30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیکن جب مصىبت کا دور آتا ہے تو اُسے اللہ ىاد آجاتا ہے ، ىُوں مصىبت بہت سے لوگوں کے حق مىں نعمت ثابِت ہوتى ہے اور اُن کی زِندَگی میں Turning Point (اِنقِلابی موقع) آجا تا ہے ، پھر وہ اللہ پاک کى بارگاہ مىں جُھک جاتے ہیں کہ میرا رب مىرى مصىبت دُور کردے گا۔
کیا سِتاروں کا قسمت پر کوئی اَثَر ہوتا ہے؟
سُوال: کىا سِتاروں کا قسمت پر کوئی اَثَر ہوتا ہے؟ (مُفتی صاحب کا سُوال)
جواب: جى نہىں! اىسا سوچنا بھى نہىں چاہىے۔ ([1]) ىہ جو Palmist (دَست شَناس) وغیرہ ہوتے ہیں اِن کے دھندے میں کبھى مت پڑنا! پىسے بھى جائىں گے اور آپ تَوَہُّمات کا شِکار بھی ہوجائىں گے۔ بس یہ ذِہن بنالیں کہ جو رب چاہے گا وہی ہوگا۔
صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم کی ایک سُنّت
سُوال: کیا بلندى پر چڑھتے ہوئے ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہنا اور اُتَرتے وقت ’’سُبْحٰنَ اللہ‘‘ کہنا سُنّت ہے؟ (SMSکے ذریعے سُوال)
جواب: یہ ایک صحابى (حضرتِ سیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ) کا قول ہے کہ ’’ہم سَفَر کے دوران جب چڑھائى چڑھتے تو اَللہُ اَکْبَر کہتے تھے اور جب ڈھلان پر اُترتے تو سُبْحٰنَ اللہ پڑھتے تھے۔ ([2]) یُوں یہ سُنّتِ صحابہ بنتى ہے۔
[1] مسلم ، کتاب الطبّ ، باب تحریم الکھّانة وإتیان الکھّان ، ص۹۴۴ ، حدیث : ۵۸۱۹۔ اعلیٰ حضرت اِمام اَحمد رَضاخان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے سُوال کیا گیا کہ کواکبِ فلکی (یعنی آسمانی ستاروں)کے اثراتِ سعد و نَحْس (یعنی اچھے اور منحوس اثرات)پر عقیدت(یعنی بھروسا) رکھنا کیساہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جواب دیا : مسلمان مُطِیع (یعنی اطاعت گزار مسلمان)پر کوئی چیز نَحْس(یعنی منحوس) نہیں اور کافروں کے لئے کچھ سَعد (یعنی اچھا)نہیں ، اور مسلمان عاصی(یعنی نافرمانی کرنے والے مسلمان) کے لئے اس کا اسلام سَعد (یعنی نیک بختی)ہے۔ طاعت(یعنی عبادت) بشرطِ قبول سعد(یعنی نیک بختی) ہے۔ مَعْصِیت (یعنی گناہ گاری)بجائے خود نَحْس(یعنی منحوس)ہے اگر رحمت و شفاعت اس کی نُحوست سے بچالیں بلکہ نُحوست کو سعادت کردیں ، ’’ فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ- ‘‘(پ۱۹ ، الفرقان : ۷۰) (ترجمۂ کنزالایمان : تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا ) بلکہ کبھی گناہ یُوں سعادت ہوجاتا ہے کہ بندہ اُس پر خائف وترساں وتائب وکوشاں رہتاہے ، وہ دُھل گیا اور بہت سی حَسَنات(یعنی نیکیاں) مِل گئیں ، باقی کواکب میں کوئی سعادت ونُحوست نہیں اگر ان کو خود مُؤَثِر (یعنی اثر کرنے والا)جانے شِرک ہے اور ان سے مدد مانگے تو حرام ہے ، ورنہ ان کی رعایت ضَرورخلافِ توکُّل ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۲۲۳)
[2] بخاری ، کتاب الجهاد والسیر ، باب التکبیر إذا عَلا شرفاً ، ۲ / ۳۰۷ ، حدیث : ۲۹۹۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع