دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aankhoon Se Ansoon Na Niklain To Kia Krain | آنکھوں سے آنسونہ نکلیں تو کیا کریں ؟

book_icon
آنکھوں سے آنسونہ نکلیں تو کیا کریں ؟

سىدھى بات ہے کہ اُس نے دھوکہ کىا اور ایسا شخص گُناہ گار ہوگا۔ ([1]) عافىت اِسى مىں ہے کہ جو بھی پُرزے وغیرہ نکلیں وہ  گاہَک کے سامنے رکھ دے ، اِسی طرح درزى بچا ہوا کپڑا گاہَک کے سامنے رکھ دے ، جو مُحتاط اور نىک بندہ ہوگاوہ ایسا کرلے گا۔ یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ آپ کسی تھیلی میں گاہَک کا بچا ہوا سامان اُس کے  حوالے کردیں کہ  ىہ آپ کا نکلا ہے ، کیونکہ کپڑے کے بعض ٹکڑے اىسے ہوتے ہىں جو کام کے ہوتے ہىں۔ اب اگر گاہَک کہے کہ ’’یہ کیا کچرا ررکھ دیا ہے ، مجھے نہیں چاہیے ، تم لے لو!‘‘ تو پھر آپ رکھ لیں ، ایسا کرنا بہت مفید ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اُسے اِس انداز سے چیز واپس نہیں کرنی جس سے وہ مُرَوَّتاً لینے سے منع کردے ، یا یُوں نہیں کہنا کہ ’’میں رکھ لوں؟‘‘ کیونکہ یہ سُوال ہوگا ، اِس لئے یہ طریقہ مُناسِب نہیں ہے۔ جس کو خوفِ خُدا ہوتا ہے اُس کے پاس کرنے کے بہت راستے ہوتے ہىں۔ خوفِ خدا راہ نُمائى کرتا ہے۔

کھوپرے کا خالص تیل (حکایت)

                             ایک دور ایسا تھا کہ ’’مىں کھوپرے کا تىل بوتلوں میں بھرکربىچتا تھا ، وہ تیل ایسے مُلک سے آتا تھا جہاں کھوپرا بکثرت ہوتا ہے ، وہ تیل Pure (خالص) اور Super quality (عُمدہ معیار) کا کہلاتا تھا۔ جس دُکاندار سے میں وہ تیل خریدتا تھا وہ باریش ،  عاشقِ رسول اور اچّھا آدَمی تھا ، اُس سےمیری دُعا سَلام اچّھی ہوگئی تھی۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ ’’کیا یہ تیل 100 فیصد خالص ہے؟ اِس میں بالکُل کچھ نہیں مِلا ہوا؟‘‘  تو اُس نے مجھے ایک تحریر دکھائی جو اُسی تیل کے ساتھ باہر سےآئی تھی ، اُس پر لکھا تھا کہ ’’اِس میں دو Percent (فیصد) Essence (عَرق) ڈالا گیا ہے تاکہ تیل کی quality (معیار) برقرار رہے۔ ‘‘ اِس کے بعد جب میں وہ تیل بیچتا تھا تو خریدنے والے کو بتادیتا تھا کہ ’’اِس میں اِتنا Essence ڈَلا ہوا ہے۔ ‘‘ مجھے ڈر لگتا تھا کہ کہیں خالص بول کر پھنس نہ جاؤں ، کیونکہ وہ 100 فیصد خالص نہیں تھا۔ ‘‘ اگر آپ بھی اِس طرح گاہَک کو بتادیں گے تو وہ چىز چھوڑے گا  نہىں ، بلکہ  اىک لىنى ہوگى تو دو لے کر جائے گا اور اُس کا دِل آجائے گا کہ ’’ىار! اِس کا کاروبار کتنا کھرا ہے کہ اِس طرح بول رہا ہے۔ ‘‘ لوگ سمجھتے ہىں کہ سچ بتانے سے گاہَک ٹُوٹ جائىں گے یا سچّائى کا زَمانہ نہىں ہے ، حالانکہ ىہ اُن کى بھول ہے ، سچّائى کا زمانہ کل بھى تھا ،  آج بھى ہے اور آئندہ


 

 



[1]   إحیاء العلوم ،  کتاب ذم الجاہ والریاء ،  بیان حقیقة الریاء وما یراءی به ،  ۳ / ۳۶۹۔ احیاء العلوم(مترجم) ، ۳ / ۸۸۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن