30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی کی رَحمتیں نازل ہوتی ہیں اور فِرِشتے اس کے لیے ( مغفرت کی)دُعا کرتے ہیں (14)دُرُود شریف اپنے پڑھنے والے کے لیے پاکیزگی اور طہارت کا باعث ہے (15)دُرُودشریف سے بندے کو موت سے پہلے جنّت کی خوشخبری مل جاتی ہے(16)دُرُودشریف پڑھنا قِیامت کے خطرات سے نَجات کا سبب ہے(17)دُرُودشریف پڑھنے سے بندے کو بھولی ہوئی بات یاد آجاتی ہے(18)دُرُودشریف مجلس کی پاکیزگی کا باعث ہے اورقِیامت کے دن یہ مجلس باعثِ حسرت نہیں ہوگی (19)دُرُودشریف پڑھنے سے فَقْردور ہوتا ہے (20)یہ عمل بندے کو جنَّت کے راستے پر ڈال دیتاہے (21)دُرُودشریف پل صِراط پربندے کی روشنی میں اِضافے کا باعث ہے (22)دُرُودشریف کے ذَرِیعے بندہ ظُلْم وجفا سے نکل جاتاہے (23) دُرُود شریف پڑھنے کی وجہ سے بندہ آسمان اور زمین میں قابلِ تعریف ہو جاتا ہے (24)دُرُودشریف پڑھنے والے کی ذات ، عمل ، عُمْراور بہتری کے اَسباب میں بَرَکت ہوتی ہے (25) دُرُود شریف رَحمتِ خداوَندی کے حُصُول کا ذَرِیعہ ہے (26)دُرُودشریف محبوبِ رَبُّ الْعِزَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دائمیمَحَبَّتاور اس میں زِیادت کا سبب ہے اوریہ (مَحَبَّت) ایمانی عُقُود میں سے ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا (27)دُرُود شریف پڑھنے والے سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مَحَبَّت فرماتے ہیں (28)دُرُود شریف پڑھنا ، بندے کی ہدایت اوراِس کی زندہ دلی کا سبب ہے کیونکہ جب وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھتا ہے اورآپ کا ذِکْر کرتاہے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّت اِس کے دل پر غالِب آجاتی ہے(29)دُرُود شریف پڑھنے والے کا یہ اِعزاز بھی ہے کہ سلطانِ اَنامصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ ِبے کس پناہ میں اس کا نام پیش کیا جاتاہے اوراس کا ذِکْر ہوتاہے (30) دُرُود شریف پُلْ صِراط پر ثابِت قَدَمی اور( سلامتی کے ساتھ) گزر جانے کا باعِث ہے۔ (جلاء الافہام ص۲۴۶تا۲۵۳ ملتقطًا )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دَم بَدم صَلِّ عَلٰی
حضرتِ سیِّدُنااُبَی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوی ہے کہ اُنہوں نے عَرْض کی : یارسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بَہُت زِیادہ دُرُود شریف پڑھا کرتا ہوں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بتادیجئے کہ کتنا حصَّہ دُرُود خوانی (خا۔نی) کے لیے مُقَرَّر کردوں ؟ تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : تم جس قدر چاہو مُقَرَّر کرلو۔ حضرتِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عَرْض کی : میں اپنے اَوراد ووَظائف کا چوتھائی حِصَّہ دُرُود خوانی (خا۔نی)کے لیے مُقَرَّر کرلوں ؟ تو سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : تم جس قدر چاہو مُقَرَّر کرلو، اگر تم چوتھائی سے زِیادہ حِصَّہ مُقَرَّر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ حضرتِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عَرْض کی : میں اپنے اوراد ووظائف کا نِصْف حِصَّہ دُرُود خوانی کے لیے مُقَرَّرکرلوں ؟ فرمایا : تم جس قدرچاہو مُقَرَّر کرلو اور اگر تم اِس سے بھی زِیادہ وَقْت مُقَرَّر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ حضرتِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا :
میں اپنے اوراد ووظائف کا دوتِہَائی مُقَرَّر کرلوں ؟ فرمایا : تم جتنا چاہو وَقْت مُقَرَّر کرلو اور اگر تم اِس سے زِیادہ وَقْت مُقَرَّر کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ توحضرتِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عَرْض کی : ’’میں اپنے اوراد ووظائف کا کُل حصّہ دُرُود خوانی ہی میں خرچ کروں گا۔‘‘ تورسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : اگر ایسا کرو گے تو دُرُود شریف تمہاری تمام فِکروں اور غموں کو دُور کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کے لیے کفَّارہ ہوجائے گا۔
(جامع الترمذی ج۴ کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ص۲۰۷ حدیث۲۴۶۵ملتقطا )
حدیثِ پاک کے اس حصے ’’میں کُل حِصَّہ دُرُود خوانی ہی میں خرچ کروں گا‘‘کے تحتمُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت مفتی اَحمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں : اِس کا مطلب یہ ہے کہ سارے وِرْد وظیفے دُعائیں چھوڑ دوں گا، سب کے بجائے دُرُود ہی پڑھوں گا کیونکہ اپنے لیے دُعائیں مانگنے سے بہتر یہ ہے کہ ہر وَقْت آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کو دُعائیں دیا کروں ۔’’ اگر ایسا کرو گے تو دُرُود شریف تمہاری تمام فِکروں اور غموں کو دور کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کے لیے کفَّارہ ہوجائے گا‘‘ یعنی اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری دِین و دُنیا دونوں سنبھل جائیں گی، دُنیا میں رَنج و غم دَفْع ہوں گے، آخِرت میں گناہوں کی مُعافی ہوگی۔ اِسی بِنا پر عُلَمَاء فرماتے ہیں کہ جو تمام دُعائیں وظیفے چھوڑ کر ہمیشہ کثرت سے دُرُود شریف پڑھا کرے تو اُسے بِغَیر مانگے سب کچھ ملے گا اور دِین و دُنیا کی مُشْکِلیں خود بخود حل ہوں گی۔ آگے چل کر فرماتے ہیں : شیخ عبدالحق ( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ )فرماتے ہیں کہ مجھے عبدالوَہَّاب متَّقی(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ) جب بھی مدینہ سے وَداع کرتے تو فرماتے کہ سفرِ حج میں فرائض کے بعد دُرُود سے بڑھ کر کوئی دُعا نہیں ۔ اپنے سارے اَوقات دُرُود میں گھیرو اور اپنے کو دُرُود کے رنگ میں رنگ لو۔ (مراٰۃ المناجیح ج۲ ص۱۰۳، ۱۰۴)
دُرُودِ پاک کا عاشق مَدَنی مُنَّا
حضرتِ سیِّدُناعلامہ عبد الوہَّاب شَعْرَانیقُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانی فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُناشیخ نورُ الدِّین شُوْنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِینے مجھے بتایا کہ میں بچپن میں شُوْنی (ایک شہر کا نام ہے) میں جانور چَرایا کرتا تھا۔ مجھے رسولِ پاک، صاحِبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود شریف پڑھنے سے اِس قدرمَحَبَّتتھی کہ میں اپنا کھانا بچوں کو دے کر اُن سے کہتا کہ یہ کھا لو پھرہم سب مل کر حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود شریف پڑھیں گے۔ چُنَانْچہ ہم دن کا اَکثر حِصَّہ رسول ِپاک، صاحِبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودِ پاک پڑھتے ہوئے گُزار دیتے۔
(الطبقات الکبری للشعرانی، جز۲ ، ص۲۳۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نمازوں اور سنّتوں کی عادت ڈالنے اور شوقِ دُرود بڑھانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دَم وابَستہ رہئے، سنّتوں کی تربیت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے اور کامیاب زندگی گزارنے اور آخِرت سنوارنے کیلئے مَدَنی اِنعامات کے مطابِق عمل کر کے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے مَدَنی اِنعامات کا رِسالہ پُر کیجئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع