دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

کاتراشہ محفوظ ہے ان مقدس بالوں اور ناخنوں کو میری آنکھوں ، میرے منہ، ناک اور کانوں میں رکھ دینا اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا مبارک لباس میرے بدن پر کفن کے نیچے رکھ دینا اور پھر مجھ کو قبر میں لٹا کر مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کردینا۔

        محمد بن عقبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وقتِ وفات آپہنچا تو بڑی حسرت کے ساتھ یہ فرمایا :   یا لیتنی کُنت رَجُلا من قُریش بِذی طویٰ وانی لم اٰل من ھٰذا الامر شیئًا۔اے کاش! میں قریش کا ایک مرد ہوتا جو مقامِ ’’ذی طویٰ‘‘ میں رہ جاتا اور سلطنت کے معاملہ میں کسی چیز کا میں والی نہ بناہوتا۔

        اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رُوح عالم بالا کو پرواز کرگئی۔ وفات کے وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرزند ’’یزید‘‘ دمشق میں موجود نہیں تھا اس لیے ضحاک بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کفن دفن کا انتظام کیا اور اسی(یعنی ضحاک) نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نماز جنازہ پڑھائی۔([1])  (اکمال ص۶۱۷واحیاء العلوم ج۴ص۴۰۸واسد الغابہ ج۴ص۳۸۵تاص۳۸۷)

(۹ ) حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرت معاذ صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب مرض الموت میں سخت علیل ہوئے تو یہ دعا باربار مانگنے لگے کہ اے  اللہ  ! عَزَّ وَجَلَّ تو خوب جانتا ہے کہ میں دنیا اورلمبی عمر سے اس لیے محبت نہیں کرتا تھا کہ بہت زیادہ نہریں بنواؤں اور بہت سے باغ لگاؤں بلکہ میں تو اس لیے لمبی عمر کاطلبگار تھا کہ میں (روزہ رکھ کر) سخت پیاس کی مشقت برداشت کروں اور مصیبت جھیلتا رہوں اور ذکر کے حلقوں میں علماء کی مجلسوں کے اندر مجمعوں میں بیٹھا کروں ۔پھر جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جانکنی کا عالم طاری ہوا اور نزع کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر شدید کرب و بے چینی نمودار ہوئی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے کہیارب ما اخنقنی خنقک فوعزتک انک تعلم ان قلبی یحبک۔ اے میرے رب ! عَزَّ وَجَلَّ تیری طرح تو کسی نے بھی میرا گلا نہیں گھونٹا تھا لیکن میں تیری عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے خوب معلوم ہے کہ میرا دل تجھ سے محبت رکھتا ہے۔ زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مقدس روح عالم بالا میں پہنچ گئی۔([2])

(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)

   

(۱۰) حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        جب حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر مرض وفات میں جانکنی کا عالم طاری ہوا تو ان کی بیوی نے بے قرار ہو کر یہ کہا کہ ’’واحزناہ ‘‘ ہائے رے میری مصیبت !تو حضرت بلال  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آنکھیں کھول دیں اورتڑپ کر فرمایا :  ’’واطرباہ‘‘ واہ رے میری خوشی! آخری کلمات جو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زبان مبارک سے نکلے یہ تھے اور پھر فوراً ہی آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ       کا وصال ہوگیا۔غدانلقی الاحبۃ محمدا وحزبہکل ہم تمام دوستوں یعنی حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے تمام صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے ملاقات کریں گے۔ ([3]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)

 (۱۱) حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو ایک مشہور بزرگ مرتبہ صحابی ہیں اپنی وفات کے وقت رونے لگے تو لوگوں نے اس رونے کا سبب پوچھا کہ کیا چیز آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ     کو رلارہی ہے؟ تو فرمایا کہ ہم کو رسول  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ و  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے تم لوگ بس اتنا ہی سامان اپنے پاس رکھنا جتنا کہ ایک سوار مسافر اپنے ساتھ توشہ رکھتا ہے مگر ہم نے آپ صلی  اللہ   تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وصیت پر عمل نہیں کیا اور اس سے زیادہ سامان رکھ لیا اسی پر افسوس کرکے رورہا ہوں ۔

        یہ فرمایا اور زار زار روتے ہوئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات ہوگئی۔ وفات کے بعد لوگوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کل سامان کا جائزہ لیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کل ترکہ کی قیمت دس یا پندرہ درہم ہوئی۔ ([4]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)

(۱۲) حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بڑے جاں نثار انصاری صحابی ہیں ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ خندق میں زخمی ہوگئے تھے اور حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے لیے مسجد نبوی میں ایک خیمہ گاڑا اور ان کا علاج شروع کیا۔خود اپنے دستِ مبارک سے دو مرتبہ ان کے زخم کو داغایہاں تک کہ ان کا زخم بھرنے لگا۔ لیکن انہوں نے شوقِ شہادت میں خداوند  تَعَالٰی سے یہ دعا مانگی کہ یا  اللہ !  عَزَّ وَجَلَّ تو جانتا ہے کہ مجھے کسی قوم سے جنگ کرنے کی اتنی تمنانہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو جھٹلایا اور ان کو وطن سے نکالا۔ اے  اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کردیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہو جب تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جنگ کروں اور اگراب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو تو میرے اس زخم کو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے شہادت کی موت عطا فرما دے۔

        خدا عَزَّ وَجَلَّ کی شان کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا زخم پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔([5])        (بخاری ج۲ص۵۹۱باب مرجع النبی من الاحزاب)   

 



[1]      احیاء علوم الدین، کتاب ذکرالموت وما بعدہ،  الباب الخامس فی کلام المحتضرین من الخلفاء والأمراء والصا لحین، ج۵، ص۲۲۹، ۲۳۰۔ اسد الغابۃ،  معاویۃ بن صخر،  ج۵، ص۲۲۳

[2]      احیاء علوم الدین، کتاب ذکرالموت،  الباب الخامس، بیان اقا ویل جماعۃ من خصوص الصالحین من التابعین۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۳۱

[3]      احیاء علوم الدین$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن