دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aala Hazrat Say Sawal Jawab | اعلٰی حضرت سے سوال جواب

book_icon
اعلٰی حضرت سے سوال جواب

جواب :ابھی بیان ہوچکا ہے ۔

سوال نمبر ۱۲:مسلمانوں کے یہاں سب سے اول درجہ کی کتاب ’’صحیح بخاری ‘‘پھر

’’صحیح مسلم ‘‘ہے یانہیں  ؟

جواب :بخاری و مسلم بھی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ڈھائی سوبرس بعد تصنیف ہوئیں ۔مسلمانوں کے بہت سے فر قے انہیں مانتے ہی نہیں اور اس کے سبب وہ اسلام سے خارج نہ ہوئے،ماننے والوں میں بہت سے لوگ کسی خاص کتاب کو سب سے اول درجہ کی نہیں کہتے، اس کا مدار صحتِ سند پر رکھتے ہیں ۔بعض جوترتیب رکھتے ہیں وہ مختلف ہیں ۔ مشرقی ’’صحیح بخاری‘‘ کو تر جیح دیتے ہیں اور مغربی ’’صحیح مسلم کو‘‘ ، اور حق یہ ہے کہ جوکچھ بخاری یا مسلم اپنی تصنیف میں لکھ گئے سب کو بے تحقیق مان لینا، ان کی بری تقلید ہے جس پر غیر مقلّدین جمع ہوئے ہیں حالانکہ تقلید کو حرام کہتے ہیں ،انہیں خدا اورسول یاد نہیں آتے ۔ خدا اور رسول نے کہاں فرمایا ہے کہ جو کچھ ’’بخاری‘‘ یا’’مسلم‘‘میں ہے سب صحیح ہے۔

سوال نمبر ۱۳:آپ نے جو ا پنا مذہب بیا ن فرمایا ہے ۔ اس مذہب کی ابتدا کب سے ہے ؟

جواب :جب سے اسلام آیا اور احکام اتر ے ۔

سوال نمبر ۱۴:رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کے زمانہ میں یہ مذہب تھا یا نہیں ؟

جواب :تھا ۔

سوال نمبر ۱۵:رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کایہی مذہب تھا یا نہیں ؟

جواب :رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر مذہب حق کے مبداء و مآخذ([1]) ہیں ، ان کا مذہب پوچھنا علماء کے نزدیک کمال حماقت ہے۔ دیکھو’’ تحفۂ اثنا ء عشریہ‘‘ صفحہ نمبر

 ۸۵ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’فقہا صحابہ بھی مآخذ مذ ہب‘‘ ہیں ۔ غرض یہ کہ یہ مذہب

 ان کے ہیں ناکہ وہ ان مذہبوں کے ،نہریں دریاکی ہیں نہ کہ دریا نہروں کے۔

سوال نمبر ۱۶:آپ مقلّد ہیں یاغیر مقلّد  ؟

جواب :مقلّد([2])۔

سوال نمبر ۱۷:آپ تقلید کیوں کرتے ہیں ، یعنی کس مجبوری سے آپ کو تقلید کرنی پڑی؟

جواب :جس مجبوری سے ایک لاکھ سے زائد صحابی مقلّد ہوئے اوراس زمانہ میں عام مسلمان مقلّدہوئے یعنی منصب اجتہاد حاصل نہ کیا۔دیکھوفتح القدیر و فتاوٰی خیریہ([3]) ۔

سوال نمبر ۱۸:آئمۂ اربعہ کس زمانے میں پیداہوئے اور ان کاانتقال کب ہوا؟

جواب :امام ابوحنیفہ اور امام مالک ،زمانۂ صحابہ رضی اﷲتعالٰی عنہم میں پیدا ہوئے اور زمانۂ تابعین میں انتقال فرمایا اور امام شافعی اور امام احمد، زمانۂ تابعین میں پیداہوئے اور زمانہ تبع تابعین میں انتقال فرمایا ۔

سوال نمبر ۱۹:مجتہد کس کو کہتے ہیں ؟

جواب:جوآیات و احکام و اصابتِ احکام وطرقِ حدیث و شذوذو نکارت ونقدِ رجال، اسباب جرح و تعدیل وعللِ غاَمضَہ و وجوہِ نظم وصنوحِ معنٰی و جمیع مبادئ ادبیہ و اصولیہ و ناسخ ومنسوخ ومناہجِ ترجیح وتطبیق  ومناشئ حکم و مقاصدِ شرح ومصالحِ زمن و عوائدِاُ مم و مضانِ حکم واقاویل صحابہ ومواضعِ اجماع ومشارعِ خلاف وعللِ مؤثرہ وجوامعِ مُغیرہ و مساعہ تعدیہ ومواردِ قصروغیرہا وجمعِ مواردِحصر کی معرفت میں دریائے ذخار،نا پیدا کنار ہو اور اس کے ساتھ ذہنِ ثاقب و فکر صائب وطبعِ نقاد،عقل ومقادو توفیقِ خداداد رکھتا ہو کہ جملہ مالہ،وماعلیہ کے لحاظ سے منصوص سے مسکوت کاحکم اپنی رائے سے قائم کرسکے ۔([4])

 



[1]     ابتداء کرنے والے اور پکڑنے والے           

[2]     آئمہ اربعہ میں کسی بھی ایک امام کی تقلید کرنے والے کو مقلِّد کہتے ہیں ۔        

[3]     فتح القدیر،             

[4]     مجتہد وہ ہے جس میں اس قدر علمی لیاقت اور قابلیت ہو کہ قرآنی اشارات ورموز سمجھ سکے اور کلام کے مقصد کو پہچان سکے اور اس سے مسائل نکال سکے ،ناسخ ومنسوخ کا پورا علم رکھتا ہو ،علم صرف ونحو وبلاغت وغیرہ میں اس کو پوری مہارت حاصل ہو ،احکام کی تمام آیتوں اور احادیث پر اس کی نظر ہو اس کے علاوہ ذکی اور خوش فہم ہو،جو اس درجہ پر نہ پہنچا ہو، وہ مجتہدنہیں ۔مجتہد کے چھے طبقے ہیں (i)مجتہد فی الشرع(ii)مجتہد فی المذہب (iii)مجتہد فی المسائل (iv)اصحابِ تخریج(v)اصحابِ ترجیح(vi)اصحاب تمییز(i)مجتہد فی الشرع: وہ حضرات ہیں جنہوں نے اجتہاد کرکے قواعد و اصول بنائے جیسے چاروں آئمہ، امام ابوحنیفہ،امام شافعی ،امام مالک ،اماماحمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اجمعین ۔(ii)مجتہد فی المذہب :وہ حضرات ہیں جو ان اصول میں ان کی تقلید کرتے ہیں اور ان اصول سے مسائلِ شرعیہ فرعیہ خود استنباط کرسکتے ہیں جیسے امام ابویوسف،امام محمد،ابن مبارک (رحمہم اللہ علیہم اجمعین) کہ یہ قواعد میں حضرت امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ عَنْہ کے مقلد ہیں اور مسائل میں خود مجتہد (iii)مجتہد فی المسائل : وہ حضرات ہیں جو قواعد اور مسائل فرعیہ دونوں میں مقلد ہیں مگر وہ مسائل جن کے متعلق آئمہ کی تصریح نہیں ملتی ان کو(قرآن وحدیث) وغیرہ دلائل سے نکال سکتے ہیں جیسے امام طحاوی اور قاضی خاں ،شمس الآئمہ سرخسی وغیرہم۔(iv)اصحابِ تخریج:وہ حضرات ہیں جو اجتہاد تو بالکل نہیں کرسکتے ،ہاں آئمہ میں سے کسی کے مجمل قول کی تفصیل فرماسکتے ہیں جیسے امام کرخی علیہ الرحمۃ وغیرہ (v)اصحابِ ترجیح: وہ حضرات ہیں جواپنے امام صاحب کی چند روایات میں سے بعض کو ترجیح دے سکتے ہیں یعنی اگرکسی مسئلہ میں حضرت امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ عَنْہ کے دو قول روایت میں آئے توان میں سے کس کو ترجیح دیں؟ یہ حضرات وہ کرسکتے ہیں اسی طرح جہاں امام صاحب اور صاحبین کااختلاف ہو تو کس کے قول کوترجیح دے سکتے ہیں کہ یہ بہتر ہے یا وہ ،وغیرہ جیسے صاحب قدوری اور صاحب ہدایہ وغیرہ ۔(iv)اصحاب تمییز: وہ حضرات ہیں جو ظاہر مذہب اور روایات نادرہ ،اسی طرح قول ضعیف اور قوی اور اقوٰی میں فرق کرسکتے ہیں کہ اقوال مردودہ روایاتِ ضعیفہ کوترک کردیں اور صحیح روایات اور معتبرا قوال کو لیں جیسے کہ صاحبِ کنز اور صاحبِ درمختار۔ جن میں ان چھ وصفوں میں سے کچھ بھی نہ ہو وہ مقلد محض ہیں جیسے ہم اور ہمارے زمانے کے عام علماء کہ ان کا صرف یہی کام ہے کہ کتاب سے مسائل دیکھ کر لوگوں کو بتادیں۔(ماخوذ از جاء الحق )           

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن