دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

جانے سے بڑھ کرخوشی حاصل ہوتی ہے۔([1]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۷)   

ضروری سبق

        کاش ! مسلمانوں کو ان حقائق سے کچھ سبق ملتا اور انہیں عبرت حاصل ہو کر ہدایت کی روشنی اور توفیق نصیب ہوتی جو اپنے ماں باپ اور بھائیوں بہنوں اور بیٹوں وغیرہ اعزہ و اقرباء کو قبروں میں دفن کرنے کے بعد پھر ان کا کچھ بھی خیال نہیں رکھتے۔ نہ ان کی قبروں کی زیارت کے لیے کبھی قبرستان میں قدم رکھتے ہیں ۔ نہ کبھی دعائے مغفرت کرتے ہیں نہ صدقہ و خیرات اور نیاز وفاتحہ کے ذریعے کبھی ایصال ثواب کرتے ہیں نہ ان کے لیے کبھی قرآن خوانی کرائیں نہ محتاجوں کو کھانا کھلا کر اور کپڑا پہنا کر ان کی روحوں کو ثواب پہنچائیں ۔ نہ چہلم نہ ششماہی نہ برسی پر انہیں یاد رکھ کر ان کی فاتحہ دلائیں بلکہ اب تو وہابیوں نے یہ غضب ڈھایا کہ زیارت قبور اور نیاز و فاتحہ کو قبر پرستی اور بدعت قرار دے کر مسلمانوں کا اپنے مردہ عزیزوں سے بالکل ہی رشتہ و تعلق کاٹ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اپنے ماں باپ اور بزرگوں کو اس طرح بھول گئے کہ کبھی بھولے سے بھی ان کو یاد نہیں کرتے۔ احسان فراموشی اور مطلب پرستی کی اس سے زیادہ گھناؤنی مثال اور کیا ہوگی کہ ماں باپ اور بھائیوں بہنوں کے وارث بن کر ان کی جائیدادوں پر تو قابض ہو کر مزے اڑا رہے ہیں مگر ان بزرگوں اور عزیزوں کو کبھی یاد کرکے ان کی روحوں کو کسی قسم کا ثواب نہیں پہنچاتے۔ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے باپ داداؤں نے کتنی محنت و مشقت اٹھا کر ان مکانوں اور جائیدادوں کو بنایا ہوگا جو ہمیں مفت میں دے کر دنیا سے چلے گئے تو ہم ان کا شکریہ اس طرح ادا کرتے رہیں کہ ان کی قبروں پر حاضر ہو کر کبھی کبھی فاتحہ پڑھتے اور دعائے مغفرت کرتے رہیں ۔     

قرآن مجید میں خداوند قدوس کا فرمان ہے کہ

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰)([2])

یعنی احسان کا بدلہ تو احسان ہی ہے

        ماں باپ اور بزرگوں کا احسان تو یہ ہوا کہ انہوں نے ہم کو پالا پھر وہ ہم کو مکان و جائیداد دے گئے تو ہمیں بھی لازم ہے کہ ان کے احسانوں کا بدلہ دیں کہ ان کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھیں اور ان کے لیے دعاء و استغفار کرتے رہیں اور فاتحہ کے ذریعے ان کو ایصال ثواب اور ان کی روحوں کو ثواب پہنچاتے رہیں ۔ بہرحال ہر مسلمان کا یہ لازمی کارنامہ ہونا ہی چاہیے کہ وہ اپنے ماں ، باپ ، دادی، دادااور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ہمیشہ یاد رکھیں اور کبھی بھی ان کی قبروں کی زیارت اور ان کی فاتحہ و ایصال ثواب اور دعائے مغفرت و استغفار سے ہرگز ہرگز غافل نہ رہیں ۔

ع              مانو نہ مانو آپ کو یہ اختیار ہے

        ہم نیک و بد جناب کو سمجھائے جائیں گے

وما علینا الا البلاغ وما توفیقی الا ب اللہ  وھو حسبی ونعم الوکیل

(۹) حسابِ خداوندی کا کیا منظرہوگا؟

        خداوند قہار و جبار کے دربار میں بندوں کے حساب و کتاب کا منظر بہت ہی مہیب اور بے حد خوفناک ہوگا۔  اللہ   تَعَالٰی کے فرشتے جو بہت ہیبت ناک اور انتہائی خوفناک ہوں گے وہ اپنی کرخت آواز سے ڈانٹ کر جھڑکتے اور ہانکتے ہوئے لوگوں کو دربارِ خداوندی میں حاضر کریں گے اور خداوند قدوس ایسے غضب وجلال میں ہوگا کہ   

 الامان و الحفیظ ! سب سے پہلے انبیاء کرا م علی نبیناوعلیہم الصلاۃوالسلام کی مقدس جماعت حساب فہمی کے لیے پیش ہوگی اور  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ ان مقدس نفوس سے سوال فرمائے گا جب تم لوگوں نے میرے احکام اپنی اپنی قوموں کو پہنچائے تو تمہاری قوموں نے تم کو کیا جواب دیا؟تو اس سوال کی عظمت و ہیبت سے انبیائے کرام علی نبیناوعلیہم الصلاۃوالسلام کی عقلیں مبہوت ہوجائیں گی اور ان کا علم اس قدر فراموش ہوجائے گا کہ وہ کہیں گے کہہمیں کچھ معلوم نہیں ، بے شک تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے چنانچہ ارشاد قرآنی ہے کہ

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْؕ-قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(۱۰۹)([3])    (پ۷، المآئِدۃآیت۱۰۹)

(یاد کرو) جب  اللہ   تَعَالٰی تمام رسولوں کو جمع کرکے فرمائے گا کہ تمہاری قوموں نے تمہیں کیا جواب دیا تھا ؟ تو سب یہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں بیشک سب غیب کی باتوں کو تو ہی جاننے والا ہے

        حقیقت میں رسولوں کو سب کچھ معلوم تھا مگر اس وقت شدت ہیبت اور جلال خداوندی کی دہشت سے ان کی عقلیں خوفزدہ ہو کرمبہوت ہوچکی ہوں گی اور ان کا سارا علم فراموش ہوچکا ہوگا۔ اس لیے ان کا یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ ہمیں کچھ معلوم ہی نہیں ([4]) جس وقت وہ قہار وجبار حضرت عیسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلاۃوالسلام  سے یہ تہدید آمیز سوال فرمائے گا

 



[1]      احیاء علوم الدین،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  الباب السادس، بیان زیارۃ القبور والدعاء للمیت وما یتعلق بہٖ ، ج۵، ص۲۴۴

[2]      ترجمۂ کنزالایمان  : نیکی کابدلاکیاہے مگرنیکی۔ (پ۲۷، الرحمٰن: ۶۰)

[3]      ترجمۂ کنزالایمان   : جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوںکوپھرفرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں بے شک توہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا۔(پ۷، المآئِدۃ:  ۱۰۹)

[4]      صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی  اس آیت مبارکہ کے جزو  قَالُوْا لَاعِلْمَ  لَنَا۔ ۔ ۔ الخ کے تحت فرماتے ہیں :انبیا کا یہ جواب ان کے کمال ادب کی شان ظاہر کرتا ہے کہ وہ علم الٰہی کے حضور اپنے علم کو اصلاً نظرمیں نہ لائیں گے اور قابل ذکر قرار نہ دیں گے اور معاملہ اللہ تَعَالٰی کے علم و عدل پر تفویض فرمادینگے۔(خزائن العرفان)

حکیم الامت مفتی احمدیار خاں نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:یہ جواب اول قیامت میں ادب دربار کے لئے ہوگا یا ان کفارسے بیزاری اور شفاعت کے انکار کے لئے۔ پھر دوسرے وقت یہی نبی اپنی قوم کی شکایت فرمائیں گے ۔ رب فرماتا ہے :      وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا (پ۱۹،  الفرقان: ۳۰) ترجمۂ کنزالایمان :  اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ نے کے قابل ٹھہرالیا۔لہٰذا اس آیت سے انبیاء کی بے علمی ثابت نہیں ہوتی نہ ان کا کذب لازم آتا ہے نیز آیات میں کسی قسم کا تعارض بھی نہیں۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ انبیاکرام اپنی قوم کی تکالیف اور ان کی تکذیب کو بھول جاویں۔قیامت میں تو ہر شخص کو دنیا کے کام یاد آجائیں گے۔ رب فرماتا ہے: یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ (پ۳۰، النٰزعٰت: ۳۵)ترجمۂ کنزالایمان:اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی۔(نورالعرفان) تفسیر نعیمی میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: نہ یہ مقصد ہے کہ وہ حضرات اس د ن کی گھبراہٹ سے سب کچھ بھول گئے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا، فرماتا ہے لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ   (پ۱۷، الانبیاء: ۱۰۳) ترجمۂ کنزالایمان: انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے۔ اور فرماتا ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ   (پ ۱۱، یونس: ۶۲) ترجمۂ کنزالایمان: سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔(تفسیر نعیمی ج۷، ص۱۳۵)   واللہ تعالیٰ اعلم ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن