دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

بول کردنیا سے گئے اور پھر اس کے بعد کبھی ان کی بولی نہیں سنی گئی تاکہ ناظرین اس سے عبرت ونصیحت حاصل کریں ۔

(۱)  حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

        حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا بیان ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیماری وفات میں آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر باربارغشی طاری ہو جاتی۔ یہ دیکھ کر حضرت فاطمہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی زبان سے شدتِ غم میں یہ لفظ نکل گیا کہ واکرب اباہ ہائے رے میرے والد کی بے چینی ، تو حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ اے بیٹی ! آج کے بعد تمہارا باپ پھر کبھی بے چین نہیں ہوگا۔ ([1]) (بخاری ج۲ص۶۴۱باب مرض النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

        حضرت بی بی عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اپنے سینے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا سر مبارک میرے سینے اورحلق کے درمیان تھا اور بار بار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   یہ پڑھتے رہے کہ

مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ([2]) 

یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر خدا کا انعام ہے

 اور کبھی یہ فرماتے کہ اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیق الْاَعْلٰیخداوندا! بڑے رفیق میں اور لا اِلہ الااللّٰہ پڑھتے اور فرماتے تھے کہ بے شک موت کے لیے سختیاں ہیں ۔([3]) (بخاری ج۲ص۶۴۰)

 مسواک سے محبت

        وفات اقدس سے تھوڑی دیر پہلے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اکے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا       تازہ مسواک ہاتھ میں لیے حاضر ہوئے، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے سمجھا کہ مسواک کی خواہش ہے۔ انہوں نے فوراً ہی مسواک لے کر دانتوں سے نرم کی اور دستِ اقدس میں دے دی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مسواک فرمائی۔ سہ پہر کا وقت تھا کہ سینہ اقدس میں سانس کی گھر گھراہٹ محسوس ہونے لگی۔ اتنے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس ہونٹ ہلے تو لوگوں نے یہ الفاظ سنے کہ الصّلوۃُ وَمَا مَلَکَت اَیْمَانُکُم نماز اور لونڈی غلاموں کا خیال رکھو۔([4]) (مشکوٰۃ ص۲۹۱)

        پاس میں پانی کا ایک طشت تھا۔ اس میں بار بار ہاتھ ڈالتے اور چہرہ انور پر ملتے اور کلمہ پڑھتے اور چادر مبارک کو کبھی منہ پر ڈالتے کبھی ہٹالیتے۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سر اقدس کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنا مقدس ہاتھ اٹھا کر تین مرتبہ فرمایا کہ بل الرفیق الاعلی(اب کوئی نہیں )بلکہ وہ بڑا رفیق چاہیے۔

         یہی الفاظ زبان اقدس پر تھے کہ ناگہاں مقدس ہاتھ نیچے تشریف لے آئے اور جسم مقدس حالت سکون میں آگیا۔ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی روح اقدس عالم قدس میں پہنچ گئی اور آخری لفظ جو زبان ِ اقدس سے ادا ہوا وہ یہی تھا  اللّٰھُمَّ الرَّفِیق الا  علٰی ۔([5])  (بخاری ج۲ص۶۴۱)

اَللّٰھُمَّ صَلّ علٰی سیّدنا مُحَمد وَّعَلیٰ اٰلِ سیّدنا مُحَمَّد وَّبَارِک وَسَلِّم

(۲) حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرت بی بی عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بیان ہے کہ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے مرض وفات کے آخری دن بے ہوش ہوگئے تو میں نے روتے ہوئے کہا کہ ہائے میرے باپ پر عجیب سخت مرض کا حملہ ہوگیا۔ میرے یہ الفاظ سنکر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    ہوش میں آگئے اور مجھ سے فرمایا کہ اے بیٹی! رسول  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کس دن وفات پائی تھی؟ میں نے کہا کہ دو شنبہ (پیر) کے دن۔ پوچھا آج کون سا دن ہے ؟ میں نے کہا کہ دو شنبہ ہے تو فرمایا کہ میری موت آج ہی دن رات کے درمیان ہوگی۔ پھر فرمایا کہ بیٹی میرے بدن پر بیماری کی حالت میں جو کپڑا رہا ہے اس میں زعفران کے کچھ داغ دھبے ہیں ۔ اس کو دھولینااور دوسرے دو کپڑے اَور ملا کر انھیں تین کپڑوں کو میرا کفن بنانا تو میں نے کہا یہ تو پُرانا کپڑا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ نیا کپڑا تو زندوں کا حق ہے، کفن تو مردہ کے گلنے، سڑنے اور پیپ کے لیے ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وصیت فرمائی کہ میری بیوی اسماء بنت عمیسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   مجھ کو غسل دیں اور میرے فرزند عبدالرحمن  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غسل دینے میں میری بیوی کی مدد کریں ۔ مجھے یہ منظورنہیں کہ ان دوکے سواکوئی تیسرامیرے ننگے بدن کودیکھے۔([6]) (ازالۃ الخفاء ج۲ص۴۲)

بوقت وصال قرآن تھا زباں پر

        پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر فرمایا۔لوگوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اِتنے سخت مزاج آدمی کو خلیفہ بنادیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ      خدا  عَزَّ وَجَلَّ کو کیا جواب دیں گے؟ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں خدا وند تَعَالٰی سے یہی کہہ دوں گا کہ میں نے تیرے بندوں پر ایک بہترین شخص کو خلیفہ بنادیا ۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنے سامنے بلا کر کچھ وصیتیں اور نصیحتیں فرمائیں ۔ پھر اس کے بعد فوراً ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات ہوگئی۔بوقت وفات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس آیت کو تلاوت فرمارہے تھے۔

 



[1]       صحیح البخاری،  کتاب المغازی،  باب مرض النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ووفاتہ، الحدیث: ۴۴۹۲، ج۳، ص۱۶۰

[2]       پ۵، النساء: ۶۹

[3]       صحیح البخاری،  کتاب المغازی،  باب مرض النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ووفاتہ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن