30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال نمبر ۲۲:مجتہد کو تقلید جائز نہیں تو کیوں جائز نہیں ؟
جواب :اپنا حال مجتہدین جانیں ، ہمیں اس سے کیابحث ۔
سوال نمبر ۲۳ :رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام کے زمانہ میں ، عام مسلمانوں کا کیا مذہب تھا ؟
جواب:دین،دین ِ اسلام تھا۔عقائد، عقائدِ اہل سنت، اصل اعمال میں گنتی کے صحابہ مجتہد تھے باقی سب مقلّد ۔
سوال نمبر ۲۴:رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و صحابہ کرام کے زمانہ میں عام مسلمانوں کا مذہب حنفی ، شافعی ، مالکی،حنبلی تھا یانہیں مع سند بیان فرمائیے ؟
جواب :ان چاروں مذہب کے مآخذ وہی مذہب ہیں جو زمانہ رسالت و صحابہ میں تھے۔اگرچہ کوئی اصطلاحی نام بعدکوحادث ہوجیسے عقائدمیں اشعری([1]) ، ماتریدی([2]) ۔ غیر مقلّدین اپنے آپ کواہل حدیث کہتے ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ یہی مذہب ،صحابہ کے زمانہ میں تھا۔ حالانکہ اس وقت کوئی مذہب اپنے نام سے نہ پکارا جاتا تھا ۔
سوال نمبر ۲۵:کتاب ’’شرح مسلم الثبوت‘‘ کو آپ جانتے ہیں اوریہ آپ کی کتاب ہے یانہیں ؟
جواب :مسلم الثبوت کی کئی شرحیں ہیں اور ان میں ہماری کوئی تصنیف نہیں اور اگر یہ مراد ہے کہ ان میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب ہمیں تسلیم ہے یا نہیں تو اس کا یہ حال ہے کہ ہم اپنے امام سے مقلّدہیں ان مصنفوں کے مقلّد نہیں ،ہم ہمیشہ جمہور سواد اعظم([3]) کے پیروہیں ،جوبات جس مصنف کی خصوصاً حال کے لوگوں ، خصوصاً ہندی مولویوں کی، جمہور کے خلاف ہو، ہمیں تسلیم نہیں ہوسکتی ۔
سوال نمبر ۲۶:’’شرح مسلم الثبوت‘‘ میں عبارت ذیل درج ہے یا نہیں ؟
’’لاواجب إلاماأوجب اﷲتعالٰی ولہ الحکم ولم یوجب علی أحدٍ أن یتمذھب برجل من الأ ئمۃ فإیجابہ تشریع شرع جدید‘‘۔ یعنی واجب وہی ہے جس کو اﷲتعالٰی نے واجب فرمایا اور حکم اسی کو سزاوار ہے اور اﷲتعالٰی
نے کسی پر یہ واجب نہیں فرمایا کہ اماموں میں سے کسی ایک امام کے مذہب کولازم پکڑے،پس ایک امام کا مذہب پکڑنے کو واجب کرنا، ایک نئی شرع قائم کرنا ہے ۔
جواب :’’مسلّم الثبوت ‘‘میں یہ قول ’’قیل‘‘ کرکے لکھا ہے یعنی بعض لوگوں نے یوں کہااور درمختار اور فتاوٰی خلاصہ اور بحر الرائق اور فتاوٰی خیریہ وعقود الدریہ واحیاء العلوم وغیرہ بکثرت کتب معتمدہ سے ثابت ہے کہ جمہورعلماء اس کے خلاف پرہیں ([4]) ۔بلکہ امام حجۃ الاسلام غزالی نے احیاء العلوم کی نویں کتاب کے تیسرے باب میں تصریح فرمائی ہے کہ تمام علماء کاملین میں کوئی اس طرف نہ گیا([5]) ۔
سوال نمبر ۲۷ :اور’’ شرح مسلّم الثبوت‘‘ میں عبارت ذیل درج ہے یانہیں ۔
لیس للا تباع بمذھب واحد موجبٌ شرعیٌ یعنی’’ کوئی شرعی دلیل ایسی نہیں ہے جس سے ثابت ہوکہ ایک مذہب کا پیروہوجا نا واجب ہے‘‘۔
جواب:یہ بھی بعض کے قول میں یوں لکھا ہے کہ مقلّد جہاں قول امام کی تقلید کر چکا اب اس سے نہیں پھر سکتا،ورنہ جس کی چاہے تقلید کرے ۔ سائل نے ناقص بات نقل کی ۔ پوری بات یہ تھی اوراس میں ہر طرح غیر مقلّدوں کا رد تھا،بعد تقلید نہیں پھرسکتا۔ یہ تو صاف غیر مقلّدوں کا رد ہے اور اس کے قبل جس کی چاہے تقلید کرے ۔ یہ اور زیادہ غیر مقلّد ہی کارد ہے ۔ کیونکہ ہر مسئلے میں اﷲجل جلالہٗ ورسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حکم ایک ہی ہوگا۔ وہ مختلف حکم نہ فرمائیں گے کہ ایک ہی چیز کو جائز بھی فرمادیں اور ناجائز بھی یاواجب بھی فرمادیں اورحرام بھی ۔ مگر مجتہدین، یہ آپس میں مختلف ہیں توجن میں بعض نے اختیار دیا کہ جس کے قول پر چاہے عمل کرے۔ اس کاصاف مطلب غیرمقلّدوں کے نزدیک یہ ہوا کہ ’’جائز ہے‘‘،چاہے خدا ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے موافق چلے چاہے مخالف ،توان میں بعض نے غیر مقلّدوں کے طور پر ہر مجتہد کو اﷲورسول جل و علا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا اصل حاکم بنالیا کہ کسی مجتہد کاقول دیکھ لو اور عمل کرلو۔چاہے خدا ورسول جل و علا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے موافق ہویا مخالف،تویہ بعض جو غیرمقلّدین کے نزدیک مقلّدین، امام واحدسے بھی بڑھ کر مشرک ہیں ،ان کے قول سے سند لانا محض دھوکہ ہے ایک ہی قول پر ہمیشہ عمل ہو تو یقینی مخالفت خدا ورسول عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نہ ہوئی ۔ ممکن ہے اس کے سب قول، مطابق حکم خداورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہو، لیکن جب اختیار دیا گیا کہ ہربا ت میں جس قول پرچاہو عمل کرو اور ان
[1] حضرت امام شیخ ابوالحسن اشعری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ کی پیروی کرنے والوں کو’’ اشعریہ‘‘ کہتے ہیں۔
[2] امام الھُدٰی، حضرت ابو منصور ماتریدی کے ماننے والوں کو ’’ماتریدیہ‘‘ کہا جاتاہے۔ احناف، عقائدِ فرعیہ میں انہیں کے مقلد ہیں۔صدرالشریعہ ،بدرالطریقہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ دونوں جماعتیں (اشعریہ،ماتریدیہ)اہل سنت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے، ان کا اختلاف حنفی ،شافعی کا ساہے کہ دونوں اہل حق ہیں کوئی کسی کی تذلیل و تفسیق نہیں کرسکتا ۔ (بہار شریعت جہیز ایڈیشن،حصہ اول،ج ۱، ص۴۶ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)
[3] بڑا گروہ،مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعتِ حقہ کو سوادِ اعظم کہتے ہیں ۔حدیث شریف میں ہے۔سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی ثلٰثًا و سَبْعِیْنَ فِرْقَۃً کُلُّھُمْ فِی النَّارِ اِلّاوَاحِدَۃً(یعنی میری) ’’یہ امت تہتر فرقے ہوجائے گی ایک فرقہ جنتی ہوگاباقی سب جہنمی ‘‘صحابہ نے عرض کی مَنْ ھُمْ یارسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) ’’وہ ناجی (نجات پانے والا)فرقہ کون ہے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)‘‘۔آپ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ارشاد فرمایامَااَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابی ’’وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں‘‘ (یعنی سنت کے پیروکار)دوسری روایت میں’’ ھُمُ الجماعۃ ‘‘وہ جماعت ہے یعنی مسلمانوں کا بڑا گروہ جسے سوادِ اعظم فرمایا اور فرمایا جواس سے الگ ہوا جہنم میں الگ ہوا، اسی وجہ سے اس ناجی فرقہ کا نام اہل سنت وجماعت ہوا۔(بہارِ شریعت جہیز ایڈیشن ،حصہ اول،ج ۱، ص۴۸ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)
[4] الدر المختار،مقدمۃ،مطلب:طبقات الفقھائ،ج۱،ص۸۳ دارالفکر،بیروت۔
[5] إحیاء علوم الدین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع