30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب: ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عُمرے پر جارہے تھے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اُن کو کچھ اِس طرح فرماىا : ’’بھائى! ہمىں بھى اپنى دُعاؤں مىں ىاد رکھنا۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِس جُملے پر فخر فرمایا کرتے تھے۔ ىہ حدىثِ پاک ہے۔ ([1]) مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’فضائلِ دُعا‘‘ میں ایسی بھی ایک رِواىت ہے کہ اللہ پاک نے حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرماىا : ’’اُس مُنہ سے دُعا مانگو جس سے تُم نے گُناہ نہ کىا ہو۔ ‘‘ ([2]) ىہ ہمارے درس کے لئے ہے ، ورنہ حضرتِ سَیِّدُنا موسىٰ عَلَیْہِ السَّلَام تو اللہ کے نبی اور معصوم ہىں ، آپ اپنے مُنہ سے گُناہ کر ہی نہیں سکتے۔ زَبان سے کئی گناہ ہوتے ہیں ، جیسے نَعُوْذُ بِاللہ گالى دىنا ، یہ اِنسان اپنى زبان سے دیتا ہے ، اِسی طرح غىبت بھی زَبان سے ہی کرتا ہے۔ بہرحال! اِس میں دوسروں سے دُعا کروانے کى ترغىب ہے کہ دوسرے کى دُعا ہمارے حق مىں قُبول ہوتی ہے ، اِس لئے دوسروں کو دُعا کے لئے کہتے رہنا چاہیے۔ ہم صرف اُسی کو دُعا کا کہتے ہىں جس کے نیک ہونے کی شہرت ہوتى ہے ، اِس میں بھی کوئی حَرَج نہىں ہے ، لىکن ہم عام لوگوں کو دُعا کا نہىں کہتے۔ حضرتِ سَیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مدىنے پاک کے بچّوں سے فرماتے تھے کہ بچّو! دُعا کرو کہ عُمر بخشا جائے۔([3])
حاضریٔ مدینہ کے لئے دُرُود کی کثرت
سُوال: کىا مدىنے شریف کى حاضرى کا کوئى وظىفہ ہے؟ (سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)
جواب: دُرُود شرىف کى کثرت کرتے رہیں اور دُعا مانگتے رہیں۔ ’’اَلدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤمِنِ‘‘ یعنی دُعا مؤمن کا ہتھىار ہے۔ ([4])
ہر دَرد کى دَوا ہے صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ
تعوىذِ ہر بَلا ہے صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ
[1] ابو داؤد ، کتاب الوتر ، باب الدعاء ، ۲ / ۱۱۴ ، حدیث : ۱۴۹۷ مفھوماً۔
[2] منقول ہے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خطاب ہوا : اے موسیٰ! مجھ سے اس مُنہ کے ساتھ دُعا مانگ جس سے تو نے گناہ نہ کیا۔ عرض کی الٰہی! وہ مُنہ کہاں سے لاؤں؟ (یہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تواضع ہے ورنہ وہ یقیناً ہر گناہ سے معصوم ہیں)فرمایا : اوروں سے دُعا کرا ، کہ ان کے مُنہ سے تو نے گناہ نہ کیا۔ (فضائل دعا ، ص۱۱۱)
[3] فضائل دعا ، ص۱۱۲۔
[4] مسند أبی یعلٰی ، مسند جابر بن عبد الله ، ۲ / ۲۰۱ ، حدیث : ۱۸۰۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع