30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
؟
جواب :بے شک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پربنصِ قطعیٔ قرآن نبوّت ختم ہوگئی، اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا([1])۔ لہٰذا ضروری ہواکہ آپ کے دین میں مجتہدین ہوں اور مسلمانوں پر مجتہدوں کی پیروی فرض ہو کہ وہ وقائع([2])جن کاذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں نہیں اپنی رائے سے ان میں حکم شرعی قائم فرمالیں ۔ورنہ یہ احکام، مجمل رہ جاتے کہ قرآن و حدیث میں ذکر نہیں ۔اورکوئی تازہ([3])نبی ہو نہیں سکتاتومجتہدین اگرنہ ہوتے یاان کا حکم، حکم شرع نہ ٹھہرتا تو یہ احکام کیوں کر معلوم ہوسکتے ۔
سوال نمبر ۴۸:اہلسنّت وجماعت کی کیا تعریف ہے ؟
جواب :جو سواداعظم مسلمین کے پیروہیں ،جس کے اتباع کا متواتر([4]) حدیثوں میں حکم ہے،اور حدیث نے مذہب حق کی عام فہم تعریف بیان فرمائی ہے ۔ ’’اتبعو ا السوادالأعظم فإنہ من شذ شذ في النار‘‘([5])۔’’ مسلمانوں کے بڑے گروہ کی پیروی کرو، جو اس سے جدا ہوا، وہ جہنم میں جدا ہوا‘‘۔ہرشخص جانتا ہے کہ مسلمانوں کا بڑا گروہ مقلّدہے غیر مقلّدین بہت قلیل ہیں ۔ خو د ’’حجۃ اﷲالبالغۃ‘‘ کی اسی عبارت میں ، جس کے چند ناقص ٹکڑے سائل نے نقل کئے ،صاف لکھاہے کہ ان چار مذہبوں کی تقلید درست ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ،اگر کوئی اس کا مخالف ہے بھی تو ایسا کہ وہ کسی گنتی شمارمیں نہیں ‘‘ ۔
سوال نمبر ۴۹:’’شرح عقائد نسفی‘‘ کوآپ جانتے ہیں یانہیں ؟اور یہ آپ کی کتاب ہے یا نہیں ؟
جواب :ہاں ! اور اصل کلی مطابق نمبر ۲۵ ۔
سوال نمبر ۵۰:’شرح عقائد نسفی‘‘ میں اہلسنّت وجماعت کی تعریف ذیل کے مطابق لکھی ہے یا نہیں ؟القاب خادمہ السنۃ ومضٰی علیہ الجماعۃ فسموا أھل السنۃ و الجماعۃ یعنی ’’اہلسنّت وجماعت کا نام، اس وجہ سے اہل سنت وجماعت ہواکہ انھوں نے سنت رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وجماعت صحابہ کی پیروی کی‘‘۔
جوا ب:پوری عبارت دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ اس میں کچھ لفظ رہ گئے ہیں ([6]) اور یہ وجہ تسمیہ ہے ،تعریف نہیں اور جماعت کے ترجمہ میں صحابہ کی قید سائل نے اپنی طرف سے لگادی ہے۔پھر غیر مقلّدین صحابہ کی بھی تقلید نہیں کرتے، نہ اجماع کو مانتے ہیں ، تویوں بھی اہلسنّت کے مخالف ہوئے۔
سوال نمبر ۵۱:’’توضیح وتلویح‘‘ کو آپ مانتے ہیں یانہیں ؟اوریہ آپ کی کتاب ہے یانہیں ؟
جواب :ہے ۔بدستور نمبر ۲۵۔
سوال نمبر ۵۲: ’’توضیح و تلویح‘‘ میں اہلسنّت کی تعریف ذیل لکھی ہے یانہیں ؟
اھل السنۃ والجماعۃ ھم الذین طریقھم طریق رسول اﷲ۔یعنی اہلسنّت وجماعت وہ لوگ ہیں جن کا طریقہ ،طریقۂ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہے ۔
جواب : یہ عبارت اس طرح ’’توضیح و تلویح‘‘ میں نہیں ۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہ کلام ثبوت اجماع میں لکھا ہے او ر کتاب میں اس کے بعد و أصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھمبھی ہے جسے سائل نے ساقط کردیا ([7]) ۔ تو اس عبارت کی رو سے بھی غیر مقلّد ین کہ طریقہ صحابہ کوحجّت نہیں مانتے اور اہلسنّت سے خارج ہوئے۔
سوال نمبر ۵۳: کتاب ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ جس کا بیان نمبر ۲۸ میں ہوچکا ہے، اس کتاب میں اہل سنت وجماعت کی تعریف ذیل ہی ہے یا نہیں ؟
لما ظھر أعجاب کل ذی رأی برأیہ وتشعبت بھم السبل اختار قوم ظاھر الکتاب والسنۃ وعضوا بنواجذھم علی عقیدۃ السلف وھم أھل السنۃ یعنی ’’جب لوگوں کے طریقے مختلف ہوگئے اور ہر اہل رائے کا اپنی رائے پر خوش ہوناظاہرہوگیا تو ایک قوم نے صاف صاف قرآن و حدیث کو اختیار کیا او ر سلف کے عقائد کو مضبوط پکڑا یہی لوگ اہل سنت ہیں ‘‘
جواب :یہ عبارت اس وقت میرے خیال میں نہیں ، معلوم نہیں سائل نے اس میں کچھ قطع و برید ([8]) کی ہو، پھر بھی اس سے غیر مقلّدوں کا اہلسنّت سے خارج ہونا ثابت، کہ سلف کے
[1] قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰) (پ۲۲ ،احزاب:۴۰)ترجمۂ کنزالایمان شریف :’’ہاں اللہ کے رسول ہیں اورسب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتاہے‘‘ اس آیت کے تحت مفسرِ شہیر مولاناسید محمدنعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کاآخرالانبیاء ہونا قطعی ہے، نصِ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیث جو حدِّ تواتر تک پہنچتی ہیں ان سب سے ثابت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سب سے آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں جو حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے ،وہ ختم نبوت کا منکر اور کافر، خارج ازاسلام ہے (کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان، ص ۶۳،مطبوعہ پاک کمپنی لاہور)
[2] واقعات
[3] نیا
[4] حدیث متواتر: وہ حدیث جسے ایک جماعت سے دوسری جماعت نقل کرے اور وہ جماعت اتنی بڑی ہوکہ ان کاکسی جھوٹ پر متفق ہونا متصور نہ ہو اور یہ سلسلہ ہم تک اسی طرح چلا آتا ہو مثلاً (i)قرآن پاک کا منتقل ہونا (ii)رکعاتِ نماز کی تعداد(iii)مقدارِ زکوٰۃ وغیرہ وغیرہ (تلخیص اصول الشاشی، ص۳۰،مکتبہ اسلامیہ سعیدیہ مانسہرہ)
[5] مشکوٰۃ شریف ، کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،الفصل الثانی، ص۳۰، قدیمی کتب خانہ کراچی )
[6] اصل عبارت یوں ہے ’’اثبات ماورد بہ السنۃ ومعنٰی علیہ الجماعۃ فسمّوا أھل السنۃ والجماعۃ ‘‘ جو چیز سنت اور صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہو اس پر ثابت قدم رہنے والے لوگوں کو اہل سنت وجماعت کا نام دیا گیا۔ (شرح عقائدنسفی، ص ۷ ،قدیمی کتب خانہ کراچی )
[7] توضیح تلویح میں اصل تعریف یوں ہے کہ ’’أھل السنۃ والجماعۃ وھم الذین طریقتھم طریقۃ الرسول عَلَیْہِ السَّلَام واصحابہ رضی اللّٰہ عنہم دون أھل البدع(توضیح تلویح بحث الرکن الثالث ’’الاجماع‘‘، ص۵۲۸،ج۲، مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی )اعلیٰ حضرت ،امام اہل سنت علیہ رحمۃالرَّحْمٰن کے حافظہ کا کیا کہنا، جیسے آپ نے ارشاد فرمایا ویسا ہی کتاب میں بھی لکھا ہو اپایا۔
[8] حجۃ اللہ البالغہ میں اہل سنت وجماعت کی تعریف ایک جگہ پر یوں ملتی ہے کہ ’’الفرقۃ الناجیۃ(أي: أھل السنۃ و الجماعۃ)ھم الآخذون في العقیدہ و العمل جمیعا بما ظھر من الکتاب و السنۃ وحبرٰی علیہ جمھور الصحابۃ والتابعین‘‘ =
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع