30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ص۵۸۶ ملتقطاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نمازایسی عبادت ہے جس کا انتظار کرنے والا بھی ثواب کا حقدار ہوجاتا ہے ، رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : نماز کے انتظار میں بیٹھنے والا قیام کرنے والے کی طرح ہے اور اپنے گھر سے نکلنے کے وَقْت سے لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن ، کتا ب الصلوۃ ، با ب الامامۃ والجماعۃ ، الحدیث ۲۰۳۶، ج۳، ص۲۴۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک جگہ وُضو فرمایا پھر اپنے صحابہ کرامعلیہم الرضوان کی طرف رخ کرکے فرمایا : کیا میں تمہیں گناہوں کو مٹانے والے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عَرْض کی : ضرور بتایئے۔اِرشادفرمایا : مَشَقَّت کے وَقْت کامل وُضو کرنا اور مسجد کی طر ف کثرت سے آمدورفت رکھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔(مسند احمد ، مسند الانصار ، الحدیث ۲۲۳۸۹ ، ج۸ ، ص۳۱۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲۶) روزہ اِفطار کروانا
کسی کا روزہ اِفطار کروانا بھی بہت بڑی مگر آسان نیکی ہے ، اس کے لئے سموسوں ، پکوڑوں ، پھلوں اور طرح طرح کی ڈشوں کا ہونا ضَروری نہیں بلکہ صِرْف پانی سے روزہ اِفطار کروا کے بھی ثواب کمایا جاسکتا ہے ، حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : ’’جو حلال کمائی سے کسی روزے دارکو اِفطار کروائے تو فِرِشتے پورا رمضان اس کے لئے دُعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور شب ِ قدر میں حضرت جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام اس سے مصافحہ فرمائیں گے اورجس شخص سے حضرت جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام مصافحہ فرماتے ہیں اس کا دل نرم اورآنسو کثیر ہو جاتے ہیں ۔‘‘ ایک شخص نے عَرْض کی : ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اگرکسی کے پاس اتنا نہ ہو تو؟‘‘ اِرشاد فرمایا : ’’چاہے ایک لقمہ یا روٹی کاٹکڑا ہی ہو۔‘‘ ایک اورشخص نے عَرْض کی : ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اگرکسی کے پاس اتنا بھی نہ ہوتو؟‘‘ اِرشاد فرمایا : ’’چاہے پانی ملاہوا تھوڑا سا دودھ ہی ہو۔‘‘ ایک اورشخص نے عَرْض کی : ’’اگر اتنا بھی نہ ہو تو؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : پانی کے ایک گھونٹ سے ہی اِفطار کروادے (تب بھی یہ ثواب پائے گا)۔
(مکارم الاخلاق للطبرانی، باب فضل من اعان حاجا۔۔۔الخ، ص۳۶۶، الحدیث : ۱۴۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایک دوسرے کو سلام کرنے سے ثواب بھی ملتا ہے اور آپس میں محبت بڑھتی ہے لیکن سلام میں پہل کرنے والا زیادہ فائدہ پاتا ہے ۔ سلام میں پہل کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کامُقرَّب ہے ، سلام (میں پہل) کرنے والے پر 90 رَحمتیں اور جواب دینے والے پر 10 رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں ۔(الجامع الصغیر، ص۶۳، الحدیث ۷۸۴)
صِرْف سلام کرنے کے لئے بازار جایا کرتے
حضرت سیدنا طفیل بن ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں صبح کے وَقْت حضرتِ سَیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ماکے پاس جاتا تو وہ مجھے اپنے ساتھ بازار لے جاتے جہاں وہ معمولی چیزیں بیچنے والے ، دکانداراور مسکین یا کسی اورکے سامنے سے گزرتے توسب کو سلام کرتے۔ ایک دن جب انہوں نے مجھے بازار چلنے کو کہا تو میں نے پوچھا : آپ بازار جا کر کیا کریں گے ! آپ وہاں کھڑے ہوتے ہیں نہ سودے کے متعلق کچھ دریافت کرتے ہیں ، کسی چیز کا نرخ چُکاتے ہیں نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں ۔آپ یہیں بیٹھے بیٹھے ہمیں حدیثیں سُنادیا کریں ۔ انہوں نے فرمایا : ہم سلام کرنے کے لیے بازار جاتے ہیں کہ جو ملے گا، اسے سلام کریں گے۔ (المؤطا للإمام مالک، ج۲، ص۴۴۴۔۴۴۵حدیث : ۱۸۴۴)
امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ نیک بننے کے نسخے ’’مَدَنی اِنعامات‘‘ میں سے ایک مَدَنی اِنعام سلام کرنے کے بارے میں بھی ہے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 30صفحات پر مشتمل رسالے’’72 مَدَنی اِنعامات‘‘ کے صفحہ 4پر مَدَنی اِنعام نمبر6ہے : کیا آج آپ نے گھر ، دفتر ، بس ، ٹرین وغیرہ میں آتے جاتے اور گلیوں سے گزرتے ہوئے راہ میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو سلام کیا ؟
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اگرچہ سلام کی سنّت صِرْف ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم‘‘ کہنے سے ادا ہوجائے گی لیکن اگر اس کے ساتھ وَ رَحمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکاتُہٗ بڑھا لیا جائے تو زیادہ ثواب ہے ، چنانچہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم‘‘ کہنے سے 10 نیکیاں ملتی ہیں ۔ ساتھ میں وَ رَحمَۃُ اللّٰہ بھی کہیں گے تو 20نیکیاں ہو جائیں گی اور وَبَرَکاتُہٗشامل کریں گے تو 30 نیکیاں ہو جائیں گی۔ اِسی طرح جواب میں وَعَلَیکُمُ السَّلامُ وَ رَحمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکاتُہٗ کہہ کر 30 نیکیاں حاصِل کی جا سکتی ہیں ۔ ایک شخص نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضِر ہوکر عَرْض کی : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم۔‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سلام کا جواب اِرشاد فرمایا ۔پھر وہ شخص بیٹھ گیا تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’دس نیکیاں ہیں ۔‘‘پھر ایک دوسرا شخص حاضِر ہوا اور عَرْض کی : ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے بھی سلام کاجواب دیا ۔پھر وہ بیٹھ گیا تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع