دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

               تُو پیکرِ سنّت مجھے اللہ ! بنادے  (وسائلِ بخشش ، ص۱۰۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹عمامہ شریف باندھنا اور کھولنا

    مَردوں کو سر پر عمامہ شریف باندھنا سنّت ہے اور اس کے بہت سے طِبّی فوائد بھی ہیں لیکن بندھا بندھایا عمامہ شریف سر پر رکھ لینے اور اُتار کر رکھ دینے کے بجائے اگر باندھتے وَقْت سنّت کے مطابِق ایک ایک پیچ کر کے باندھا جائے اور اِسی طرح کھولا جائے تو بحُکْمِ احادیث ہر بار باندھتے ہوئے ہر پیچ پر ایک نیکی اور ایک نور ملے گااور ہر بار اُتارنے میں ایک ایک گناہ اُترے گا ۔

(ماخوذ از کنزالعمال ج۱۵، ص۱۳۲،  الحدیث ۴۱۱۲۶، ۴۱۱۳۸)

 اور بار بار ہوا لگنے کی وجہ سے اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ بد بُو بھی دُور ہوگی۔

لباس سُنّتوں سے ہو آراستہ اور

                    عِمامہ ہو سر پر سجا یاالٰہی    (وسائلِ بخشش ، ص۸۶)

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۱۰توبہ کرنا

         سچی توبہ ایسی آسان نیکی ہے جو ہر قسم کے گناہ کو انسان کے نامۂ اَعمال سے دھوڈالتی ہے، چنانچہ سَروَر ِ عالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا :  اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَــــہٗ یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس کے ذمّے کوئی گناہ نہ ہو۔(السنن الکبری للبیہقی ،  الحدیث  :  ۲۰۵۶۱، ج۱۰، ص۲۵۹)

جنت میں داخلہ

         توبہ کرنے والا خوش نصیب، گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ دیگر فضائل  مثلاً اِنعاماتِ جنت کابھی مستحق ہوجاتا ہے ، پارہ 28سورۂ تحریم کی آیت8میں ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ-عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ                             (پ۲۸، التحریم : ۸)

ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو! اللّٰہ کی طرف ایسی تو بہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے قریب ہے کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے اتاردے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہر یں بہیں ۔

توبہ کرنا مشکل کام نہیں ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !سچی توبہ کی صِرْف تین شرائط ہیں : (۱) گناہ کو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی نافرمانی سمجھ کر اس پر نادِم ہو (۲)اسے آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے اور(۳) اس گناہ کی تلافی کرے (مثلاً نمازیں قضا کی تھیں تو اب حساب لگا کر ادا کرے ، کسی مسلمان کو بلااِجازتِ شرعی اذیت دی تھی تو اس سے معافی مانگے اورکسی کا قَرْض دبا لیا تھا تو واپس کرے اور معافی بھی مانگے )(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ج۲۱ص۱۲۱)

        معلوم ہوا کہ سچی توبہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں بس نیت صاف ہونی چاہئے ، مگر ہماری بہت بڑی تعداد توبہ جیسی آسان نیکی میں سستی وغفلت کا شکار ہے حالانکہ اس میں گناہوں کی معافی اور جنت کی حقداری جیسے فوائد موجود ہیں ۔توبہ میں تاخیر کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ نفس وشیطان اس طرح انسان کا ذہن بناتے ہیں کہ ابھی تو بڑی عمر پڑی ہے بعدمیں توبہ کرلینا۔۔یا۔۔ ابھی تم جوان ہوبڑھاپے میں توبہ کر لینا۔۔ یا۔۔نوکری سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد توبہ کرلینا ۔ چنانچہ یہ ’’ نادان‘‘نفس وشیطان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے توبہ سے محروم رہتا ہے ۔ایسے اسلامی بھائی کو اس طرح غور کرنا چاہیے کہ جب موت کا آنا یقینی ہے اور مجھے اپنی موت کے آنے کا وَقت بھی معلوم نہیں تو توبہ جیسی سعادت کو کل پر مو قوف کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟ جس گناہ کو چھوڑنے پر آج میرا نَفْس تیار نہیں ہورہا کل اس کی عادت پختہ ہوجانے پر میں اس سے اپنادامن کس طرح بچاؤں گا؟اوراس بات کی بھی کیا ضمانت ہے کہ میں بڑھاپے میں پہنچ پاؤں گا یا نوکری سے ریٹائرڈ ہونے تک میں زندہ رہوں گا ؟ حدیثِ پاک میں ہے کہ’’ توبہ میں تاخیر کرنے سے بچو کیونکہ موت اچانک آجاتی ہے ۔‘‘ (الترغیب والترہیب ، کتاب التو بۃ والزھد ،  الحدیث ۱۸، ج۴، ص۴۸)

پھرموت تو کسی خاص عمر کی پابند نہیں ہے، بچہ ہو یا بوڑھا ، جوان ہو یا اُدھیڑ عمر یہ بلااِمتیاز سب کو زندگی کی رونقوں کے بیچ سے اٹھا کر قبر کے گڑھے میں پہنچا دیتی ہے، یہ وہ ہے کہ جب اِس کے آنے کاوَقت آجائے تو کوئی خوشی یا غم ، کوئی مصروفیت یا کسی قسم کے اَدھورے کام اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، ایک دن مجھے بھی موت آئے گی اور مجھے زیرِ زمین دَ فن ہونا پڑے گا ، اگر میں بغیر توبہ کے مر گیا تو مجھے کتنی حسرت وندامت کا سامنا کرنا پڑے گا ، ابھی مہلت میسّرہے لہٰذ امجھے فوراً توبہ کرلینی چاہئے ۔

 گلوکار کی توبہ

         حضرتِ سیِّدُناعبدُاللّٰہ ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک روزکُوفہ کے قریب کسی مَقام سے گزر رہے تھے، ایک گھر کے پاس زاذان نامی مشہور گَوَیّا (یعنی گلوکار) نِہایت ہی سُرِیلی آواز میں گا رہا تھا اور کچھ اَوباش لوگ شراب کے نَشے میں مَسْت گانے باجے کی دُھنوں پر جھوم رہے تھے۔ حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ ابنِ مسعو د رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  کتنی پیاری آواز ہے! اگر یہ آواز قِرائَ تِ قراٰ نِ کریم کیلئے اِستعمال ہوتی تو کچھ اور بات ہوتی! یہ فرما کر اپنی مبارَک چادر اُس گَوَیّے (SINGER) کے سر پر ڈالی اور تشریف لے گئے ۔ زاذان نے لوگوں سے پوچھا :  یہ کون صاحِب تھے؟ لوگوں نے بتایا :  مشہور صَحابی حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ پوچھا :  اُنہوں نے کیا فرمایا ؟ کہا :  فرمارہے تھے :  کتنی پیاری آواز ہے! اگر یہ آوازقِرا ئَ تِ قراٰنِ کریم کیلئے استِعمال ہوتی تو کچھ اور بات ہوتی! یہ سُن کر اُس پر رِقّت طاری ہو گئی، وہ اُٹھا اور اُٹھ کراُس نے اپنا باجا زور سے زمین پر دے مارا ، باجے کے پَرَخچے اُڑ گئے، پھر روتاہوا حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خد مت میں حاضِر ہوگیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُس کو گلے سے لگا لیا اور خود بھی رونے لگے ، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  جس نے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن