دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aala Hazrat Say Sawal Jawab | اعلٰی حضرت سے سوال جواب

book_icon
اعلٰی حضرت سے سوال جواب

نہیں ۔امام شافعی کایہی مذہب ہے اور بے شک اﷲاور رسول کے سوا کسی کی اطاعت نہیں ،انہیں کے حکم سے صحابہ اور آئمہ وحکّام کی اطاعت واجب ہوئی غیر مقلّدین ایسے اقوال سے یہ چاہتے ہیں کہ اماموں کے مطیع رہیں نہ حاکموں کے مطیع ، مگر یہ خود اطاعت خدا ورسول کے خلاف ہے۔

سوا ل نمبر ۸۷:او ر ’’حجۃاﷲالبالغہ‘‘میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲعلیہ کا قول درج ذیل ہے یانہیں ؟ لیس لأ حد مع اﷲ و رسولہٖ کلام ولا تقلدني ولا تقلدن مالکا ولا الأوزاعي و لا النخعي ولا غیر ھم وخذ الأحکام من حیث أخذ وا من الکتاب و السنۃ ([1]) ۔ یعنی ’’اﷲتعالٰی ورسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مقابلے میں کسی کا کوئی قول معتبر نہیں ، نہ تومیری تقلید کر،نہ مالک کی، نہ اوزاعی کی اورنہ نخعی کی اور نہ کسی اور کی ۔ احکام کووہیں سے لے، جہاں سے انہوں نے لیے ہیں ‘‘۔

جواب :یہ امام احمد کاوہی قول ہے جس کاذکر د ویا تین نمبر پر پیشتر کرچکا ہوں ،’’ اور تو بھی وہیں سے احکام لے جہاں سے اگلے مجتہدین نے لئے‘‘صاف دلیل ہے کہ خطاب مجتہد سے ہے ۔

سوال نمبر۸۸: اور ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ میں امام ابویوسف او رامام زفر رحمہمااﷲ کاقول ذیل مذکور ہے یا نہیں ؟ لا یحل لأحد أن یفتٰی بقولنا مالم یعلم من أین قلنا([2]) یعنی ’’کسی کو حلال نہیں کہ ہمارے قول کے مطابق فتوٰی دے، جب تک یہ نہ جان لے کہ ہم نے کہاں سے یعنی کس دلیل سے کہا ہے‘‘ ۔

جواب :اس کا بیان بھی اُسی نمبر میں گزرا ہے۔

سوال نمبر۸۹:چاروں اماموں سے پہلے بھی کوئی تقلید ی مذہب جاری تھا یا نہیں ؟ اگر جاری تھا تو کس امام کی تقلید کا مذہب جاری تھا اور اس اما م کی تقلید کس نام سےپکاری جاتی تھی اور اب اس امام کی تقلید جائز ہے یانہیں ، اگر نہیں جائز ہے، تو کس نے منع کیا اور کب منع کیا اور کیوں منع کیا ؟

جواب :چاروں اماموں سے پہلے اور بعد ہمیشہ تقلید ہواکی اور ہوتی ہے ۔ چاروں مذہب کا اتباع بعینہٖ اتباع صحابہ ہے کہ یہ مذاہب انھیں سے ماخوذ ہیں اور ان کی اتباع سے نہ ممانعت تھی نہ ہے، اسی عبارت ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ میں تصریح ہے کہ مذہب امام ابو حنیفہ کی اصل، حضرت عبداﷲبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کے فتاوٰی اور حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   اور ان کے اصحاب کے فیصلے ہیں اوریہ کہ وہ، اس را ہ سے جدانہ ہوئے ۔ چاروں اماموں سے پہلے اہلِ حق کسی ایسے خاص نام سے نہ پکارے جاتے تھے، نہ وہ محمدی یا اہل حدیث کہلاتے،بلکہ اہلسنّت وجماعت کے نام سے بھی مشہور نہ تھے،یہ نام بھی کئی صدی کے بعد غالباً امام ابوالحسن اشعری      رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کے زمانے سے شائع ہوا ہے ۔ دیکھو ’’شرح عقائد نسفی‘‘([3]) وغیرہ،توحنفی شافعی ناموں کاحدوث([4])ایساہے جیسااشعری، ماتریدی،حالانکہ عقیدے یقینا وہی ہیں جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و صحابہ سے ماخوذ ہیں ۔

سوال نمبر ۹۰:تقلید کے بارے میں اﷲتعالٰی اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بھی کچھ فر مایا ہے یا نہیں؟

جواب : ہاں !بہت آیتوں اور حدیثوں میں حکم دیا ہے۔ پہلی آیت: { یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ

اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-}([5])۔’’اے ایمان والو!حکم مانو اﷲکااور فرمانے پر چلورسول اﷲاور اپنے علماء کے‘‘ ۔صحیح یہ ہے کہ اس آیت میں ’’اولی الامر‘‘سے مراد ’’علمائ‘‘ ہیں ۔ دیکھو ’’زرقانی شرح مواہب‘‘ دوسری آیت :{ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ             }([6])۔ جو معاملہ پیش آتا، اگراسے رسول اور اپنے عالموں کی طرف رجوع کرتے تو ضرور وہ جو اپنی فکر سے باریک حکم نکالتے ہیں ،خدا کا حکم جان لیتے‘‘۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہوا کہ استنباط پر، مجتہد ین ہی قادر ہیں اور مسلمانوں  کو ان کی طرف رجوع کاحکم ہے اور نیز یہ کہ’’ اولی الامر‘‘ سے مراد ’’علمائ‘‘ ہیں ۔کہ اس آیت کے بڑے مصداق ابوبکر و عمر ہیں رضی اﷲتعالٰی عنھما اوریہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانے میں حاکم نہ تھے ۔ آیت سوم:{ وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ-فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠(۱۲۲) }([7]) مسلمان سب کے سب تو جانے سے رہے، توکیوں نہ ہو کہ ہر گروہ میں سے ایک ٹکڑا نکلتا کہ دین میں سمجھ حاصل کرتے اور واپس آکرڈر سناتے، اس امید پر کہ وہ خلاف حکم کرنے سے بچیں ‘‘ ۔

آیت چہارم :{فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷)}([8])’’علماء سے پوچھو! اگر تمہیں علم نہ ہو،ہمیشہ علماء اس آیت سے وجوب تقلید پر استدلال کرتے رہے ہیں ۔ دیکھو ’’مسلم الثبوت‘‘ وغیرہ اور حدیثیں تواتنی کثیر ہیں کہ جنہیں میں اس وقت یاد پر، لکھاہی نہیں سکتا۔

سوال نمبر ۹۱:اگر فرماتا ہے توکیا فرماتاہے، عبارت ذیل قرآن مجیدکی آیت ہے یانہیں ؟{ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ(۱۷) الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۱۸) }یعنی’’ پس تومیرے  ان بندوں کوخوشخبری سنادے، جو ہر طرح کی باتیں سنتے ہیں پھر ان میں سے جواچھی بات ہوتی ہے اس کی پیروی کرتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اﷲنے راہ راست دکھلایا ہے اور یہی لوگ عقلمند ہیں ‘‘ ؟

 



[1]     حجۃ اللہ البالغۃ،فصل في عدۃ أمور مشکلۃ من التّقلید ألخ،الکلام علی حال النّاس ألخ،ج۱،ص۱۵۷،نور محمد کتب، خانہ کراچی۔

[2]     حجۃ اللہ البالغۃ،فصل في عدۃ أمور مشکلۃ من التّقلید ألخ،الکلام علی حال النّاس ألخ،ج۱،ص۱۵۸،نور محمّدکتب خانہ، کراچی

[3]     شرح عقائد النسفي،مبحث تقسیم الأحکام الشرعیۃ ألخ،ص۷،قدیمی کتب خانہ ،آرام باغ ،کراچی

[4]     ظاہر ہونا              

[5]     پ ۵ ،النساء :۵۹

[6] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن