30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : کىا قىامت کے دِن ہم اىک دوسرے کو پہچانىں گے ؟(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب : اگر قیامت کے دِن ایک دوسرے کو پہچانیں گے نہىں تو دوسرے سے اپنے حقوق کىسے طلب کرىں گے کہ فُلاں نے مىرا حق مارا تھا ؟یُوں ہی اگر پہچانیں گے نہیں تو شفاعت کرنے والے شفاعت کىسے کرىں گے ؟یہ اِس بات پر واضح قرىنے ہیں کہ قیامت میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے ۔
نِدا دے گا مُنادى حشر مىں ىوں قادرىوں کو
کہاں ہىں قادرى کر لىں نظارہ غوثِ اعظم کا (قبالهٔ بخشش)
نقشِ نعل پاک کی فوٹو کھینچ کر پاس رکھنا
سُوال : مَدَنی چینل پر نبىٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نعلِ پاک کو جب دِکھاىا گیا تھا تو مىں نے اپنے موبائل سے اس کی تصویر اُتار لى تھی ۔ اب میں اِس تصویر کو بار بار دیکھتا ہوں اور دُرُود شرىف پڑھتا رہتا ہوں ، کىا ایسا کرنا جائز ہے ؟
جواب : نقشِ نعلِ پاک کی زیارت کرنا اور دُرُود شریف پڑھنا ظاہر ہے کہ بہت عُمدہ کام ہے ۔ ہمارے (رُکنِ شُوریٰ) حاجى امىن نے بھى پروفائل پکچر پر نقشِ نعل پاک لگا رکھا ہے ۔ ىہ تو مَاشَآءَاللّٰہعشق اور عقىدت کى بات ہے اور بڑے ثواب کا کام ہے ، اللہ پاک قبول فرمائے ۔
مجبوری میں نماز توڑنے کا کفارہ
سُوال : اگر کوئى مجبورى مىں نماز توڑ بىٹھے توا س پر کیا کفارہ ہے ؟
جواب : بغىر مجبورى کے نماز توڑنا جائز نہىں ہے اور اگر مجبوری میں نماز توڑی تو اس پر کوئی کفارہ نہىں لیکن اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہو جائے گا، چاہے نفل نماز ہویا فرض ۔ ([1]) مجبوری میں نماز توڑنے کى مختلف صورتىں ہىں : بعض اوقات نماز توڑنے کى اِجازت ہوتى ہے اور بعض اوقات نہىں ہوتى اور بسااوقات نماز توڑنا لازم ہوجاتا ہے ، اگر کوئی نہىں توڑے گا تو گناہگار ہوگا مثلاً اگر کوئی کنوئىں کے قرىب نماز پڑھ رہا ہے اور وہاں سے ایک نابىنا گزر رہا ہے ۔ اگر نابینا کو روکا نہ جائے تو وہ کنوئىں مىں گر جائے گا، اب اگر یہ نمازی اسے بچانے کی قدرت رکھتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اپنى نماز توڑ دے اور اس نابىنا کو بچالے ، اگر نہیں بچائے گا تو گناہ گار ہوگا ۔ ([2])
دَورانِ نماز بچے کو چوٹ لگ جائے تو؟
سُوال : نماز کے دَوران بچے کو چوٹ لگ جائے یا بچہ آگ کے قریب چلا جائے تو نماز توڑ کر بچے کو پکڑ سکتے ہیں؟نیز نماز پڑھتے وقت بچہ جائے نماز پر نجاست لگادے تو کیا نماز ٹوٹ جائے گی؟اور نماز کے دَوران دَروازہ بجنے لگے تو نماز مکمل کریں یا نماز توڑ کر دَورازہ کھولیں؟ (ایک اسلامی بہن کے سُوالات)
جواب : بچہ آگ میں گرنے لگا ہے اور نمازی بچانے پر قادر ہے تو نماز توڑ کر اس کو بچانا واجب ہو گا ۔ نیز بچہ زخمی ہو کر تڑپ رہا ہے اس کا خون بھی بہت بہہ رہا ہے تو اپنی نماز توڑ کر بچے کو بچا لے ۔ ([3])بچہ اگر جائے نماز پر نجاست لگا دے تو دیکھا جائے گا کہ کتنی نجاست لگی ہے اور کہاں لگی ہے اسی اعتبار سے حکم ہو گا ۔ ([4]) دَورانِ نماز دَروازے پر کوئی آجائے تو اِس میں غور کر لیا جائے کہ کیا صورتِ حال ہے ؟بعض لوگ جلد باز ہوتے ہیں جو بار بار دَروازہ یا گھنٹی بجاتے رہتے ہیں ان کے لیے نماز توڑ کر دَروازہ کھولنے کی اِجازت نہیں ہے ۔
اسٹیٹس پر لگائی جانے والی مختلف اَشیاء
سُوال : اسٹیٹس پر کھانے پینے وغیرہ مختلف اَشیاء کی تَصاویر لگانا کیسا ہے ؟
جواب : اِس مُعاملے میں ہر ایک کا اپنا اپنا ذہن ہوتا ہے مثلاً بعض لوگ اپنى خوبصورت تصاوىر لگاتے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہوتے ہىں کہ ہم بہت اچھے لگتے ہیں حالانکہ دىکھنے والے کو ہر فَرد کا ہر اِسٹائل اچھا لگے یہ ضَروری نہیں مگر پھر بھی لگا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض تو مَعَاذَ اللّٰہ فلمی ایکٹرز کى تَصاوىر بھی لگاتے ہوں گے کہ یہ بھی ایک Trend(یعنی رُجحان) چل پڑا ہے ۔ پروفائل پکچر Actually (دَرحقیقت) بندے کى ذہنىت کا تعارف ہوتی ہے ۔ کچھ لوگ بڑے خوبصورت اىکشن مىں اپنی تصاوىر بنواتے ہیں اور پھر اُسے اپنے اسٹیٹس پر لگاتے ہیں ۔ یُوں ہی بعض لوگ اسٹیٹس پر اپنی ایسی تصویر لگاتے ہیں کہ جس میں اُنہوں نے دُعا کى طرح ہاتھ اُٹھائے ہوتے ہیں
[1] درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، ۲ / ۵۷۴-۵۷۵ دارا لمعرفة بیروت
[2] درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ۲ / ۵۱۴
[3] ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما یکرہ فیھا، ۲ / ۵۱۴ ماخوذاً دار المعرفة بیروت
[4] صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جائے نماز یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کی طہارت سے متعلق فرماتے ہیں : جس جگہ نماز پڑھے ، اس کے طاہر(یعنی پاک) ہونے سے مراد موضعِ سجود و قدم کا پاک ہوناہے (یعنی سجدہ کرنے اور پاؤں رکھنے کی جگہ کا پاک ہونا ہے ۔ ) جس چیز پر نماز پڑھتا ہو اس کے سب حصہ کا پاک ہونا شرطِ صحتِ نماز نہیں ۔ مزید فرماتے ہیں : اگر نجاست قدرِ مانع سے کم ہے (یعنی نجاست غلیظہ درہم سے کم ہے اور خفیفہ کپڑے یا بدن کے اس حصہ کی چوتھائی سے کم ہے ) جب بھی مکروہ ہے ، پھر نجاستِ غلیظہ بقدرِ درہم ہے تو مکروہِ تحریمی اور اس سے کم تو خلافِ سنت ۔ (بہار شریعت، ۱ / ۴۷۷، حصہ : ۳ ملتقطاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع