30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں مطابق حکم خدا ورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک ہی ہوگا ۔باقی مخالف ہیں تو دیدہ ودانستہ، قصداً خداورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مخالفت کی اجازت ہوئی۔
سوال نمبر ۲۸:کتاب ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ کوآپ جانتے ہیں او ریہ اہلسنّت و جماعت کی کتاب ہے یا نہیں ؟
جواب :جواب مطابق نمبر ۲۵۔
سوال نمبر ۲۹:’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ میں عبارت ذیل درج ہے ۔
’’علم أنَّ الناس ماکانوا قبل المائۃ الرابعۃِ مجتمعین علی التقلید الخالص لمذھب واحدٍ‘‘۔ یعنی لوگ چوتھی صدی کے قبل کسی ایک خاص مذہب کی خالص تقلید پر متفق نہ تھے ؟
جواب :یہ عبارت ’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے ۔ صرف ایک نسخے میں ہے جوکہ تتمہ([1])بناکر الحاق کی گئی ہے، چھاپنے والے نے اُسے حاشیہ پر ظاہر کردیا ہے اور یہ عبارت خودانہی مصنف کی کتاب مسمٰی بہ’’ انصاف‘‘ کے خلاف ہے۔ دوصدی کے بعد ایک امام معیّن کا مذہب لینا مسلمانوں میں شائع ہوا ،کم کوئی ایسانہ کرتا اور اس وقت وہی واجب تھا،اور اتنا تو اس’’حجۃاﷲالبالغہ‘‘کی اس عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ تیسری صدی تک بھی تقلید شخصی خالص موجودتھی گواس پر اجماع نہ تھا پھر تو اس پر سب کا اجماع ہوگیا ۔
سوال نمبر۳۰: اور حجۃ اﷲالبالغہ میں عبارت ذیل درج ہے یانہیں ؟’’ ثم بعد ھٰذا لقرون کان النَّاس آخرون ذھبوا یمیناً و شمالاً وحدث فیھم أمورٌ‘‘۔یعنی پھران زمانوں کے لوگ ہوئے جوداہنے اور بائیں چل نکلے او ر اُن میں کئی باتیں پیدا ہوگئیں ؟
جواب:یہ بھی اسی تتمہ میں ہے، جس سے اکثر نسخے خالی ہیں ۔
سوال نمبر ۳۱:اور’’حجۃ اﷲالبالغہ‘‘ میں عبارت ذیل درج ہے یا نہیں ؟
’’منھا انھم بالتقلید فی صدورھم ربیب النمل وھم لا یشعرون‘‘۔
جواب :یہ بھی اسی تتمہ میں ہے ۔یہ عبارت بھی سائل نے ناقص نقل کی ہے،اس کے بعد جوامور مصنف نے لکھے ہیں، اُن سے ظاہر ہے کہ خالص تقلید شخصی کووہ دینی ضرورت جانتے ہیں اور یہ کہ ان کے اعتراضوں کا تصفیہ اور مقدمات کا انصاف کے ساتھ فیصلہ ظلم کا انسداد ہے اور مصنف نے رسالہ ’’انصاف‘‘ میں تصریح کی ، یہ ایک رازخدا کا ہے کہ علماء کے دل میں ڈال دیا اور علماء کو اس کا پیروکردیا ،اور اپنے دوسرے رسالے ’’عقد الجید‘‘ میں ایک باب اس لئے لکھا ہے کہ’’ پیرویٔ مذاہب اربعہ پرتاکید اور ان سے باہر ہونے کی سخت ممانعت ہے‘‘اور لکھا ہے کہ ان چاروں مذہبوں سے روگردانی کرنے میں بڑافساد ہے تو انہی مصنف کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مقلّدین بڑے مفسد ہوتے ہیں ۔
سوال نمبر ۳۲:جن لوگوں کامذہب ہر ہر مسئلہ میں قرآن و حدیث یعنی جن لوگوں کا مذہب یہ ہے جو مسئلہ قرآن مجید یاحدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے اسی کووہ مانتے ہیں اوراسی کولائق پابندی جانتے ہیں اور کسی رسم و رواج کویاکسی کے قول و فعل کو جس کی سند قرآن مجید وحدیث شریف سے نہ ہو،نہیں مانتے اور نہ لائق پابندی جانتے ہیں ، اُن کے اس مذہب کی ابتداکب سے ہے ؟
جواب :یہ مذہب کہ ہرشخص اپنی سمجھ پر قرآن و حدیث سے مسئلے لے کرامام کے قول کی سندنہ مانے، یہ قرآن و حدیث سب کے خلاف ہے ۔ یہ مذہب نہ زمانۂ رسالت میں تھا، نہ زمانہ صحابۂ میں اور نہ زمانۂ تابعین میں بلکہ نئے منکر جاہلوں کے کان میں شیطان نے پھونکا کہ تم کیاکم ہو جوایسے صحابہ و آئمہ کی پیروی کرو، قرآن سمجھنے کوکچھ علم درکارنہیں ،ہرجاہل اپنی گڑھت پرچلے ۔
سوال نمبر۳۳:ایسے لوگ جن کا مذہب جواب نمبر ۳۲میں درج کیا گیاہے مسلمان اہلسنّت وجماعت ہیں یا نہیں ؟
جواب :ایسے لوگ ہرگزسنی مسلمان، نہیں ۔
سوال نمبر ۳۴:اسلام میں اصلی قانون کیا ہے ؟
جواب:فقط کلام اﷲشریف ۔
سوال نمبر ۳۵:اسلام میں اصلی قانون قرآن مجید وحدیث شریف ہے یانہیں ؟
جواب :حدیث بھی اصلی قانون نہیں بلکہ قرآن مجید کی تابع ہے ۔ کلام مجید ہی نے حکم فرمایا ہے کہ حدیث و اجماع وآئمہ کی اطاعت کرو،اسی لئے چار اصول ٹھہرے ۔
سوال نمبر۳۶:جب مسلمانوں میں کسی امر میں نزاع اور اختلاف واقع ہوتو ایسی حالت میں اﷲتعالٰی نے قرآن مجید میں اصلی قانون کی طرف رجوع کرنے کاحکم دیا ہے یانہیں ؟
جواب:قانون اصلی اور قانون تابع دونوں کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے او ر وہ بھی حقیقتاًقانون اصلی ہی کی طرف رجوع ہے کہ قانون تابع، قانون اصلی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا : { وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ}([2])۔ دیکھو اس آیت نے قانون تابع، مجتہدین کی طرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع