30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمل کرنے والا بدعتی وناری ہے اگر ہوتو بیان فرمائیے ؟
جواب :اس کاحدیث سے ثبوت ہوچکا،اور آئمہ اربعہ میں امام مالک سے صراحتاً منقول ہے کہ اپنے علماء کے عمل کو حدیث پر ترجیح دیتے دیکھو ’’مدخل‘‘ امام ابن الحاج مکی، مالکی ۔
سوال نمبر ۱۰۱:’’شرح مسلم الثبوت‘‘ جس کا بیا ن، نمبر ۲۵ میں ہوچکا اس میں عبارت ذیل ہے یانہیں ؟ الحق أنّہ أنّما منع من منع تقلید غیرھم لأنّہ لم یبق روایۃ مذھبھم محفوظۃ حتی لو وجد روایۃ صحیحۃ عن مجتھد آخر یجوز العمل بھا، ألا تریٰ أنّ المتأخرین أفتوا بتحلیف الشھود وإقامۃ لہ موقع التزکیۃ علی مذھب ابن أبي لیلی۔
یعنی’’ حق بات یہ ہے کہ جس شخص نے غیر آئمہ اربعہ کی تقلید سے منع کیا ہے،صرف اس وجہ سے منع کیا ہے او ر مجتہدین کے مذہب کی راویت محفوظ نہیں رہی حتی کہ اگر کسی دوسرے مجتہد کے مذہب کی کوئی صحیح روایت مل جائے تو اس پر عمل جائز ہے ، چنانچہ متاخرین حنفیہ نے مجتہد کے بجائے تزکیہ گواہان کے تحلیف گواہان کافتوٰی دیاہے ابن ابی لیلیٰ کے مذہب پر([1])، جومذاہب اربعہ کے علاوہ ہے‘‘۔
جواب :عملی طو رپر اس میں بھی تسلیم ہے کہ بنظر واقع، مذاہب اربعہ کی مخالفت ممنوع ہے کہ اب کوئی روایت، اور مذاہب کی محفوظ نہیں رہی، فرضی صورت غیرواقع میں فرضی اجازت، عمل کے لئے بھی کار آمدنہیں گواہان کا مسئلہ اسی صورت میں ہے جب قاضی مجتہد ہو ۔دیکھو’’رد المحتار کتاب القضا ئ‘‘([2]) ورنہ اگربادشاہ اسلام بھی تحلیف کا حکم دے([3]) توعلماء پرواجب ہے کہ اسے نصیحت کریں کہ وہ حکم نہ کرے ،جسے ہم نہ مانیں تو تیرا غضب ہو اور مانیں تو خدا کا غضب ہو،دیکھو ’’درمختار‘‘([4])وغیرہ ۔
سوال نمبر ۱۰۲:آئمہ حدیث، جیسے امام بخاری و امام ترمذی وغیرہمانے اپنی اپنی کتابوں میں ائمہ اربعہ کے علاوہ دوسرے مجتہدین جیسے امام سفیان ثوری رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ اور امام اسحٰق بن راہویہ اور امام عبدا ﷲبن مبارک کے مذاہب کی صحیح صحیح روایتیں بھی مع سندبیان کی ہیں یا نہیں ؟
جواب :غلط ہے ۔ صحیح بخاری کا ہرگز یہ طریقہ نہیں کہ ان صاحبوں کے اقوال کی تائید میں صحیح حدیثیں لائے اور جامع ترمذی میں بھی غالباً ان کے اقوال، بے سند مذکور ہیں اور عبداﷲبن مبارک حنفی المذہب ہیں ۔دیکھو’’ درمختار‘‘([5])۔
سوال نمبر ۱۰۳:مکہ معظمہ میں چارمصلّے کس نے قائم کئے اور کب قائم ہوئے اور کیوں قائم کئے مع سندبیان کیجئے ؟
جواب :جس قوم یعنی مسلمان نے، جس غرض یعنی نفع مسلمین کے لئے مدرسہ قائم کئے اور انہیں دینی کام سمجھا، اور غیر مقلّدین بھی برابر ان کی تقلید کررہے ہیں ،حالانکہ وہ زمانۂ صحابہ و تابعین میں نہ تھے،اوراسی قوم نے اسی غرض کے لئے یہ مصلے قائم کئے جسے صدہابرس گزرے۔دیکھو ’’حدیقۂ ندیہ شرح طریقۂ محمدیہ‘‘ علامہ عبدالغنی نابلسی([6])۔ شروع تاریخ نہ ان مدرسوں کی یاد ہے، نہ ان مصلوں کی ۔
سوال نمبر ۱۰۴:جب مکہ معظمہ میں چاروں مصلے قائم کئے جانے لگے، تو اس وقت کے علماء نے ان کا قائم کرنا منع فرما یا تھا یانہیں ؟
جواب :کسی سندِ صحیح سے ثابت نہیں کہ یہ مصلّے جس وقت قائم ہونا شروع ہوئے تھے اس وقت کے علماء نے انھیں منع فرما یا، ہاں شاید بعض کا خیال خلاف پر گیا ہوجس پر عمل نہ ہوا ۔
سوال نمبر ۱۰۵:مکہ معظمہ میں چاروں اماموں نے مصلّے قائم کئے تھے یانہیں ؟مع سند بیان فرمائیے ۔
جواب :چاروں مذہب، چاروں اماموں نے صحابہ سے اخذ فرما کر شائع کئے، جو ان مصلّوں کی اصل ہیں اور ان مصلّوں کو نہ منع فرما یا، نہ کوئی خاص حکم دیا، یہی حال مدارس کا ہے ۔
سوال نمبر ۱۰۶:مکہ معظمہ میں چاروں مصلّے قائم کرنے کے بارے میں کوئی آیت یا حدیث ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو بیان فرمائیے ۔
جواب :قرآن و حدیث میں جماعت کاحکم ہے، مسجد الحرام میں مصلّے قائم ہونے کا حکم ہے، کسی خاص گنتی کا ذکر،نہ ممانعت ۔
سوال نمبر ۱۰۷:شامی جس کا بیان، نمبر ۱۷میں ہوچکا ہے ۔اس میں عبارت ذیل ہے یا نہیں ؟ ان مایفعل أھل الحرمین من الصلاۃ بأئمۃ متعددۃ وجماعات مترتبۃ مکروہ اتفاقاً یعنی ’’اہل ِ حرمین ([7])جو متعد داماموں اور
متعد د جماعتوں کے سامنے یکے بعد دیگر ے نماز پڑھتے ہیں ، یہ فعل ان کا بالاتفاق مکروہ ہے ‘‘۔
جواب : سائل نے عبارت میں قطع وبریدکی ہے ۔ شامی توروزانہ میرے مطالعے میں رہتی ہے، شامی نے اسے نقل کرکے اس کا صریح رد کر دیا ہے اور اس کو تمام علماء کے اجماع کے خلاف بتایا ہے ([8])۔
[1] یعنی گردشِ زمانہ کے پیشِ نظر گواہوں سے گواہی کے ساتھ ساتھ قسم بھی لی جائے گی (تقریرات الرافعي علی حاشیۃ ردالمحتار،کتاب القضائ،مطلب:طاعۃ الإمام واجبۃ،ج۸،ص۱۳۲،دار المعرفۃ،بیروت)
[2] رد المحتار،کتاب القضائ،مطلب:طاعۃ الإمام واجبۃ،ج۸،ص۱۳۲، دار المعرفۃ،بیروت۔
[3] حلف اٹھانے کو کہے۔
[4] الدرالمختار،کتاب القضائ،فصل في الحبس،مطلب:طاعۃ الإمام واجبۃ،ج۸،ص۱۳۲،دارالمعرفۃ ،بیروت
[5] الدر المختار مع رد المحتار،مقدمۃ،الجزء الأول،ص۶۳،دار الفکر، بیروت
[6] الحدیقۃ الندیۃ،
[7] مکہ اور مدینہ کو’’ حرمین شریفین‘‘ کہتے ہیں مکہ کو اللہ عزوجل نے حرم قرار دیاتو مدینہ کوسرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حرم فرمایا، یہاں رہنے والے خوش نصیب لوگوں کو ’’اہل حرمین‘‘ کہا جاتا ہے۔
[8] رد المحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب: في تکرار الجماعۃ و الاقتداء بالمخالف،ج۲،ص۴۹،دارالمعرفۃ،بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع