30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بڑا اَمیر و کبیر ہوں شہِ دوسرا کا اَسیر ہوں
دَرِ مُصطَفٰے کا فقیر ہوں میرا رِفعتوں پہ نصیب ہے
امیر و کبیر کا مطلب بڑا مالدار، اَسیر کا مطلب قیدی اور رِفعتوں کا مطلب ہے بلندیاں، تو شِعر کا معنیٰ یہ ہوا کہ میرا نصیب بلندیوں پر ہے کیونکہ میں دونوں جہاں کے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا قیدی ہوں، ان کی محبت میں گرفتار ہوں اور ان کے دَر کا فقیر یعنی بھکاری ہوں ۔
دو عالَم میں بٹتا ہے صَدقہ یہاں کا
ہمیں اک نہیں ریزہ خارِ مدینہ
یعنی ہم جو مدینے کے ٹکڑوں پر پَل رہے ہیں اس میں ہم اکیلے نہیں ہیں بلکہ ہمارے ساتھ دونوں جہاں کی مخلوق ہے جو مدینے کے ٹکڑوں پر پَل رہی ہے ۔ ہم سب بلکہ ہر عاشقِ رسول فقیر المدینہ ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اسی پر قائم رکھے کہ ہم مُصطَفٰے کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ٹکڑوں سے دُور نہ ہوں ۔
تىرے ٹکڑوں سے پلے غىر کى ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکىاں کھائىں کہاں چھوڑ کے صَدقہ تىرا (حَدائِقِ بخشش)
سُوال : اِس شعر کی تشریح فرما دیجیے :
سائلو! دامن سخى کا تھام لو
کچھ نہ کچھ اِنعام ہو ہى جائے گا
جواب :
لُطف ان کا عام ہو ہی جائے گا شاد ہر ناکام ہو ہى جائے گا
سائلو! دامن سخى کا تھام لو کچھ نہ کچھ اِنعام ہو ہى جائے گا
مُفلسو! ان کی گلی میں جا پڑو باغِ خُلد اِکرام ہو ہی جائے گا
(حدائقِ بخشش)
یعنیپیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کی عطا سے جنَّت کے مالِک ہیں ۔ اے سائِلو! اے بھکاریو!مانگنا ہے تو مانگ لو اور بھر پور مانگ لو اس سخی یعنی پیارے مصطفے ٰ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا دامنِ کرم تھام لو، ان کے دامن سے لپٹ جاؤ ، اگر انہوں نے خوش ہوکر کرم فرما دیا تو تمہیں جنَّت عطا ہوجائے گی ۔
ہر بات پر ”لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ“ کہنا کیسا؟
سُوال : ہر اچھی اور بُری بات پر”لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ“ کہنا کیسا؟(بابُ المدینہ کراچی سے سُوال)
جواب : لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ کے ساتھ اِلَّا بِاللہ کے اَلفاظ بھی کہنے چاہئیں، یعنی لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ ۔ اچھی بُری بات پر یہ پڑھنے میں حَرج تو نہیں ہے لیکن موقع محل کے مُطابق پڑھنا چاہیے ۔ ہمارے عُرف میں یہ اس وقت پڑھتے ہیں جب کوئی ناپسندیدہ بات ہوتی ہے ۔ اب اگر کوئی مسکراتے ہوئے خوشخبری دے کہ میرے یہاں بیٹے کی وِلادت ہوئی ہے اور سامنے والا”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ “پڑھ دے تو اسے یہ بات سمجھ نہیں آئے گی اور وہ اس کا گریبان پکڑ لے گا کہ بھائی تجھے کیا تکلیف ہے ۔ لہٰذا عُرف اور موقع محل کے مُطابق ہی یہ پڑھا جائے یعنی کسی ایسے مقام پر پڑھا جائے جہاں کوئی تکلیف دہ بات ہو یا کسی چیز سے پناہ مانگنی ہو ۔
سُوال : نماز میں چھینک کو کیسے روکا جائے ؟
جواب : چھینک کی آواز کو روکنا مشکل ہے البتہ اس کی آواز پَست یعنی ہلکی کرنے کی کوشش کی جائے ۔ تیز آواز سے زور دار چھینک مارنے کو بہارِ شریعت میں حماقت لکھا ہے ۔ ([1]) نماز میں یا عِلاوہ نماز تیز آواز سے چھینک مارنا دونوں صورتوں میں ہی حَماقت ہے ۔ بعض لوگ اتنی زور سے چھینک مارتے ہیں کہ آس پاس کے لوگ ڈرجائیں اور یہ خود ان کے لیے بھی طبعی طور پر نقصان دہ ہے کیونکہ اس طرح پورے جسم کے اَعضا ہِل جاتے ہیں ۔
تین بار کہنے کے باوجود کوئی کھانا نہ کھائے تو کیا یہ کفر ہے ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع