دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aala Hazrat Say Sawal Jawab | اعلٰی حضرت سے سوال جواب

book_icon
اعلٰی حضرت سے سوال جواب

کر، نماز کے لئے اور مسجدیں ڈھونڈتے پھریں ۔ یہ مساجد کو اچھا عام عبادت کے لئے ماناکہ اصل جس کی بنائی ہوئی ہیں انہیں کو وہاں سے نکل جانے کاحکم ہوا، اس قول میں بھی کہ اصل جماعت کا ثواب ملے گا،وہ فاسق و مبتدع مراد ہے جس پر لزوم کفر([1])نہ ہو،ورنہ نماز باطل محض ہوگی، جیسے غیر مقلّدین کے پیچھے، جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ۔

سوال نمبر ۱۱۸:کتاب ’’درمختار‘‘ کو آپ مانتے ہیں یا نہیں ؟ اوریہ آپ کی کتاب ہے یانہیں ؟ اورآپ اس پر عمل کرتے ہیں یانہیں  ؟

جواب: ہے ۔اور عمل ’’مفتیٰ بہ‘‘ پر ہوتا ہے۔

سوال نمبر ۱۱۹:جو مسئلہ سوال نمبر ۱۱۷ میں بیان کیا گیا ہے وہ اس کتاب میں ہے یا نہیں ؟

جواب :اسی تفصیل کے ساتھ ہے جومیں نے ذکر کی ۔

سوال نمبر ۱۲۰:مکروہ یاحرام کے قول کوترک کرنے سے تھوڑا بہت ثواب ملتاہے یا نہیں ؟

جواب :جو کام اپنی حدذات میں نیک ہو اور حرمت وکراہت، کسی بیرونی عارضی بات کے باعث ہوتو اصل فعل پر ثواب اور اس عارضی کے سبب استحقاق عذاب وعقاب ہوتا ہے،جیسے ریشمی کپڑے پہن کر نماز یا قرآن شریف کی تلاوت ،بدعتی یافاسق کی اقتداء بھی اسی قبیل سے ہے کہ اصل فعل نمازہے نیک اور نفس فعل جماعت ہے نیک،مگریہ عارضی بات کہ امام بدعتی یافاسق ہے،مکروہ وممنوع، تواس عارضی کوضرورمنع کیاجائے گا۔کہ اس کا ثواب وعقاب بھی ہوتا ہے ۔ اگرچہ نفس فعل کا ثواب الگ ہو۔ پھر یہ بھی اس حالت میں ہے کہ فسق وبدعت لزوم کفرتک نہ پہنچتی ہوں ، ورنہ نفس فعل ہی باطل ہوجائے گا۔اوراب خالص عذاب رہ جائے گا،جیسے ہمارے مذہب میں غیرمقلّدین کے پیچھے نماز پڑھنا ۔

سوال نمبر ۱۲۱:حدیث ذیل :

            صلّوا  خلف کل بر و فا جر([2]) یعنی’’ ہرایک نیک وبدکے پیچھے نماز پڑھو‘‘امرہے یا نہیں ؟

جواب : صیغہ ضرورامر کا ہے اورمعنٰی وجوب، یہاں کسی کے نزدیک نہیں کہ فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا خواہ مخواہ لازم کوئی نہیں کہتا،حدیث میں لفظ،’’ کل‘‘ کا ہے ،جس کے معنٰی یہ ٹھہریں گے تمام نیکوں ، بدوں کے پیچھے نماز ادا کرنا ہر شخص پر واجب ہے۔یہ واجب نہ کسی سے ادا ہوا،نہ کبھی کسی سے ادا ہوسکے۔اس کی عمر اسی کے لئے کفایت نہ کرے گی کہ دنیا کہ جتنے بھی نیک وبدہیں کم ازکم ایک ایک بار سب کے پیچھے نماز پڑھے، البتہ اگر کلام سلطان ونائبان سلطان میں مخصوص کیاجائے جیساکہ  بیان کرچکا ہوں تو دفع ضر ر کے لئے وجوب ضرورہے یعنی تمیز نیک وبد کرکے آپ اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو ،علماء اس حدیث سے یہ مطلب ثابت کرتے ہیں کہ فاسق کے پیچھے نمازہوجا تی ہے، یعنی فرض اتر جاتا ہے اورساتھ ہی تصریح فرمادیتے ہیں کہ مکروہ ہے، عامۂ کتب فقہیّہ میں یہ استدلال امام مالک کے مقابل ہے کہ ان کے مذہب میں فاسق کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں ، اور بھی ایک روایت امام احمد سے ہے۔ دیکھو’ غنیہ شرح منیہ‘‘ ’’مرقات شرح مشکٰوۃ ([3]) ‘‘ ’’إرشاد السّاري شرح صحیح بخاري‘‘اور کتب عقائد میں یہ استدلال روافض و خوارج کے مقابل ہے کہ رافضیوں کے نزدیک امام معصوم شرط ہے او ر خارجیوں کے یہاں ہر فاسق کافر ہے اوریہ استدلال ضرورصحیح ہے، غیر مقلّدین ان مقاصد علماء کو پس پشت ڈال کر یہ مطلب نکالنا چاہتے ہیں کہ غیر مقلّد اگرچہ فاسق وبدعتی ہیں مگر تم پر لازم ہے کہ خواہی نخواہی ان کے پیچھے نماز پڑھو۔ یہ مطلب ہرگز حدیث کاہے، نہ علماء کا، بلکہ ان کی تصریحات کے صاف خلاف ہے۔

سوال نمبر ۱۲۲:امرکے حقیقی معنٰی وجوب ہیں یا نہیں ۔جب افسر و حاکم اپنے ماتحتوں کوکسی بات کی تعمیل کا حکم دیں تو اس حکم سے اس بات کاواجب اور ضروری ہونا سمجھاجاتاہے یانہیں ؟

جواب :ہاں ! ہمارے نزدیک حقیقت، وجوب ہے اورمحل اورموقع سے مختلف معنٰی سمجھے جاتے ہیں ۔

سوال نمبر ۱۲۳:’’نورالانوار‘‘ کو آپ جانتے ہیں یانہیں ؟ یہ کتاب آپ کی ہے یانہیں ؟

جواب : ہاں !ہے۔ بدستور نمبر ۲۵۔

سوال نمبر ۱۲۴:’’نور الانوار‘‘ میں عبارت ذیل درج ہے یا نہیں ؟

            عندنا الوجوب حقیقۃ الأمرلا یکون إلّا للوجوب۔ یعنی ’’ہمارے یہاں معنٰی حنفی مذہب میں وجوب ہی امرکے حقیقی معنٰی ہیں اور امر،وجوب ہی کے لئے ہوتا ہے‘‘۔

جواب :نیچے کی کتابیں دیکھنے کامُظہر کوکم اتفاق ہوتاہے ،یہ عبارت اس میں ہونہ ہو مگرمسئلہ وہ ہے جومیں نے ابھی بیان کیا ۔   
سوال نمبر
۱۲۵:لفظ کے جو حقیقی معنٰی ہوں اُس حقیقی معنٰی کو چھوڑکر اس کے مجازی معنٰی([4]) لینا کس حالت میں جائزہے اور کس حالت میں نہیں  ؟

جواب :جب حقیقت  متعذر([5])یامہجور ([6])ہوتو بالاتفاق، اور مغلوب ہو تو صاحبین کے نزدیک معنٰی مجازی لئے جائیں گے، ورنہ نہیں ۔

 



[1]     لزوم کفر اور التزامِ کفر میں فرق ہے ۔لُزُومِ کُفْر کی تعریف کا خُلاصہ یہ ہے کہ وہ بات عَینِ کُفْر نہیں مگر کُفْر تک پُہنچانے والی ہے اور اِلْتِزَامِ کُفْر یہ ہے کہ ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا صَرَاحَۃً (یعنی واضح طور پر) خِلاف کرے۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص۴۸) اس مسئلہ کی تفصیل کے لئے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال، محمد الیاس عطارؔ قادِری رضوی، ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز کتاب ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صَفْحہ 47      ملاحظہ کیجئے۔

[2]     سنن الدار قطني،کتاب العیدین،باب:صفۃ من تجوز الصلاۃ معہ والصلاۃ علیہ،ج ۲،ص۷۰،رقم الحدیث:۱۷۵۰،نشر السنۃ،ملتان،باکستان              

[3]     مرقاۃ شرح المشکاۃ،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج۳،ص۲۰۱،رقم الحدیث:۱۱۲۵،دارالفکر،بیروت

[4]     جس لفظ کے لئے معنٰی وضع کیا جائے اگر اسی لفظ کے لئے استعمال ہورہا ہے تو اسے        ’’ حقیقی معنٰی‘‘ کہتے ہیں اور اگر اس سے ہٹ کر کسی دوسرے لفظ کے لئے استعمال ہو تو اسے ’’مجازی معنی‘‘ مراد لینا کہیں گے ۔

[5]     مشکل

[6]     چھوڑی جاچکی ہویا ترک کردی گئی ہو    

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن