30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : کئی حرج ہیں ۔ ایک تویہ کہ سنّیوں کے مذہبی مسئلے سے ان کے ساتھ نمازمنع ہے۔دیکھو ’’فتاویٰ الحرمین‘‘ صفحہ ۸۰([1])۔دوسرے یہ کہ سُنِّیوں کومشرک اور ان کے اماموں کوبراکہتے ہیں ،تونماز میں ان کاپاس ہونا، انہیں غیظ آنے کا باعث ہوتا ہے اور اصل مقصود نماز کہ ذکر الٰہی ہے اس میں خلل پڑتا ہے ۔ تیسرے، غیر مقلّدین جب اپنے طریقے سے وضوکریں اور نماز پڑھیں تو ہمارے مذہب میں وہ نماز سے باہر ہیں کیونکہ ان کی نماز اور وضوٹھیک نہیں او ر جونماز سے باہر ہواسے نماز کی صفوں میں کھڑاکرنا گناہ ہے۔
سوال نمبر ۴۲:کیا حنفیوں کو استحقاق([2])اپنے مذہبی مسئلے کی روسے ہے کہ غیر مقلّدوں کواپنی مساجد میں آنے سے روکیں ؟
جواب :ہاں ، کئی وجہ سے استحقاق ہے ۔ اول: ان کے آنے سے فتنہ ہوتا ہے کہ جس کے سبب ملک میں بکثرت فوجداری([3])کے مقدمے ہوئے اور مچلکوں ([4]) وغیرہ تک نوبت پہنچی اور فتنہ کا بند کرنا، عقل و شرع و قانون سب میں واجب ہے ۔ دوم : ان کے آنے سے نمازیوں کو نفرت ہوتی ہے اور جوو جہ نفرت ہو مسجد سے روکا جائے گا۔جیسے جذامی یا وہ جس کا بدن پیپ ہوگیاہو،حالانکہ ان کا اپنا کوئی قصور بھی نہیں تو بدمذہب بدرجۂ اولیٰ روکا جائے گا۔سوم: اُن کے فتنہ کے خوف سے نماز ی مسجد کو چھوڑ بیٹھے تو مسجدویران ہوئی اور نہ چھوڑا اور فتنہ اٹھے تو جیل ،آباد ہوئے ۔ مسجدیں یوں بھی ویران ہوئیں اور غم و غصہ کھایا تو نماز خراب ہوئی ۔
سوال نمبر ۴۳:نصارٰیٔ نجران کا وفدبخدمت حضور سرورعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسجد شریف میں آنا کس حیثیت سے تھا اور حضور نے منع کیوں نہ فرمایا ؟
جواب :نصارٰیٔ نجران امان لے کر حاضر ہوئے تھے اور جو امان لے کر آئے اس سے تعرض جائز نہیں ،اس لئے باوجود اس کے کہ صحابۂ کرام نے ان کو روکنا چاہا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ دیکھو ’’زرقانی شرح مواہب‘‘۔
سوال نمبر ۴۴:مسجد حرام، خواہ اورمساجد میں کفار کاآناامام شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل رضی اﷲتعالٰی عنہم کے نزدیک جائز ہے کہ نہیں ؟
جواب :امام مالک تو مطلقاً اجاز ت نہیں دیتے اور امام شافعی و امام احمد مسجد الحرام میں منع کرتے ہیں اور امام محمد کابھی یہی مذہب ہے اوریہ اختلاف ذمیوں کے بارے میں ہے،جو سلطنتِ اسلام میں مطیعِ اسلام ہو کر رہیں ۔دیکھو جامع صغیر امام محمد، ہدایہ و درمختار([5]) ۔
سوال نمبر ۴۵:امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک کفار کا مسجد میں حقدار بن کر آنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب : نہیں جائز ہے، دیکھو ہدایہ([6])۔
سوال نمبر ۴۶:کفارمستامن پر مدعیان اسلام کا قیاس صحیح ہوسکتاہے یا نہیں ؟
جواب :ہر گز نہیں ۔ ابھی حدیثوں سے گزرا کہ مستا من([7]) کو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مسجد میں آنے سے نہ رو کا اور نماز پڑھنے دی اور کچالہسن اور پیاز کھانے والے مسلمان کومسجد سے منع فر مایا اور قربانی چھوڑنے والے کو حکم ہو ا کہ ہمارے مصلّے کے پاس نہ آئے اور منافقین کلمہ گومدعیان اسلام کو خاص جمعہ کے مجمع میں ایک ایک کانام لے کر مسجد اقدس سے نکلو ادیا کہ’’ اُخْرُجْ یَافُلاَنٌ فَاِنّکَ مُنَافِقٌ۔ أُخْرُجْ یَا فُلاَنٌ فَاِنّکَ مُنَافِق‘‘([8]) نکل جا! اے فلاں کہ تومنافق ہے۔نکل جا! اے فلاں کہ تو منافق ہے ۔
سوال نمبر ۴۷:کسی شخص کا دعوٰی استحقاقِ امامت کا بانیٔ مسجد یااولاد بانیٔ مسجد کے ہوتے ہوئے قابل اعتبار ہے یا باطل ہے اور اولادبانیٔ مسجدکو حق ،امام وموذن وغیرہ کا حاصل ہے یا اوروں کو ؟
جواب : اوروں کو دعوٰی بانیٔ مسجد یا اس کی اولاد کے آگے، خلاف فقہ ہے ۔دیکھو عالمگیری وقاضی خان ([9])۔ اورامام ومؤذن قائم کرنے کا حق بانیٔ مسجد کو ہے اور وہ نہ ہوتو اس کی اولاد کو۔دیکھو’’ حموی شرح اشباہ ‘‘([10])۔
سوال نمبر ۴۸ :تقرر امام میں بحالت اختلاف ،قلت رائے کا اعتبارہے یا کثرت کا ؟
جواب :کثرت رائے کا اعتبارہے یہاں تک کہ اگر جماعت کثیر جسے چاہے، اس سے وہ افضل ہوجسے جماعت قلیل چاہے تووہی مقرر ہوگا جسے جماعتِ کثیرنے چاہا، دیکھو عالمگیری وغیرہ ۔
[1] فتاوٰی الحرمین برجف ندوۃ المین،فصلِ اوّل،عام بدمذہبوں اور خاص الخ ص ۶،ناشررضا اکیڈمی بمبئی
[2] حق
[3] لڑائی جھگڑا یا فساد
[4] تحریری معاہدے
[5] الھدایۃ،کتاب الکراھیۃ/ مسائل متفرقۃ،الجزء الرابع،ص۳۷۹،دار إحیاء التراث والعربی،بیروت، الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الحظر و الإباحۃ،فصل في البیع،ج۶،ص۷۰۵،دار الفکر، بیروت
[6] الھدایۃ
[7] امن چاہنے والا،پناہ مانگنے والا۔یہ فقہ کی ایک اصطلاح ہے جس میں مسلم حکومت کی طرف سے عائد کردہ شرائط کی پابندی کرنے سے کوئی غیرمسلم یا غیر ملکی اس کی پناہ میں آجاتا ہے پھر اس کے جان ومال ،عزت ،آبروکی حفاظت حکومت کے ذمہ ہوجاتی ہے۔
[8] مجمع الزوائد، کتاب التفسیر،الباب۱۰،رقم الحدیث:۱۱۵۳،الجزء السابع، ص۱۱۱،دارالفکر بیروت
[9] الفتاوی العالمکیریۃ،کتاب الصلاۃ، الباب السابع،فصل کرہ غلق باب المسجد،ج۱،ص۱۱، المکتبۃ الرشیدیۃ،کوئٹہ،الفتاوٰی الخانیۃ،کتاب الصلاۃ،باب الأذان،فصل فیمن یصح الاقتداء ألخ، أولین$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع