30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تکبیر پڑھتے رہے تو کسی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تسبیح وتکبیر کیوں پڑھی ؟تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ اس بندہ صالح پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھی یہاں تک کہ اللہ تَعَالٰی نے کشادہ فرمادی۔([1]) (مشکوٰۃ ج۱ ص۲۶)
حدیث : ۵
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی صاحبزادی بی بی ز ینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دفن میں تشریف لے گئے اور وہ بکثرت بیمار ہوا کرتی تھیں تو جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی قبر میں اترے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چہرہ انور زرد ہوگیا، پھر جب قبر سے باہر تشریف لائے تو خوشی سے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چہرئہ انور چمکنے لگا تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایسا کیوں ہوا؟ تو فرمایا کہ قبر نے میری بیٹی کو ایک مرتبہ دبوچا تو مجھے دبوچنے اور عذابِ قبر کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ پھر ایک فرشتہ نے آکر مجھے خبر دی کہ اللہ تَعَالٰی نے ان پر تخفیف فرمادی تو مجھے اس سے خوشی کے ساتھ اطمینان ہوگیا۔ قبر کا دبوچنا اس زورکاتھا کہ اس کی آواز مشرق و مغرب میں سنی گئی۔([2])
(احیاء العلوم ج۴ ص۴۳۸)
(۸)اموات کو سلام و ثواب کس طرح پہنچتا ہے؟
اس پر اہلِ سنت و جماعت کے تمام اماموں کا اجماع و اتفاق ہے کہ زندوں کا سلام و دعا و ایصالِ ثواب مردوں کو پہنچتا ہے اور ان کے لیے نفع بخش و فائدہ مند ہے، ہدایہ شریف میں ہے کہ الاصل فی ھذاالباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ اوصوما اوصدقۃ اوغیرھا عنداھل السنۃ والجماعۃ۔([3]) (ہدایہ ج۱ ص۲۷۶ باب الحج عن الغیر)قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ اپنے عمل کا ثواب اپنے غیر کو پہنچا دے خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا ان کے علاوہ کوئی بھی عمل ہو، یہ اہلِ سنت و جماعت کا مذہب ہے۔
اب اس سلسلے میں ہم چند بزرگوں کے اقوال یہاں نقل کرتے ہیں جن سے ہدایت کا نور طلوع ہوتا ہے امید ہے کہ ان سے ہر طالب حق کو روشنی ملے گی۔
(۱) حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
حضرت عوف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک میت کی نماز جنازہ پر یہ دعا فرمائی جس کو میں نے یاد کرلیا کہ اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کو عافیت دے اور اس کی مہمانی باعزت فرما اور اس کی قبر کو وسیع فرمادے اور اس کو پانی اور برف اور اولے سے دھو دے اور اس کو گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف رکھا ہے، اور اس کو اس کے گھر کے بدلے میں اس سے بہتر گھر عطا فرما اور اس کے اہل سے بہتر اہل اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عنایت فرما اور اس کوجنت میں داخل فرما اور عذاب ِ قبر و عذاب جہنم سے اس کو اپنی پناہ میں رکھ۔اس دعائے نبوی کو سن کر حضرت عوف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ مجھ کو یہ تمنا ہوگئی کہ کاش اس میت کی جگہ میری میت ہوتی۔([4]) (مشکوٰۃ ج۱ ص۱۴۵)
(۲) حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ وہ حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبر انور کے پاس آکر اس طرح کھڑے ہوتے کہ میں سمجھتا تھا کہ نماز شروع کردی ہے پھر وہ سلام عرض کرتے اور واپس لوٹ جاتے۔([5]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۴۱۷)
(۳) حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرماتے ہیں کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی قبر پر گزرے اور سلام کرے تو دنیا میں اس سے جان پہچان رہی ہو یا نہ رہی ہو ہر حال میں قبر والا اس کے سلام کو سنتا ہے اور اس کے سلام کا جواب بھی دیتا ہے۔([6]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۴۱۷)
(۴) حضرت نافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
یہ ایک تابعی بزرگ ہیں اور علم حدیث وفن قرأ ت کے ایک عظیم استاذ ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ میں نے سینکڑوں مرتبہ سے زیادہ دیکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روضۂ اقدس پر حاضر ہوتے اور رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو سلام کرکے گھر واپس جایا کرتے تھے۔([7]) (احیاء العلوم ج ۴ص۴۱۷)
(۵) حضرت بشر بن منصور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
[1] المسند للامام احمدبن حنبل، مسند جابربن عبداللہ، الحدیث: ۱۴۸۷۹، ج۵، ص۱۴۲۔
مشکاۃالمصابیح، کتاب الایمان، باب اثبات عذاب القبر، الفصل الثالث، الحدیث ۱۳۵، ج۱، ص۴۷
[2] احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السابع، بیان سوال منکر ونکیر۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۵۹
[3] الھدایۃ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ج۱، ص۱۷۸
[4]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع