30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَحَبَّتکی میں اُس سے کیوں مَحَبَّت نہ کروں !زاذان نے گانے باجے سے توبہ کر کے حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی صُحبت اِختیار کر لی اور قراٰنِ پاک کی تعلیم حاصل کی اورعُلومِ اسلامیّہ میں ایسا کمال حاصل کیا کہ بَہُت بڑے امام بن گئے۔(مرقاۃ المفاتیح ج۴ص۷۰۰تحتَ الحدیث ۲۱۹۹، غنیۃُ الطّالبین ج۱ص۲۶۳)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ ’’مَدَنی اِنعامات‘‘ میں سے ایک مَدَنی اِنعام توبہ کے بارے میں بھی ہے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 30صفحات پر مشتمل رسالے’’72 مَدَنی اِنعامات‘‘ کے صفحہ 6 پر مَدَنی اِنعام نمبر16 ہے : ’’ کیا آج آپ نے کم از کم ایک بار (بہتر یہ ہے کہ سونے سے قبل )صلوٰۃُ التوبہ پڑھ کر دن بھر کے بلکہ سابقہ ہونے والے تمام گناہوں سے توبہ کرلی ؟ نیز خدانخواستہ گناہ ہوجانے کی صورت میں فوراً توبہ کر کے آیندہ وہ گنا ہ نہ کرنے کا عہد کیا؟‘‘
مجھے سچّی توبہ کی توفیق دیدے
پئے تاجدارِ حرم یاالٰہی (وسائلِ بخشش ، ص۸۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اذان شعائر ِاسلام میں سے ہے اوراذان دینے کی بڑی فضیلت ہے، حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : مُؤذِّن کی آواز کی اِنتہا ء تک اس کی مَغْفِر ت کردی جاتی ہے ، اس کی آواز جوخشک و تَر چیز سنتی ہے اس کی تصدیق کرتی ہے اور اسے اپنے ساتھ نَماز پڑھنے والوں کی مِثْل ثواب ملتا ہے۔(سنن نسائی ، کتا ب الاذان ، با ب رفع الصو ت بالاذان ، ج۲، ص۱۳)
رَحمتِعالَم، نورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ معظّم ہے : میں جنّت میں گیا، اُس میں موتی کے گُنبددیکھے اُس کی خاک مُشک کی ہے۔پوچھا : اے جِبرئیل!یہ کس کے واسِطے ہیں ؟عَرْض کی : آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمّت کے مُؤَذِّنوں اوراِماموں کیلئے۔ (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۲۵۵حدیث۴۱۷۹)
آج کل اکثر مساجِد میں مؤذِّن مقرر ہوتے ہیں وہاں پر مؤذِّن سے اذان دینے کی اِجازت مانگ کر اسے آزمائش میں نہ ڈالاجائے اگر وہ خود پیش کش کرے تو جُدا بات ہے ، بہرحال جو اذان دے سکتا ہو اسے چاہئے کہ جب جب موقع ملے اس فضیلت کے حُصول میں کوتاہی نہ کرے مثلاًاگرکوئی شخص شہرکے اندر گھر میں نَمازپڑھے تووہاں کی مسجِدکی اَذا ن اس کیلئے کافی ہے مگراَذان کہہ لینامُستَحَب ہے۔ (رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۲، ۷۸) اسی طرح اگرکوئی شخص شہرکے باہَریاگاؤں ، باغ یاکھیت وغیرہ میں ہے اوروہ جگہ قریب ہے تو گاؤں یاشہرکی اذان کافی ہے پھربھی اذان کہہ لینابہترہے اورجوقریب نہ ہوتوکافی نہیں ۔ قریب کی حدیہ ہے کہ یہاں کی اذان کی آوازوہاں پہنچتی ہو۔(عالمگیری ج۱ص۵۴)
امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ نیک بننے کے نسخے ’’مَدَنی اِنعامات‘‘ میں سے ایک مَدَنی اِنعام اذان کے بارے میں بھی ہے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 30صفحات پر مشتمل رسالے ’’ 72مَدَنی اِنعامات‘‘ کے صفحہ 21 پر مَدَنی اِنعام نمبر64ہے : کیا آپ نے اذان اور اسکے بعد کی دُعا، قرآن شریف کی آخری دس سورتیں ، دُعائے قنوت ، اَلتَّحِیَّات ، دُرود ابراہیم علیہ السلام اور کوئی ایک دُعائے ماثُورہ یہ سب مَخارِج سے حُرُوف کی دُرُست ادائیگی کے ساتھ زَبانی یاد کرلئے ہیں ؟ نیز اس ماہ کی پہلی پیر شریف کو (یا رہ جانے کی صورت میں کسی اور دن) یہ سب پڑھ لئے ہیں ؟
(۱۲)اذان کا جواب دینا
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صفحات پر مشتمل رسالے ’’فیضانِ اذان ‘‘کے صفحہ 4پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں : مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایکبارفرمایا : اے عورَتو!جب تم بِلال کواذان واِقامت کہتے سنوتوجس طرح وہ کہتاہے تم بھی کہوکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے لئے ہرکَلِمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار دَرَجات بُلند فرمائے گا اورایک ہزارگناہ مٹائے گا۔خواتین نے یہ سُن کر عَرْض کی : یہ توعورَتوں کیلئے ہے مَردوں کیلئے کیاہے؟فرمایا : مردوں کیلئے دُگنا ۔
(تاریخ دِمشق لابنِ عَساکِر، ج۵۵، ص۷۵)
3کروڑ 24لاکھ نیکیاں کمائیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت پرقربان!اُس نے ہمارے لئے نیکیاں کمانا، اپنے دَرَجات بڑھوانااورگناہ بخشوا نا کس قَدَرآسان فرما دیاہے۔مگرافسوس! اتنی آسانیوں کے باوُجُودبھی ہم غفلت کاشِکاررہتے ہیں ۔پیش کردہ حدیثِ مبارَک میں جوابِ اذان کی جو فضلیت بیان ہوئی ہے اُس کی تفصیل مُلاحَظہ فرمائیے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع