دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aala Hazrat Say Sawal Jawab | اعلٰی حضرت سے سوال جواب

book_icon
اعلٰی حضرت سے سوال جواب

وقول صحابتہٖ۔ یعنی’’ میرے  قول کو بمقابلہ حدیث رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم وقول صحابہ کے چھوڑدو‘‘۔

جواب : یہ قول بے سند ہے او راس کے مخاطب وہی تلامذہ تھے جو منصب اجتہاد تک پہنچے، جیسے ابویوسف ومحمد وزفرو حسن بن زیاد ۔

سوال نمبر ۸۳:تفسیر مظہری میں امام ابوحنیفہ کاقول مذکور ذیل ہے یانہیں  ؟

إذا صح  الحدیث فھو مذھبي([1]) ۔ یعنی’’ جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تووہی میرا  مذہب ہے ‘‘۔

جواب :صحت سے مراد صحت فقہیّہ ہے،جس کی روسے بربنائے حدیث اسے فتوٰی دینے کا اختیارہو۔’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ کی اسی عبارت میں ہے کہ جوچارلاکھ حدیثیں جمع کرچکاہو ،وہ بھی حدیث سے فتوٰی دینے کے لائق نہیں اور پانچ لاکھ میں بھی صرف لیاقت کی امید ہے، یقین نہیں ، غیر مقلّدین کہ حدیث سے فتوٰی دیا چاہتے ہیں ۔اگر ہندوستان بھر کے جمع ہوجائیں تویاد رکھنا کیسا، اپنے پاس کی تمام کتابیں اکٹھا کرکے بھی ایک لاکھ حدیث صحیح نہیں گنا سکتے،پانچ لاکھ تو بہت ہیں ۔

            کتاب کے ورقوں میں لکھا ہونا کافی نہیں ،اپنے لئے نظر ہونا ضروری ہے اس کاحال امتحان سے کھل سکتا ہے کہ سب کتابیں درکنا رفقط صحاح ستہ بلکہ ان میں سے ایک ہی کتاب کی سب حدیثیں بھی ایک وقت میں پیش نظرہونی دشوار ہیں ، اگلے علماء کو اکثر بارہادھوکے ہوئے کہ سب سے مشہور ترکتاب’’ صحیح بخاری‘‘ میں حدیث موجود تھی،  ان کی نظر نہ پہنچی تو آج کل کے ناقصوں کا کیا ٹھیک ہے ۔

سوال نمبر ۸۴: ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ جس کا بیان، نمبر ۲۸ میں ہوچکا ہے ،اس میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲعلیہ کاقول ذیل مذکور ہے یانہیں ؟لا ینبغی لمن لم یعرف دلیلي أن یفتی بکلامي۔یعنی ’’جو شخص میری دلیل کو نہ جانے، اس کو لائق نہیں کہ میرے  قول کے موافق فتوٰی دے‘‘

جواب:یہ عبارت بھی اسی تتمہ کی ہے جو صرف ایک نسخے میں ہے اور میں اپنی یقینی یاد سے کہتاہوں کہ اس کی نقل میں سائل نے بہت قطع وبرید کی ۔ یہاں یہ بیان ہے کہ مجتہد مطلق استنباط کرلے گا یعنی خود احکام نکالے گااو رمخرج کہ وہ بھی ایک قسم کا مجتہد ہے،مجتہد مطلق کے نکالے ہوئے مسائل میں ترجیح پر نظر کرے گا،ان کے سواتمام لوگ صرف تقلید کریں گے،آئمہ نے اسی کی وصیّت کی ہے ۔ اس کے بعد امام ابوحنیفہ کا یہ قول ہے اور اس کے سواامام شافعی، امام مالک ،امام احمد اور شاید امام ابویوسف وغیرہ،ہمارے امام کے بعض شاگردوں کے اقوال بھی اس معنٰی میں نقل کئے ہیں ، جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ اقوال،مجتہدکے لئے ہیں نہ کہ عام لوگوں کیلئے۔ جنہیں خود لکھاکہ تمام آئمہ ان کوتقلید کی وصیّت فرماتے رہے اور خصوصاً اس قول میں تولفظ ’’افتاء‘‘ موجود ہے اور اس زمانہ میں مفتی کہتے تھے، مجتہد کوہی دیکھو مسلم الثبوت وفتح القدیر و رد المحتار([2]) ۔

سوا ل نمبر ۸۵:اور ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ میں امام مالک رحمۃ اﷲعلیہ کاقول ذیل درج ہے یانہیں ؟مامن أحدٍ إلاوما خوذ من کلامہ ومردودٌ علیہ إلا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم([3]) ۔یعنی ’’بجز ([4]) رسول اﷲ

صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کوئی ایسا نہیں ہے جس کی ساری باتیں قبول یاساری باتیں قابل تردید ہوں ‘‘ ۔یعنی صرف رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسے ہیں جن کی ساری باتیں قابل قبول ہیں ، دوسرا کوئی ایسا نہیں ۔

جواب : یہ امام کاوہ قول ہے جس کاذکر ابھی ہوااور یہ ضرور صحیح ہے، اسی لئے       ’’ مفتی بہ‘‘ قول پر عمل ہوتا ہے ۔

سوال نمبر ۸۶:اور ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ میں امام شافعی رحمۃاﷲعلیہ کاقول ذیل مذکور ہے یانہیں ؟إذ صح الحدیث فھو مذھبي و إذ رأیتم کلامي یخالف الحدیث فعملوا بالحدیث و اضربوا الکلامي الحائط ولا تقلد ني في کل ماأقول و انظر في ذالک بنفسک فإنہ دین ولا حجۃ في قول أحدٍ دون رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و إن کثروا ولا في قیاس ولا في شيئٍ وما ثمہ إلاطاعۃ اﷲ ورسول اﷲبالتسلیم ۔یعنی ’’جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے تووہی میرا مذہب ہے اور جب میرے  کلام کوحدیث کے خلاف دیکھو تو حدیث ہی پر عمل کرواور میرے  کلام کو دیوار پر مار دو اور ہر بات میں میری تقلید نہ کر و، تو خود ہی اپنے سے، اس میں غور کرے ،اس لئے کہ یہ دین ہے اور بجز رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اور کسی کاقول حجت نہیں اگرچہ اس قول کے قائل بہت ہوں اور نہ کسی کا قیاس حجت ہے اورنہ کوئی چیز حجت ہے، یہاں تو اﷲتعالٰی اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی فرمانبرداری ہے اور بس‘‘ ۔

جواب: یہ امام شافعی کاوہی قول ہے جس کاذکر اگلے نمبر میں گزرا اور اگر میری یادغلطی نہیں کرتی ہے تو اس میں سائل نے ایک کارروائی اور کی ہے، مجھے یاد ہے کہ یہاں لاتقلدني سے پہلے یاإبراھیم کالفظ تھا جسے سائل نے اڑادیا([5]) ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ خطاب اپنے شاگرد مجتہد، امام ابراہیم مدنی سے ہے نہ کہ زید و عمر سے ۔ اور بے شک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد حجت ہے ۔ اس لئے اجماع وقیاس حجت ہوئے کہ انہیں کے ارشاد سے ثابت ہیں اور اسی لئے قول صحابہ اور قول آئمہ حجت ہوا اور انہوں نے ان کی اتباع کا حکم پہنچایااور فرمایا،اور یہ قیاس جس کی اس قول امام شافعی میں نفی ہے قیاس غیر شرعی ہے جو غیر مجتہد کاقیاس ہے ۔

ورنہ خود امام شافعی، قیاس فرماتے ہیں جس کی اسی عبارت ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ میں تصریح ہے ۔ علاوہ بریں جب یہاں کلام، مجتہد میں ہے تو ضرور ایک مجتہد کا قیاس دوسرے مجتہد پر حجت



[1]     تفسیر مظہری

[2]     ردالمحتار،مقدمۃ،مطلب:في طبقات الفقھاء ، ج۱، ص ۸۳، دارالفکر،بیروت           

[3]     حجۃ اللہ البالغۃ،فصل في عدۃ أمور مشکلۃ من التقلید ألخ،الکلام علی حال النّاس ألخ، ج۱،ص۱۵۷،نور محمد کتب خانہ ،کراچی

[4]     ماسوائے رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام

[5]     حجۃ اللہ البالغہ کے حصہ اول ،ص۱۵۷پر یہ عبارت ویسے ہی ہے جیسا کہ    اعلیٰ حضرت عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ الرَّحْمٰن نے ارشاد فرمائی کہ اس سے پہلے ’’یا ابراھیم‘‘ کا لفظ تھا۔(حجۃاللہ البالغہ حصہ اول، ص۱۵۷، باب الکلام علی حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ، مطبوعہ نورمحمدکتب خانہ کراچی)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن