30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : ضرور مبتدع و گمراہ ہیں ۔
سوال نمبر ۱۸ :حنفیوں کی نماز شافعی المذہب کے پیچھے جائز ہے یانہیں ؟
جواب :اس میں بہت اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ شافعی نے اگر فرائض و شرائط حنفی کی رعایت نہ کی تواسکے پیچھے حنفی کی نمازجائز نہیں ،دیکھو ’’بحرالرائق‘‘اور ’’ردالمحتار‘‘([1]) وغیرہ، اور ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ وغیر ہ میں یہ بھی قید لگائی کہ وہ حنفی کے ساتھ تعصب([2])نہ رکھتاہو ، ور نہ اس کے پیچھے نماز منع ہے([3])۔
سوال نمبر ۱۹ :حنفیوں کی نماز، غیر مقلّدین کے پیچھے جائز ہے کہ نہیں ؟
جواب : جائز نہیں ہے اس لئے کہ غیر مقلّدین اہل ہوا ([4])سے ہیں جس کابیان ابھی گزرا، اور اہل ہوا کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے ۔’’ فتح القدیر شرح ہدایہ‘‘ میں ہےکہ امام محمد،امام ابوحنیفہ او ر امام ابو یوسف سے روایت فرماتے ہیں کہ اہل ہوا کے پیچھے نمازناجائز ہے([5])اور ان کے مذہبی مسئلے اس قدر مخالف ہیں کہ ہمارے مذہب میں نہ ان کی طہارت ٹھیک ہوتی ہے اور نہ نماز، کہ یہ مردار اور سور کی چربی تک کو ناپاک نہیں جانتے ہیں اور کٹورے بھر پانی میں چھ ماشہ پیشاب پڑجائے تو اسے پاک سمجھتے ہیں ۔ ان کامذہب یہ ہے کہ جب تک اتنی نجاست نہ پڑے کہ پانی کا رنگ ، مزہ ، بوبد ل جائے اس وقت تک پانی پاک رہے گا۔ دیکھو غیر مقلّدین کی کتاب ’’فتح المغیث‘‘ صفحہ ۵ اور’’ طریقہ محمد یہ‘‘ صفحہ ۶،۷۔
سوال نمبر ۲۰ :کیا حرمین شریفین میں چاروں مذہب کے اہلسنّت و جماعت غیر مقلّدوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ؟
جواب :یہ محض غلط ہے ۔
سوال نمبر ۲۱:مولوی نذیرحسین پیشوائے غیر مقلّدین جب مکہ معظمہ گئے تھے حاکم مکہ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا ؟
جواب :نذیر حسین دہلوی ذوالحجہ ۱۳۰۰ ھ میں مکہ معظمہ گئے،وہاں مخبری ہوئی کہ یہ اور ان کا ایک ساتھی سلیمان جونا گڑھی غیر مقلّد ہیں اور مسجدالحرام میں غیر مقلّدین کے مسائل بیان کرتے ہیں ،اس پر دوڑآئی یہ دونوں غیرمقلّد اور ان کے ساتھی گرفتار ہوئے،تین دن حوالات میں رہے پھر دولتِ عثمان نوری پاشا، گورنر ملکِ حجاز کے حضور ان کی پیشی ہوئی وہاں انہوں نے توبہ کی اور حنفی حاکم نے ان سے توبہ نامہ لکھوالیا، اس وقت رہائی ہوئی۔یہ خبر میں نے معتبر علماء سے سنی جو اس واقعہ میں موجود تھے۔پھر مکہ معظمہ کے چھپے ہوئے اشتہار دیکھے جووہاں کے مطبع میری میں چھپے تھے،وہ اشتہار پیش کرتا ہوں ۔ پھردوسرا اشتہار مع ترجمہ وہیں مکہ معظمہ میں چھپاوہ بھی پیش کرتا ہوں اور اسکے سوا ۱۲۹۵ ھ میں کہ مُظْہِرْ([6])حج کو گیا تھا،قافلہ کی داخلی کعبہ معظمہ میں تھی، کعبہ معظمہ کادروازہ بہت بلند ہے، خادم اوپر بیٹھے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر داخلی کے لئے کھینچ رہے تھے، ایک مغل کی وضع پر افسر کوبدمذہبی کا شبہ ہوا، جب وہ داخلی کے لئے گیا خادم نے دھمکادیا،اس کے ساتھ کا ایک غیرمقلّد وہابی سفارش کوبڑھا، اَفسر کے حکم سے اس وہابی کے سر پر خادم نے اس زور سے چپت لگائی کہ تمام مسجد میں آواز پہنچی ہوگی،یہ میری آنکھ کا دیکھا ہوا ہے،یہ لوگ جب جاتے ہیں اپنا مذہب چھپاتے رہتے ہیں ورنہ سزاپاتے ہیں ۔
سوال نمبر ۲۲:غیر مقلّدین کے بارے میں ’’فتاوی الحرمین‘‘ آپ کے پاس ہیں ؟
جواب :اصل دوفتوے پیش کرتا ہوں ،نیز ایک کتاب مطبوعہ بمبئی پیش کرتا ہوں ۔
سوال نمبر ۲۳:آپ تصدیق کرتے ہیں کہ یہ مہریں وہیں کے علماء کی ہیں ؟
جواب :میں تصدیق کرتا ہوں کہ جو مہریں ان فتووں میں ہیں ، وہ وہیں کی ہیں ۔
سوال نمبر ۲۴:کیونکراور کس وجہ سے آپ تصدیق کرتے ہیں ؟
جواب :مُظْہِرْ نے یہ بڑا فتوٰی مکہ معظمہ بھیجا تھا اور یہ دوسرا فتوٰی میرے دوست مولوی نذیر حسین احمد خاں صاحب مرحوم نے احمد آباد گجرات سے مدینہ شریف کو بھجوایا تھا وہاں کی مہریں ہوکر بذریعہ مولوی عبدا لحق صاحب مجاور(یعنی مہاجر ) کے، ان کے پاس آیااورانہوں نے مجھے بھیجا۔جدہ کالفافہ موجودہے اوراس میں سلطانی ٹکٹ([7])لگے ہیں پیش کرتاہوں ۔بڑا فتوٰی مکہ شریف کی مہریں ہوکربذریعہ مولاناحاجی عبدالرزاق صاحب ’’مطوف کعبہ معظمہ‘‘ کے، بمبئ مولوی عمر الدین صاحب کو اور ان کے واسطے سے مجھے پہنچا۔جدہ کالفافہ پیش کرتاہوں اور اس کے ساتھ مولانا حاجی عبدالرزاق صاحب مکی کا یہ خط جوپیش کرتا ہو ں ، میرے نام آیا اور دوسرا خط اورپیش کرتا ہوں ۔ یہ سردار علمائے مکہ معظمہ مولانا محمد سعیدبابصیل نے میرے نام اپنی مہر کے ساتھ مع اسی فتوٰی کے بھیجا۔ اس کی چند سطروں کا خلاصہ، ترجمہ یہ ہے :
’’کہ یہ خط ہے حضرت اجل([8])و افضل میرے سردار اور میرے بھا ئی اور میرے معزز حضرت احمد رضاقادری محمدی حنفی کو کہ ان کی سعادت اور جلالت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع