دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

        عین وفات کے وقت ان کے سرہانے حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تشریف فرماتھے جانکنی کے عالم میں انہوں نے آخری بار جمال نبوت کا دیدار کیا اور نہایت جوشِ محبت اور جذبہ عقیدت سے والہانہ انداز میں یہ کہا کہ السلام علیک یارسول اللّٰہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تبلیغ رسالت کا حق پورا پورا ادا فرمادیا۔(مدارج النبوۃ      ج۲ص۱۸۱)

اس کے بعد فوراً ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات ہوگئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا سال وفات   ۵ھ ہے۔بوقت وفات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عمر شریف ۳۷ برس کی تھی۔ ([1])   

  (اکمال ص۵۹۶ واسد الغابہ ج۲ص۲۹۸)

(۱۳) حضرت مسور بن مخرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        یہ صحابی ہیں ، ان پر خوفِ الہی  عَزَّ وَجَلَّ کا اتنا غلبہ تھا کہ یہ قرآن مجیدسننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔کسی آیت کو سنتے تو ان کی چیخ نکل جاتی تھی اور کئی کئی دنوں تک بے ہوش ہوجایا کرتے تھے ۔ایک مرتبہ قبیلہ خثعم کا ایک قاری آیا اور ان کے سامنے یہ آیت پڑھ دی کہ

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ(۸۵) وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ(۸۶) ([2])

یعنی اس دن کو یاد کرو جبکہ ہم متقیوں کو مہمان بنا کر رحمن کے دربار میں جمع کریں گے اور مجرموں کو ہانک کر جہنم میں پیاسا لیجائیں گے   

تو اس آیت کو سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ اس آیت کو پھر پڑھ چنانچہ قاری نے دوبارہ اس آیت کو پڑھا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک زور دار چیخ ماری اور فوراً ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روح اقدس عالم بالا کو پرواز کرگئی۔([3]) (احیاء العلوم ج۴ص۱۶۰)

(۱۴) حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی مشہور ہوش مند اور نہایت ہی عقل مند صحابی ہیں ۔ انہوں نے مصر کو فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں فتح کیا، اور برسوں وہاں کے گورنر رہے۔ ان کی دانائی اور بہادری کے واقعات سے تاریخ کے صفحات بھرے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اپنی وفات کے وقت بے قرار ہو کر اپنے بیٹوں کے صندوقوں کی طرف حقارت کے ساتھ دیکھا جو اشرفیوں سے بھرے ہوئے تھے اور فرمایا کہ’’کون ہے جو ان صندوقوں کو لے گا، کاش! ان صندوقوں میں اشرفیوں کی جگہ جانوروں کی مینگنیاں بھری ہوتیں ۔‘‘ ([4]) اتنا کہہ کر فوراً آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روح پرواز کر گئی۔ آخر ی سانس تک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہوش و حواس قائم رہے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گفتگو کرتے رہے۔             (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)

(۱۵) حضرت عبید ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        ۲ ھ جنگِ بدر میں حضرت عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عتبہ کے بھائی شیبہ کافر سے دست بدست جنگ کی۔ شیبہ نے حضرت عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس طرح زخمی کردیا  کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر بیٹھ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جھپٹے اور آگے بڑھ کر شیبہ کافر کو قتل کردیا اور حضرت عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنے کاندھے پر اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے۔ ان کی پنڈلی چور چور ہوگئی تھی اور نلی کا گودا بہہ رہا تھا۔اس حالت میں انہوں نے عرض کیا کہ یارسول  اللہ !  عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا میں شہادت سے محروم رہا؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا نہیں ۔ ہرگز نہیں بلکہ تم شہادت سے سرفرازہوگئے۔ حضرت عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ یارسول  اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اگر آج میرے اور آپ صلی  اللہ   تَعَالٰی  علیہ واٰلہ وسلم کے چچا ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ مان لیتے کہ ان کے اس شعر کا مصداق میں ہوں ۔

 ونسلمہ  حتی  نصرع  حولہ

ونذھل عن ابناء نا والحلائل

        یعنی ہم محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس وقت دشمنوں کے حوالے کریں گے جب ہم لڑلڑ کر ان کے گرد پچھاڑ دیئے جائیں گے اور ہم اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول جائیں گے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ کہا اور فوراً ہی آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    کا وصال ہوگیا۔([5])  (ابوداود ج۲ص۳۶۱وزرقانی علی المواہب ج۱ص۴۱۸)

(۱۶) حضرت سعد بن الربیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرت زیدبن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ جنگِ اُحد کے میدان میں حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے میں حضرت سعد بن الربیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی لاش کی تلاش میں نکلا تو میں نے ان کو سکرات کے عالم میں پایا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ ’’تم رسول  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے میرا سلام کہہ دینا اور اپنی قوم (انصار) سے بعد سلام میرا یہ پیغام سنا دینا کہ جب تک تم میں سے ایک آدمی بھی زندہ ہے۔ اگر رسول  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک کفار پہنچ گئے تو خدا  عَزَّ وَجَلَّ کے دربار میں تمہارا کوئی عذر بھی قابلِ قبول نہ ہوگا۔‘‘ آپ



[1]       مدارج النبوت،  باب چہارم،  غزوہ بنی قریظہ،  ج۲،  ص۱۸۱۔  اکمال مع مشکوٰۃ المصابیح، حرف السین، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۶

[2]       ترجمۂ کنزالایمان   : جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔  (پ۱۶، مریم: ۸۵، ۸۶)

[3]       احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ،  بیان احوال الصحابۃ والتابعین  والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف،  ج۴، ص۲۲۷

[4]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن