30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھ دیتے ہیں۔ اپنا تعارُف کروانے میں بھی کہہ دیتے ہیں کہ ’’میرا نام مُفتی So and So (یہ اور یہ)ہے۔ ‘‘ پہلے میں کسی کو مُفتی بولنےسے ڈرتا تھا کہ اگر اُنہوں نے عاجزی کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ’’میں مُفتی نہیں ہوں‘‘ تو کیا ہوگا! لیکن اب تو اپنے مُنہ سے بولنے میں کوئی آسرا نہیں کرتا ، اِس لئے میں بھی بول دیتا ہوں۔ بس عجیب دور آگیا ہے۔ بہرحال! ضرورتاً خُود کو مُفتی کہنے میں کوئی حَرَج نہیں ہے ، تاکہ لوگ اُس سے رُجوع کرىں اور فتوىٰ درىافت کرىں۔ اِسی طرح کسى نے اپنا عالِم ہونا اِس لئے ظاہِر کىا ہو تاکہ لوگ اُس سے علم حاصل کرىں اور مسائل پوچھیں تو ٹھیک ہے۔ مُعاملہ نىّت کا ہے۔ اگر اِس لئے ظاہِر کىا تاکہ لوگ عزّت کرىں ، واہ واہ کرىں ، دست بوسى کرىں اور نذرانے ملیں تو بندہ پھنس گیا ، ىہ خطرناک صُورَت ہے۔
امیرِ اَہلِ سُنّت سے مُلاقات کا آسان راستہ
سُوال: کیا آپ سے مُلاقات کا کوئی آسان راستہ ہے؟ (YouTube کے ذریعے سُوال)
جواب: آسا ن راستہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ پتا نہىں کون سے شہر مىں ہىں اور مىں بولوں کہ ’’مىں کل آپ سے ملنے کو تىار ہوں اور آپ کا اِنتِظار کروں گا‘‘ تو ىہ آسان نہىں ہوگا۔ آپ 2000 کلومىٹر دور ہوئے تو Flight (پرواز) لىنى پڑے گى اور خرچہ بھی ہوجائے گا۔ پہلے سُنتے تھے کہ ’’ایک اَنار 100 بیمار‘‘ اب تو یہ بہت پُرانی کہاوت ہوگئی۔ اب تو مجھ سے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ مُلاقات کرنا چاہتے ہیں ، اللہ پاک نے لوگوں کے دِلوں میں محبّت ڈالى ہے ، بس یہ اُسى کا کَرَم ہے ، اللہ کرىم زَوالِ نعمت سے بچائے۔ بہرحال! اب مىں ہر کسى سے مِل نہىں سکتا ، یہ مىرے بس کا روگ نہىں ہے ، نہ ہی مىں کراچی میں باہر نکل سکتا ہوں ، باہر مُلک جاتا ہوں تو وہاں ہر فرد مجھے تھوڑى جانتا ہے۔ اِس لئے اب ہم تنظیمی طور پر مختلف مَدَنى پىکیجز (Packages) کا اِعلان کرتے ہیں کہ مثلاً جسے ہر ماہ تین دن کے مَدَنی قافلے میں سَفَر کرتے ہوئے پُورا سال ہوگىا ہو یا جس نے 12 ماہ کے مَدَنى قافلے مىں سَفَر کىا ہو تو وہ ٹوکن لے لے اور جب مُلاقات کا سلسلہ ہو تب مُلاقات کرلے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع