو نیکی کاحُکم کرے اور بُرائی سے روکے اُس کی جَزاکیا ہے؟ اللہ تَبَارَکَ و تَعَالٰی نے اِرشاد فرمایا : میں اُس کے ہرکلمے کے بدلے ایک ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اُسے جہنَّم کی سزا دینے میں مجھے حَیا آتی ہے۔(مکاشَفَۃُ الْقُلوْب ص۴۸)
سُبحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اگر آپ کسی کو نیکی کی دعوت دیں گے تو ایک ایک کلمے(لَفْظ ، قول یا بات)کے بدلے ایک ایک سال کی عبادت کا ثواب پائیں گے ۔ فرض کیجئے!آپ نے کسی دن مسجِدمیں صِرْف ایک اسلامی بھائی کے سامنے ’’فَیضانِ سنّت‘‘ سے دَرس دیا اور اُس میں دو صَفحات پڑھ کر سنائے، اب اگر ان میں بیس باتیں نیکی و بھلائی کی بیان ہوئیں تودَرْس سننے والا وہ اسلامی بھائی ان پر عمل کرے یا نہ کرے آپ کے نامۂ اَعمال میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بیس سال کی عِبادت کا ثواب لکھا جائے گااور اگر آپ سے دَرْس سُن کراُس اسلامی بھائی نے عمل کرنا شُروع کردیاتو وہ جب تک عمل کرتا رہے گا آپ کو بھی برابر اس عمل کرنے والے جتنا ثواب ملتا رہے گا اور اگر ا س نے آپ کے دَرْس سے سیکھی ہوئی کوئی سنَّت کسی اور تک پہنچائی تو اِس کا ثواب اس پہنچانے والے کو بھی ملے گا اور آپ کو بھی۔اِس طرح اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کا ثواب بڑھتا ہی چلاجائے گا۔ نیکی کی دعوت کاآخِرت میں ملنے والا ثواب بندہ اگر دُنیا ہی میں دیکھ لے تو کوئی لمحہ بیکار نہ جانے دے، ہر وَقت ہی نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاتا رہے ۔ (ماخوذ از نیکی کی دعوت ، ص۲۳۱)
میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاؤں
تو کر ایسا جذبہ عطا یاالٰہی
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 80 صفحات پر مشتمل رسالے ’’زلزلہ اوراس کے اسباب ‘‘کے صفحہ 5 پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں : عام حالات میں اگر چِہ نیکی کی دعوت دینامُسْتَحَب ہے مگر بعض صُورَتوں میں یہ واجِب ہوجاتی ہے ۔واجِب ہونے کی صُورت یہ ہے کہ جب کوئی شخص گناہ کر رہا ہواور ہمارا ظنِّ غالِب ہو کہ اس کومَنع کریں گے تو یہ مان جائیگا تو اب اس کوبتانا، سمجھانا، مَنْع کرنا واجِب ہے۔ اب ہم کو غور کرنا چاہئے کہ یہ واجِب کو ن ادا کررہا ہے؟ مَثَلاًآپ دیکھ رہے ہیں کہ فُلاں بِلا عُذرِ شَرعی نَماز کی جماعت تَرک کرنے کا گناہ کررہا ہے اوروہ آپ سے چھوٹابھی ہے بلکہ آپ کا ماتَحت، ملازِم یا بیٹا بھی ہے اورآپ کا ظنِّ غالِب بھی ہے کہ سمجھاؤں گا تو مان جائیگا مگر آپ اُس کی اِصلاح کی کوشِش نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع