دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

’’بیس نیکیاں ہیں ۔‘‘ پھر ایک اور شخص نے حاضِر ہوکر عَرْض کیا : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ۔‘‘پھر وہ بیٹھ گیا تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’تیس نیکیاں ہیں ۔‘‘

(سنن ابی داوٗد، کتاب الادب، باب کیف السلام ، ج۴، ص۴۴۹،  الحدیث  : ۵۱۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

 (۲۹خندہ پیشانی سے سلام کرنا

        سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  تمہارا لوگوں کو خندہ پیشانی سے سلام کرنا بھی صَدَقہ ہے ۔ (شعب الایمان، ج۶، ص۲۵۳،  الحدیث  ۸۰۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (۳۰)  مصا فحہ کرنا

        دومسلمانوں کابوَقْتِ ملاقات سلام کر کے دونوں ہاتھوں سے مُصافَحَہکرنا یعنی دونوں ہاتھ ملانا سنّت ہے۔نبی مُکَرَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا اِرشادِ معظَّم ہے : جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہوئے مُصافَحہکرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خیریت دریافت کرتے ہیں تو  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  ان کے درمیان سو رحمتیں نازل فرماتاہے جن میں سے ننانوے رحمتیں زیادہ پُرتپاک طریقے سے ملنے والے اور اچھے طریقے سے اپنے بھائی سے خیریت دریافت کرنے والے کے لئے ہوتی ہیں ۔( المعجم الا وسط للطبرانی، ج۵ ص۳۷۹،  الحدیث  : ۷۶۷۲)

گناہ جھڑتے ہیں

        سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جب کوئی مسلمان اپنے بھائی سے ملاقات کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑتا ہے تو اسکے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے تیز آندھی میں خشک دَرخت کے پتے جھڑتے ہیں اور ان دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے اگر چہ ان کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔

 (المعجم الکبیر، مسند سلمان فارسی ، ج۶ ، ص۲۵۶،  الحدیث  : ۶۱۵۰)

جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا ؟

        حضرتِ سَیِّدُنا نُفَیْع اَعمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرت ِ سَیِّدُنا بَرَاء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھ سے مصافحہ فرما یا اورمسکرانے لگے پھر پوچھا : ’’ کیا تم جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا؟‘‘میں نے عَرْض کی : ’’ نہیں ۔‘‘توفرمانے لگے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مجھے شرف ِملاقا ت بخشا تو میرے ساتھ ایسے ہی کیا پھر مجھ سے پوچھا، ’’جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا ؟ ‘‘تو میں نے عَرْض کی :  ’’نہیں ۔‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جب دو مسلمان ملاقات کرتے وَقْت مصافحہ کرتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے سامنے اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے مسکراتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (المعجم الاوسط ، ج ۵، ص۳۶۶،  الحدیث  : ۷۶۳۰)

امیر اہلسنّت کی خاموش اِنفرادی کوشش

        مُصافَحَہ کرتے (یعنی ہاتھ ملاتے) وَقْت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہئے۔(بہارِ شریعت، ج۳، حصہ۱۶، ص۴۷۱ ملخصًا) شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مصافحہ کرتے وَقْت نہ صِرْف خود اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں بلکہ ملاقات کرنے والے اسلامی بھائیوں کی توجُّہ اس سنت کی طرف دلاتے رہتے ہیں ، چنانچِہ ایک مَدَنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ جب مجھے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مصافحہ کرنے کا شرف ملا تو خلافِ معمول آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کافی دیر تک میرے ہاتھ کو تھامے رہے ، میں نے غور کیا تو میرے ہاتھ خالی نہ تھے بلکہ میں نے کوئی چیز پکڑ رکھی تھی ، میں سارامعاملہ سمجھ گیا لہٰذامیں نے وہ چیز فوراًجیب میں ڈالی اور خالی ہاتھ دوبارہ مصافحہ کیا ۔ اس پرامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  بہت خوش ہوئے اور فرمایا :  خاموش التجاء سمجھنے کا شکریہ ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (۳۱خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا

        جب بھی کسی اسلامی بھائی سے ملاقات ہوتو عاجزی کا بازو بچھاتے ہوئے خندہ پیشانی سے ملنے کی کوشش کیجئے ، نیکیوں کے خزانے میں اِضافہ ہوجائے گا ۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ہر نیکی صَدَقہ ہے اور تمہارا کسی سے خندہ پیشانی سے ملنا بھی نیکی ہے اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈالنا بھی نیکی ہے ۔

(مسند احمد بن حنبل ، مسند جابر بن عبداللّٰہ ، ج۵ ، ص ۱۱۱،  الحدیث  : ۱۴۷۱۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۳۲)  دُعا کرنا

         دُنیا کے بڑے سے بڑے امیر شخص سے جب بار بار کچھ مانگا جاتا ہے تو وہ اُکتا کر ناراض ہوجاتا ہے لیکن اس دنیا کا خالق ومالک  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ایسا جوّاد اور کریم ہے کہ اسے اپنے بندوں کا مانگنا بہت پسند ہے ان میں سے جو جتنا زیادہ دُعامانگے گا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اس سے اتنا ہی خوش ہوگا ۔ہمارے مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کثرت سے دُعا مانگا کرتے تھے حتی کہ سونے جاگنے ، کھانے پینے ، کپڑے پہننے اتارنے ، بیت الخلاء جانے اورآنے کے وَقْت اور وُضو کرنے کے دوران بھی دُعا مانگا کرتے تھے ۔ دُعاکسی بھی وَقْت کسی بھی جائزوممکن چیز کے لئے مانگی جاسکتی ہے البتہ دُعا کے آداب کا خیال رکھنا ضَروری ہے ۔ بہرحال دُعادنیاوی مقاصد کے لئے مانگی جائے یا اُخروی ، عبادت میں شمار ہوتی ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے بلکہ دُعا تو عبادت کا مغز ہے ، چنانچہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ دُعاعبادت کا مغز ہے۔‘‘( جامع ترمذی ، کتا ب الدعوات، باب ماجاء فی فضل الدعاء،  الحدیث ۳۳۸۲ ، ج ۵، ص۲۴۳)

دُعا مؤمن کا ہتھیار ہے

        حضرت ِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : دُعامومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور زمین

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن