30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال نمبر ۳۵ :مسجد جو اہلسنّت بنائیں ، وہ خاص اپنے فرقے کیلئے بناتے ہیں یاعام
کلمہ گویوں کے واسطے ؟
جواب:خاص اپنے فرقے کیلئے کہ اُن کی مذہبی مسئلہ سے مبتدعوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی ممانعت ہے دیکھوعرب شریف کافتاویٰ صفحہ ۸۰([1]) جومیں نے داخل کیا ہے ۔
سوال نمبر ۳۶:مبتدع کے ساتھ میل جول کرنے سے منع ہونے کے ازروئے شرع کیا دلائل ہیں ؟
جواب :قرآن مجید میں ہے {وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)}([2]) ، اور اگر تجھے بھلادے شیطان تو یادآنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ تفسیر احمدی میں ہے کہ ظالموں سے مراد کافر مبتدع اور فاسق سب ہیں ’’والقعود مع کلھم ممتنع‘‘([3])یعنی ان سب کے پاس بیٹھنا منع ہے۔
سوال نمبر ۳۷ :اورکوئی روایت ایسی بھی ثابت ہے جس سے مبتدعین کے جنازے کی نماز پڑھنی اور انکے ساتھ نماز پڑھنی منع ہے ؟
جواب :فتاوی الحرمین کے صفحہ ۸۰ پر یہ حدیث ہے ۔ ’’إن مرضوا فلاتعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم‘‘([4]) اور یہ حدیث ہے ۔’’لا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تؤ اکلو ھم ولا تناکحوھم‘‘([5]) اور یہ حدیث ہے ۔ ’’لاتصلوا علیھم ولا تصلوا معھم‘‘([6]) یعنی مبتدع لوگ بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے کونہ جاؤ اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے پر نہ جاؤ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ کھانا پینا ،شادی بیاہ نہ کرو ،ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو ،ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ۔
سوال نمبر۳۸ :کیامسجد میں سب مسلمانوں کاحق ہوتا ہے اور مسلمان کسے کہتے ہیں ؟
جواب :مسلمان وہ ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی امّت ہو ۔ امّت کے دومعنٰی ہیں ۔ ا مّتِ دعوت، جنہیں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حق کی طرف بلایا۔ یوں توتمام عالم، ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی امّت ہیں اور امّت اجابت، وہ جنہوں نے بُلا نا قبول کیا اور حق کو پورا مانا، جب امت ،مطلق بولتے ہیں ۔یہی دوسرے معنٰی مراد ہوتے ہیں ۔اس معنٰی پر جو مسلمان ہے اس کے لئے مسجد میں حق ہے مگر مبتدع اس معنٰی میں داخل نہیں ۔ دیکھو ’’توضیح ‘‘امام صدرالشریعہ([7]) اور ’’ تلویح‘‘([8]) امام تفتازانی ۔
سوال نمبر ۳۹ :کیاسب مسلمان جو امت اجابت ہوں یعنی اہلسنّت ہوں ، ان سب کا حق مسجد میں برابر ہے ؟
جواب :ان سب کاحق بھی برا بر نہیں ۔بلکہ جومسجد جس قبیلے کے لئے بنے، اس کا حق اس میں مقدم ہے ۔وہ وقتِ حاجت، اوروں کو اس میں نماز پڑھنے سے روک سکتے ہیں ۔ دیکھو درمختار([9]) ۔
سوال نمبر ۴۰ :کسی وجہ اور کسی مصلحت سے مسلمان کو، جس کاحق مسجد میں تھا، نکال دینا جائز ہے یا نہیں ؟ اور روکنے والابموجب آیت شریف}وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ }الآیۃ([10]) کے، ظالم کہلائے گا یا نہیں ؟
جواب : بہت سی صورتوں میں مسلمان کو مسجد سے روکنا اور نکال دینا شریعت نے جائزرکھا ہے بلکہ حکم دیاہے، ازاں جملہ لہسن اور کچی پیاز کھانے والا اورحدیث میں ہے ’’من وجب سعۃ ولم یضح فلا یقربن مصلانا‘‘([11]) ۔ جو گنجائش پائے اور قربانی نہ کرے ، وہ ہمارے مصلے کے پاس نہ آئے۔ دیکھو ابن ماجہ۔ فقہ میں حکم ہے کہ موذی شخص کو مسجد سے نکال دیا جائے۔جس کے آنے سے برہمی پیدا ہوتی ہے ۔ دیکھواشباہ اور درمختار، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری([12]) اور آیت شریف میں فاسق([13]) بلاوجہ شرعی مسجدوں سے لوگوں کو بازرکھ کرانہیں ویران کردینے کی برائی کا بیان ہے،ورنہ خود اسی آیت میں مفسدوں کی نسبت فرمایا ہے کہ انہیں مسجد میں آنے کا حق نہیں ہے مگرڈرتے ہوئے([14])۔
سوال نمبر ۴۱:غیرمقلّدین اگرسنّیوں کی جماعت میں آکر شریک ہوں توسنّیوں کا کوئی مذہبی حرج ہے ؟
[1] فتاوٰی الحرمین برجف ندوۃ المین،فصلِ اوّل،عام بدمذہبوں اور خاص الخ ص۶،ناشررضا اکیڈمی بمبئی۔
[2] پ ۷،الانعام: ۶۸
[3] التفسرات الأحمدیۃ،پ۷،الأنعام:۶۸،ص۳۸۸،مکتبہ اکرمیہ،محلہ جنگی،عقب،قصّہ خوانی بازار،پشاور۔
[4] ۴۔کشف الخفائ،الجزء الأول، ص۳۹۱، رقم الحدیث ۱۴۳۹دارالکتب العلمیہ،بیروت
[5] کتاب الضعفائ، باب الألف ،رقم الحدیث ۱۵۴،ا لجزء الأوّل، ص۱۴۴، دارالصمیعي السّعودیۃ
[6] العلل المتناھیۃ،کتاب السنۃ و البدع، باب ذم الرافضۃ،الجزء الأوّل، ص $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع