30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب: چورى کرنا حَرام اور جہنّم مىں لے جانے والا کام ہے۔ ([1]) جو چور توبہ کرلے اُس کے لئے بھى ضرورى ہے کہ وہ چورى کا مال واپس لوٹائے ، ([2])جس کا مال تھا وہ اگر معاف کرتا ہے تو معاف ہوجائے گا۔ اگر چور نے اصل مالِک تک مال نہیں پہنچایا ، ىہاں تک کہ مالِک فوت ہوگىا تو وہ مال مالِک کے وارِثوں کو دىنا پڑے گا۔ ([3]) اگر اصل مالِک غائب ہوگىا یا یہ نہیں معلوم کہ کس کا مال چُرایا تھا تو اب وہ مال کسى شرعى فقىر کو اصل مالک کی طرف سے خىرات مىں دینا ہوگا تاکہ اُسے اِس خیرات کا ثواب پہنچے۔ ([4]) اگر کوئی سوچے کہ ’’ىار! یہ تو بہت مشکل ہے ، بہت کچھ چُرایا ، سب کھا پی گئے ، اب سب کچھ واپس کیسے کروں گا؟‘‘ تو یاد رکھئے کہ سب سے پہلے اللہ پاک کى بارگاہ مىں سچّى توبہ کیجئے اور یہ ذِہن بنائیے کہ جب مال آىا تو خىرات کردوں گا۔ اللہ پاک مَدَدگار اور مُسَبِّبُ الْاَسْبَا ب ہے۔ یہ بھی عہد کریں کہ آئندہ چوری نہىں کروں گا ، ورنہ اگر آئندہ بھی چوری جارى رکھى تو بوجھ بڑھتا جائے گا۔ ىہ نىّت کرلىں کہ جتنا مىرے پاس آئے گا مىں اُس کو اَدا کرتا رہوں گا۔
گاہَک کی بچی ہوئی چیز اُسے واپس کردینی چاہیے
سُوال: جب گاڑى دُکاندار کو ٹھىک کرنے کے لئے دىتے ہىں تو اُس مىں جو پُرانا سامان بچ جاتا ہےوہ رکھ لىنا کىسا؟ اِسی طرح کپڑے کے جو Pieces (ٹکڑے) بچ جاتے ہىں درزی وہ رکھ لىتے ہىں ، اىسا کرنا کىسا؟ (رحیم یار خان سے سُوال)
جواب: اىسے موقَع پر عُرف دىکھا جاتا ہے کہ کپڑے کے وہ Pieces جو گاہک نہىں لىتا یا وہ پھىنکنے کے ہوتے ہىں ، اِسی طرح گاڑى ٹھیک کرنے کے بعد جو چیزیں نکلتی ہیں اُن کے بارےمیں اگر گاہَک کو بولا جائے تب بھی وہ نہ لے اور پھینکنے کا بولے تو ایسی چیزیں رکّھی جاسکتی ہیں۔ البتہ کوئی مشین ٹھیک کرنے کے بعد جو مشىن کے پُرزے جیسے لوہے کے نَٹ وغىرہ نکلتے ہیں وہ ایسے ہی نہیں رکّھے جاسکتے ، کیونکہ وہ وَزْن میں بکتے ہیں۔ اگر کسی نے جان بُوجھ کر کوئى چىز نِکالی اور رکھ لی تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع