30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مچائیں، بے حرمتی کریں، مسجد میں نہ آنے دئیے جائیں ۔ (ناسمجھ) بچوں کو مسجد میں تعلیمِ قرآن جائز نہیں کیونکہ مروی ہے کہ اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو ،یہ عدمِ جواز میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر مسجد(کی طہارت واحترام) کے سلسلہ میں ان پر بھروسا نہیں تو مطلقاً ناجائز ہے ورنہ بنیتِ اجر وثواب (تعلیمِ قرآن) جائز اور اجرت (تنخواہ) پر ناجائز ہے اس پر دلیل اس حدیث سے استدلال ہے کہ اس میں بچوں کے ذِکر کے ساتھ پاگلوں کا ذِکر ہے لہذا حدیث میں بچوں سے مراد وہ ہیں جو بے عقل ہوں یا ان پر آدابِ مسجد کے سلسلہ میں بھروسا نہ کیا جاسکتا ہو۔ کیونکہ جسے عقل نہیں وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔(1)
لہذا مسجد میں لگنے والے مدرسے کے قاری وامام صاحب بھی سمجھدار اور ناسمجھ بچوں کی کلاس الگ الگ بنائیں اور سمجھدار بچے دیگر شرائط پائی جانے کی صورت میں عینِ مسجد کے ہال میں جبکہ ناسمجھ بچے فنائے مسجد میں کسی کمرے میں پڑھائیں اور بچے وہیں نماز بھی سیکھیں اور پڑھیں، انتظامیہ پر بھی لازِم ہے کہ اس کا خاص خیال رکھیں اور اس معاملے میں غور کریں کہ جہاں بھی مسجد ہو وہاں کسی شخصیت سے مدرسے کے لیے الگ سے جگہ وقف کروائیں یا کوئی قریبی سرکاری ونیم سرکاری اسکول یا کو ئی عمارت کرائے پر لیں اور بچوں کو قرآنِ پاک ونماز سکھانے کا سلسلہ وہاں پر کریں تاکہ دربارِ اِلٰہی کی بے ادبی سے بچا جا سکے، اور والدیا سرپرست بھی گنہگار ہونے سے بچ سکیں۔
6.. مسجد وفنائے مسجد میں خرید وفروخت
جمعہ کے روز یا کسی اجتماع یا بڑی راتوں کی محفلوں میں عمومی طور پر گیٹ کے اندر ٹوپیاں،
(1)...فتاوی رضویہ، 16/458 تا 460
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع