دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aakhri Nabi Ki Piyari Seerat | آخری نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری سیرت

Wajood e Mustafa Ki Barkaten

book_icon
آخری نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری سیرت

وُجُودِ مُصْطَفٰے کی برکتیں

بی بی حلیمہ رضی اللہ عنہا آپ کی برکتوں کو یوں بیان فرماتی ہیں : ☆میرا قبیلہ ’’بنی سَعْد “  قَحْط میں مبتلا تھا ، جب   میں آپ کو لے کر اپنے قبیلے میں پہنچی تو قَحْط دور ہوگیا ، زمین سَر سَبْز ، درخت پھلدار اور جانور موٹے تازے ہوگئے۔ ☆ایک دن میری پڑوسن مجھ سے بولی : اے حلیمہ! تیرا گھر ساری رات روشن رہتا ہے ، اِس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا : یہ روشنی کسی چراغ کی وجہ سے نہیں ، بلکہ (حضرت) محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے نورانی چہرے کی وجہ سے ہے۔ ☆میرے پاس 7 بکریاں تھیں ، میں نے آپ کا مُبارَک ہاتھ اُن بکریوں پر پھیرا تو اِس کی بَرَکت سے بکریاں اتنا دودھ دینے لگیں کہ ایک دن کا دودھ 40 دن کے لئے کافی ہوجاتا تھا۔ اِتنا ہی نہیں میری بکریوں میں بھی اِتنی برکت ہوئی کہ سات سے 700 ہوگئیں۔ ☆قبیلے والے ایک دن مجھ سے بولے : ان کی برکتوں سے ہمیں بھی حصّہ دو! چنانچہ میں نے ایک تالاب میں آپ کے مُبارَک پاؤں ڈالے اور قبیلے کی بکریوں کو اُس تالاب کا پانی پلایا تو ان بکریوں نے بچے پیدا کئے اور قوم ان کے دودھ سے خوشحال و مالدار ہوگئی۔ ☆آپ کو لڑکے کھیلنے کے لئے بلاتے تو ارشاد فرماتے : مجھے کھیلنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔ ☆آپ میرے بچّوں کے ساتھ جنگل جاتے اور بکریاں چَرایا کرتے تھے۔ ایک دن میرا بیٹا مجھ سے بولا : امّی جان! (حضرت) محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) بڑی شان والے ہیں ، جس جنگل میں جاتے ہیں ہَرا بھرا ہوجاتا ہے ، دھوپ میں ایک بادل اِن پر سایہ کرتا ہے ، ریت پر آپ کے قدم کا نشان نہیں پڑتا ، پتّھر اِن کے پاؤں تلے خمیر (گُندھے ہوئے آٹے)کی طرح نرم ہوجاتا  اور اُس پر قدم کا نشان بن جاتا ہے ، جنگل کے جانور آپ کے قدم چومتے ہیں۔  

بنو سعد میں قیام کی مدت اور واپسی

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا اور ان کا خاندان قدم قدم پر اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی برکتوں کا مشاہدہ کرتا رہا ، ان سے خوب فیض پاتا رہا  اور اپنا مقدر سنوارتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو سال مکمل ہو گئے ، حضرت حلیمہ نے آپ کا دودھ   چھڑا دیا اور معاہدے کے مطابق آپ کو آپ  کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئیں ، انہوں نے حسبِ توفیق  حضرت حلیمہ کو انعام و اکرام سے نوازا۔ آپ کی برکتیں دیکھ کر حضرت حلیمہ کا دل مچلتا کہ آپ مزید ان کے پاس ان کے قبیلے میں رہیں ، عجب اتفاق کہ انہی ایام میں مکہ شریف میں ایک وبائی مرض کا دور دورہ تھا۔ حضرت حلیمہ نے وبائی بیماری سے بچانے کیلئے حضرت آمنہ کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ حضور کو مزید کچھ مدت کیلئے ان کے قبیلے بھیج دیں۔ یوں حضرت حلیمہ کی دلی مراد بر آئی (یعنی مقصد پورا ہوا) اور ایک بار پھر بی بی آمنہ کے چاند سے ان کا آنگن روشن ہوگیا اور  اللہ کے آخری نبی علیہ السَّلام کے وجودِ مسعود کی بدولت  ان کا مکان دوبارہ سے رحمتوں اور برکتوں کی کان بن گیا۔ آپ تقریباً چار سال تک قبیلہ بنو سعدمیں برکتیں لُٹاتے رہے۔ وہاں آپ نے اپنے رضاعی بہن بھائیوں کے ساتھ بکریاں بھی چرائیں۔ بکریاں چراگاہوں میں لے جا کر ان کی دیکھ بھال کرنا یہ تقریباً تمام انبیائے کرام علیہمُ السَّلام  کی سنت ہے۔ آپ نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں اپنی ایک خصلتِ نبوت کا اظہار فرما دیا۔   قبیلہ بنوسعد میں جب پہلا شقِ صدرہوا اس سے گھبرا کر حضرت حلیمہ آپ کو بی بی آمنہ کے پاس لائیں اور ان کے سپرد کر دیا۔ اس کے بعد آپ اپنی والدہ پاک کی آغوش میں پرورش پانے لگے۔ 
تیسرا باب
رَسُولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  
کا لڑکپن
Blessed Boyhood 
of the
Holy Prophet

والدہ کا وصال پر ملال

اللہ کے آخری نبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عمر مبارک جب 6برس ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو ساتھ لے کر مدینہ شریف میں آپ کے والد کے ننھیال سے ملانے گئیں ، اس سفر میں بی بی امِّ ایمن بھی ساتھ تھیں ۔  بی بی اُمِّ ایمن آپ کے والد کی کنیز تھیں۔  واپسی پر ابواء  کے مقام پر آپ کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور وہیں تدفین ہوئی۔ باپ کا سایہ پہلے اٹھ چکا تھا اور اب ماں کی آغوشِ شفقت و محبت بھی چھوٹ گئی۔ حضرت امِّ ایمن نے آپ کے آنسو پونچھے ، آپ کو تسلی دی اور واپس مکہ شریف لا کر آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب کے سپرد کر دیا۔ 

والدین کے وصال کے بعد

  والدَین کے وصال کے بعد آپ کی پرورش آپ کے دادا جان کے یہاں ہوئی۔ ان کا نام عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہے ، یہ مکہ کے سردار تھے ، آپ سے بڑی محبت کرتے ، ہر وقت انہیں اپنے ساتھ رکھتے ، جب کہیں بیٹھتے تو اپنے ساتھ بٹھاتے ، کھانا اپنے ساتھ کھلاتے ، رات کو اپنے پہلو میں سلاتے۔ صحنِ کعبہ میں ان کے بیٹھنے کیلئے ایک تخت رکھا جاتا ، کسی بڑے سے بڑے آدمی کی مجال نہ تھی اس پر قدم رکھتا ، لیکن جب اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تشریف لاتے تو بلاجھجک اپنے داداجان کی نشست پر بیٹھنے کیلئے آگے بڑھ جاتے۔   جب  آپ کی عمر مبارک 8 سال کی ہوئی تو ان کا بھی وصال ہوگیا۔    پھر آپ کی پرورش آپ کے چچا ابوطالب کے یہاں ہوئی۔ آپ کے مبارک بچپن کے متعلق ابو طالب کا کہنا ہے :  میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کسی وقت بھی کوئی جھوٹ بولے ہوں یا کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہو ، یا کبھی کسی کو کوئی ایذا پہنچائی ہو ، یا بیہودہ بچوں کے پاس کھیلنے کے لئے گئے ہوں یا کبھی خلافِ تہذیب بات کی ہو۔ ہمیشہ انتہائی خوش اخلاق ، نیک اطوار ، نرم گفتار ، بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے پارسا اور پرہیز گار رہے۔  

لڑکپن کی برکتیں

آپ آٹھ سال کی عمر میں اپنے چچا ابو طالب کے گھر ان کی کفالت میں آئے تو یہاں بھی خیر وبرکت کی بارشیں ہونے لگیں ، یہ اپنے بچوں سے زیادہ آپ سے پیار کرتے ، اپنی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے ،  ابو طالب کابیان ہے کہ (سرکار علیہ السَّلام سے پہلے ) جب بھی  میرے  بچے کھانا کھاتے تو سیر نہ ہوتے ، لیکن  جب  سے حضور ان کے ساتھ کھانا تَناوُل فرماتے تو  سارے بچے  شکم سیرہو جایا  کرتے تھے ، اس لئے  جب بھی میں  اپنے بچوں کو کھانا  دینا چاہتا تو  کہتا : رُک جاؤ! میرے بیٹے(محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کوآنے دوپھر کھانا شروع کرنا۔ اسی طرح جب بھی بچوں کو دودھ پلانا ہوتا تو  آپ کو پہلے پِلایا جاتا پھر بچوں کو دیا جاتا۔ اگر  اس کے بیٹوں میں سے پہلےکوئی پی لیتا تو  وہ سارا برتن  اکیلا  ہی ختم کردیتا۔ ابو طالب یہ دیکھ کرکہتے : اے محمد! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمہاری برکتوں کاکیا کہنا۔    

يمن كا سفر

جب آپ کی عمرمبارک دس (10)سال کی تھی تو آپ اپنےچچا زُبیر کے ہمراہ  یمن کی طرف عازمِ سفر ہوئے ، یہاں راستے میں ایک عجیب واقعہ ہوا کہ کسی وادی میں ایک اُونٹ  لوگوں کو  گزرنے سے روک رہا  تھا ،  جب اس  اُونٹ نے آپ کو دیکھا تو  بیٹھ  گیا  اور اپنا سِینہ زَمِین پر  رَگڑنے  لگا  تو آپ اپنے اُونٹ  سے  اُتر کر اس پر سوار  ہوئے اور    جب وادی  کے دوسری طرف پہنچ گئے تو اس اونٹ کو چھوڑ دیا۔  جب  سَفر سے لوٹے تو  دیکھا کہ وادی پانی  سے  بھری ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا : تم میرے پیچھےآجاؤ ، آپ اس وادی میں تشریف لےگئےاورسب قُرَیْش آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگے ، اللہ پاک نے پانی خشک فرمادیا۔ جب لوگ مکہ  واپس آئے   تو  سب کو یہ واقعہ سُنایا ، جسے سُن کر  انہوں نےکہا  اس بچہ کی شان  نرالی   ہے۔  

شام کا پہلا تجارتی سفر

آپ کی عمر مبارک جب 12 برس ہوئی تو آپ نے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ شام کی طرف پہلا تجارتی سفر فرمایا۔ جب قافلہ شہرِ بُصریٰ پہنچا تو   وہاں کے ایک راہب بَحِیْرا جس کا اصل نام “ برجیس “ تھا اس سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ اس نے آپ کو علاماتِ نبوت سے پہچان لیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر یہ اعلان کرنے لگا : یہ تمام جہانوں کے سردار ہیں ، یہ ربُّ العالمین کے رسول ہیں ، اللہ کریم انہیں رحمۃٌ للعالمین (تمام جہانوں کیلئے  رحمت) بنا کر بھیجے گا۔ پھر اس نے آپ اور اہلِ قافلہ کیلئے کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس دعوت میں اس نے مزید کچھ علاماتِ نبوت دیکھیں۔ اس نے ابوطالب سے کہا : انہیں شام مت لے جاؤ۔ اگر اہلِ شام نےانہیں علاماتِ نبوت سے پہچان لیا تو انہیں قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہٰذا آپ اسی مقام سے واپس تشریف لے آئے۔ اس راہب نے آپ کو سفر کیلئے کچھ سامان بھی دیا۔   

مزید تجارتی اسفار

اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تجارت کی غرض سے کئی سفروں پر تشریف لے گئے۔ دس برس کی عمر میں اپنے چچا حضرت زبیر بن عبدالمطلب کے ساتھ یمن کا بھی تجارتی سفر فرمایا۔   آپ نے جو تجارتی  سفر حضرتِ خدیجہ رضی اللہ عنہا کیلئے کئے ، ان میں سے  دو  سفر یمن  کی جانب بھی تھے۔ چنانچہ روایت میں ہے : حضرتِ خدیجہ نے آپ کو جُرَش(یمن میں ایک مقام)کی طرف دوبارتجارت کیلئے بھیجا اور ان میں سے ہر سفر ایک اونٹنی کے عوض تھا۔     

حِلفُ الفضول میں شرکت

شہرِ زُبید کا ایک شخص اپنا ما ل بیچنے مکہ شہر میں آیا۔ عاص بن وائل نام کے ایک شخص نے اس سے مال خریدا مگر قیمت نہ دی۔ اس تاجر نے کچھ قبیلوں سے فریاد کی مگر کسی نے اسکی مدد نہ کی۔ پھر یہ شخص جبل ابوقبیس  پر چڑھ گیا اور سب سے فریاد کی۔ اس پر قریش کے کچھ صلح پسند لوگوں نے ایک اصلاحی تحریک چلائی۔ قریش کے بڑے بڑے سردار عبداللہ بن جدعان کے گھر پر جمع ہوئے ، وہاں نبی كريم   علیہ السلام کے چچا زبیر بن عبدالمطلب نے یہ تجویز پیش کی کہ ہمیں باہمی معاہدہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ قریش کے سرداروں نے ایک معاہدہ کیا اور پکا اردہ کر لیا کہ ہم بے امنی کا خاتمہ ، مسافروں کی حفاظت ، غریبوں کی امداد ، مظلوم کی حمایت اور ظالم کا محاسبہ کریں گے۔ اس معاہدہ میں آپ بھی شریک ہوئے۔ اعلانِ نبوت کے بعد بھی آپ اس معاہدہ میں شرکت پر مسرت كااظہار  کرتے اور فرماتے : اس معاہدہ سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس معاہدہ کے بدلے میں کوئی مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیتا تو مجھے اتنی خوشی نہیں ہوتی۔ آج بھی اگر کوئی مظلوم اس معاہدے کے تحت مجھے مدد کیلئے پکارے تو میں اس کی مدد کیلئے تیار ہوں۔    اس معاہدہ کو “ حِلفُ الفضول “ کے نام سے موسوم کیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ بہت پہلے مکہ میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدہ کا سبب بننے والوں میں سب کا نام “ فضل “ تھا۔ اسی وجہ سے اس معاہدہ کا نام “ حلف الفضول “ یعنی ان چند آدمیوں کا معاہدہ جن کے نام “ فضل “ تھے۔  
چوتھا باب
رَسُولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کی  جوانی
Blessed Youth 
of the
Holy Prophet

دوسرا سفرِ شام

اللہ کے آخری نبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ابتدا سے ہی بہترین کردار کے مالک تھے۔ جب آپ کی عمر مبارک 25سال ہوئی تو آپ کی صداقت اور دیانت کے ہر طرف چرچے ہونے لگے۔ مکہ کی فضاؤں میں آپ کے لقب “ صادق وامین “ ہر طرف گونجنے لگے۔ شہرِ مکہ کی ایک معزز اور مالدار خاتون تھیں جن کا نام تھا  “ خدیجہ “ انہیں ایسے امانت دار شخص کی ضرورت تھی جو ان کا مال ملکِ شام لے کر جائے اور وہاں فروخت کر کے نفع کما کر لائے۔ آپ کی امانت و صداقت کی شہرت جب حضرت خدیجہ تک پہنچی تو انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرا مالِ تجارت  ملکِ شام    لے کر جائیں!  جومعاوضہ میں دوسروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا دوگنا
(Double) 
دوں گی۔ آپ نے ان کی یہ درخواست قبول فرما لی اور تجارت کا سامان اور مال لے کر ملکِ شام روانہ ہو گئے۔ اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا غلام “ مَیْسَرہ “  بھی آپ کے ساتھ تھا جو آپ کی خدمت اور دیگر ضروریات پوری کرتا تھا۔  ایک بار پھر جب آپ ملکِ شام کے مشہور شہر “ بُصریٰ “ پہنچے تو وہاں “ نسطورا “ راہب کی عبادت گاہ کے قریب قیام فرمایا۔  وہ راہب میسرہ کو پہلے سے جانتا تھا ، اسی بنیاد پر وہ اس کے پاس آیااور آپ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا : یہ کون ہیں جواس درخت کے نیچے اترے ہیں؟ میسرہ نے جواب دیا : یہ شہرِ مکہ کے رہنے والے ہیں ، بنوہاشم سے تعلق ہے ، ان کا نام “ محمد “ ہے اور لقب “ امین “ ہے۔   راہب کہنے لگا : سوائے نبی کے آج تک اس درخت کے نیچے کوئی نہیں اترا۔ پھر اس نے پوچھا : کیا ان کی آنکھوں میں سرخی رہتی ہے؟ میسرہ نے جواب دیا : ہاں ہے اور وہ ہر وقت رہتی ہے۔ یہ سن کر نسطورا کہنے لگا : یہی اللہ کے آخری نبی  ہیں ، مجھے ان میں وہ تمام نشانیاں نظر آ رہی ہیں جو توریت و زبور میں پڑھی ہیں۔ کاش! میں اس وقت زندہ ہوں جب یہ اپنی نبوت کا اعلان فرمائیں گے ، اگر میں زندہ رہا تو ان کی بھرپور مدد کروں گا اور ان کی خدمت میں پوری زندگی گزار دیتا۔ اے میسرہ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی ان سے جدا مت ہونا ، ان کی خدمت کرتے رہنا ، کیونکہ اللہ پاک نے انہیں  نبوت کا شرف عطا فرمایا ہے۔ 
آپ سامانِ تجارت بیچ کر جلد واپس تشریف لے آئے۔ جب آپ کا قافلہ مکہ واپس پہنچا تو اس وقت حضرت بی بی خدیجہ مکان کی چھت پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا کہ اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر دو فرشتے دھوپ سے سایہ کئے ہوئے ہیں ،  اس منظر نے حضرت خدیجہ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ کچھ دن کے بعد انہوں نے اپنے غلام میسرہ سے اس بات کا ذکر کیاتو میسرہ نے  بتایا کہ میں تو پورے سفر میں اسی طرح کے مناظر دیکھتا رہا ہوں ، پھر میسرہ نے اس طویل سفر میں آپ کی صداقت و دیانت ، حُسنِ سلوک و غمخواری ، معاملہ فہمی و کاروباری مہارت کے جو روح پرور مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے وہ بیان کئے ، نسطورا راہب جس طرح آپ پر فدا ہو گیا تھا اور آپ کے مستقبل کے بارے پیش گوئیاں کی تھیں یہ بتایا ، یہ سن کر حضرت خدیجہ کے دل میں آپ کیلئے عقیدت و محبت پیدا ہو گئی۔ 

حضرتِ خدیجہ سے نکاح

حضرت خدیجہ مکہ کی مالدار اور بہت محترم و معزز خاتون تھیں۔ آپ کا تعلق قبیلۂ قریش کی شاخ بنو اسد بن عبد العزی سے تھا ، ان کا سلسلۂ نسب تین واسطوں سے رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملتا ہے  ۔   اہلِ مکہ انہیں ان کی پاکدامنی کہ وجہ سے طاہرہ یعنی پاکباز کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ ان کی عمر اس وقت 40 سال ہو چکی تھی۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے دونوں شوہر انتقال کر گئے تھے۔ بڑے امیر و کبیر افراد نے ان کو شادی کے پیغامات بھیجے لیکن انہوں نے تمام پیغامات کو واپس کردیا اور یہ طے کر لیا تھا کہ اب نکاح نہیں کریں گی۔ لیکن آپ کے اخلاق ، عادات ، برکات اور حیرت انگیز واقعات سن کر   ان کا دل آپ سے نکاح کی طرف مائل ہوا۔ انہوں نےاللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پھوپھی حضرت صفیہ کو بلایا۔ حضرت صفیہ ، بی بی خدیجہ  رضی اللہ عنہا کے بھائی عوام بن خویلد کی بیوی تھیں۔ انہیں بلا کر ان سے آپ کے کچھ ذاتی حالات کے بارے میں معلومات لیں۔ پھر سرِ شام سے واپسی کے تقریباً تین ماہ بعد  انہوں نے آپ کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس رشتہ کو پسند کرنے کی وجہ خود حضرت خدیجہ یوں بیان فرماتی ہیں : میں نے آپ کے اچھے اخلاق اور آپ کی سچائی کی وجہ سے آپ کو پسند کیا۔ آپ نے اس درخواست کو اپنے خاندان کے بڑوں اور اپنے چچاؤں کے سامنے رکھا ۔ انہوں نے یہ رشتہ منظور کر لیا۔ آپ کا نکاح ہوا جس میں آپ کے چچا ابوطالب نے خطبہ پڑھا اور اپنے مال سے بیس اونٹ حق مہر مقرر کیا۔    حضرت خدیجہ تقریباً 25 سال تک حضور علیہ السلام  کی خدمت میں رہیں۔ ان کی زندگی میں آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہ فرمایا۔ رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ایک فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا باقی ساری اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ حضرت خدیجہ نے اپنی ساری دولت آپ کے قدموں میں نثار کر دی اور ساری عمر آپ کی خدمت کرتے گزاری۔    

تعمیرِ کعبہ میں کردار

اللہ کے آخری نبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عمر مبارک جب 35 برس ہوئی تو زبردست بارش سے حرمِ کعبہ میں سیلابی پانی آ گیا۔  اس سے کعبہ شریف کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور اس کا کچھ حصہ بھی گر گیا۔ قریش نے طے کیا کہ مکمل عمارت کو توڑ کر پھر سےکعبہ کی ایک مضبوط عمارت بنائی جائے جس کا دروازہ بھی بلند ہو اور اس کی چھت بھی ہو۔     چنانچہ قریش نے مل جل کر اس کام کو شروع کر دیا۔ اس تعمیر میں آپ بھی شریک ہوئے اور پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے رہے۔ مختلف قبیلوں نے کعبہ شریف کی عمارت کے مختلف حصے آپس میں تقسیم کر لیے۔ لیکن جب حجرِ اسود رکھنے کا مرحلہ آیا تو  فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ، قبیلوں کا آپس میں سخت اختلاف ہوگیا۔ 
ہر قبیلے کی خواہش تھی کہ حجرِ اسود کو نصب کرنے کا اعزاز اسے حاصل ہو ، اگر کوئی قبیلہ اس میں رکاوٹ بنے تو تلوار کے زور سے اس کا راستہ روکا جائے۔ چار دن اسی بات میں گزر گئے کہ حجرِ اسود کون نصب کرے گا۔ ایک بوڑھے شخص نے اس جھگڑے کو ٹالنے کیلئے یہ تجویز پیش کی کہ کل جو شخص صبح سویرے سب سے پہلے حرمِ مکہ میں داخل ہو اسی سے ہم اپنا فیصلہ کروائیں گے۔ وہ جو فیصلہ دے سب قبائل اسے تسلیم کریں گے۔ اس بات پر تمام قبائل کا اتفاق ہوگیا۔  خدا کی شان کہ صبح کو جو شخص سب سے پہلے حرمِ مکہ میں داخل ہوا وہ نبیِ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہی تھے۔  آپ کو دیکھتے ہی ان کی مسرت کی انتہا نہ رہی ، سب کہنے لگے : یہ امین ہیں ، یہ جو بھی فیصلہ فرمائیں گے ہم تسلیم کریں گے۔ آپ نے اس جھگڑے کو کمال دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس طرح ختم کیا کہ فرمایا : جو قبیلے حجرِ اَسْوَد رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں وہ اپنا ایک ایک سردار چن لیں۔ انہوں نے اپنے اپنے سردار چن لیے۔ پھر آپ نے اپنی چادر مبارک کو بچھا کر حجرِ اسود کو اس پر رکھا اور سرداروں سے فرمایا کہ وہ سب مل کر اس چادر کو تھام کر حجرِ اسود کو اٹھائیں   ۔ سب نے ایسے ہی کیا اور جب حجرِ اسود اپنے مقام تک پہنچ گیا تو آپ نے برکت والے  ہاتھوں سے اس مقدس پتھر کو اٹھا کر اس کی جگہ رکھ دیا۔ اس طرح آپ کی حکمت اور دانشمندی سے فتنہ و فساد کے شعلے بھی بجھ گئے اور سب کے دلوں میں مسرت و شادمانی کی لہر بھی دوڑ گئی۔    

اب تک کا غیرمعمولی کردار

اللہ کے آخری نبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تمام زندگی اعلانِ نُبوّت سے پہلے بھی  بہترین اخلاق و عادات کا مجموعہ تھی۔ سچائی ، دیانتداری ، وفاداری ، وعدے کی پابندی ، بڑوں کی عظمت ،  چھوٹوں سے شفقت ، کمزوروں سے ہمدردی ، مہربانی و سخاوت ، دوسروں کی خیرخواہی ، رحمدلی و نرمی اَلْغَرَض!تمام نیک باتوں اور اچھی عادتوں میں آپ بے مثل و بے مثال تھے۔ حِرص ، فریب ، جھوٹ ، بدعہدی ، شراب خوری ، ناچ گانا ، لوٹ مار ، چوری ، فحش گوئی وغیرہ وغیرہ جیسی بری عادتیں جو زمانَۂ جاہلیت میں بہت عام تھیں آپ کی ذاتِ گرامی ان تمام باتوں سے پاک و صاف رہی۔ بلکہ آپ کی شان یہ ہے کہ عرب کے اس گرے ہوئے معاشرے میں بھی آپ کی شرافت ، امانت ، دیانت اور صداقت کا دور دور تک شُہرہ تھا۔ مکہ کے لوگوں کے دلوں میں آپ کے اخلاق کی وجہ سے آپ کی ایک خاص عزت تھی۔ آپ کی عمر مبارک تقریباً 40سال  ہو گئی لیکن جاہلیت کے تمام بیہودہ ، مشرکہ اور جاہلانہ کاموں سے آپ کا دامن پاک رہا۔ شہرِ مکہ جہاں بت پرستی ایسی عام تھی کہ خود خانَۂ کعبہ میں 360بت موجود تھے جن کی پوجا ہوتی تھی آپ نے کبھی ان بتوں کے آگے سر نہیں جھکایا ۔ آپ کی گزاری ہوئی اس زندگی کا کمال تھا کہ اعلانِ نبوت کے بعد آپ کے دشمنوں نے بڑی کوشش کی کہ کوئی چھوٹا سا عیب آپ کی زندگی کے کسی دور میں مل جائے ، کوئی کمزور بات آپ کی اب تک کی  زندگی میں ثابت ہو جائے  تو اسے سامنے لاکر آپ کی عزت و وقار پر حملہ کیا جائے اور آپ کو لوگوں کے سامنے کمتر ثابت کیا جائے۔ مگر آپ کے ہزاروں دشمن سوچتے سوچتے تھک گئے لیکن کوئی ایک بھی ایسا واقعہ  نہیں مل سکا جس سے آپ کے کردار پر انگلی اٹھاتے۔ اس لیے جیسے ہی آپ نے اعلانِ نبوّت فرمایا خوش بخت لوگ آپ کا کلمہ پڑھ کر دل و جان آپ پر  قربان کرنے لگے۔ 
پانچواں باب
وحی اور تبلیغِ اسلام
کے مراحل 
Divine Revelation 
and the 
Stages of Preaching Islam 
 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن