دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

تھکن میں ڈالا تھا۔ پھر عذاب کے فرشتے میت کے دونوں ہاتھوں کی طرف سے آنے لگتے ہیں تو صدقہ روک لیتا ہے کہ اس نے ہاتھوں سے صدقہ دیا تھا پھر عذاب کے فرشتے چلے جاتے ہیں اور رحمت کے فرشتے آجاتے ہیں اور اس کی قبر جہاں تک اس کی نظر جاتی ہے چوڑی کردی جاتی ہے اور اس کی قبر میں ایک قندیل جلادی جاتی ہے جس سے قیامت تک قبر میں روشنی رہے گی۔([1])

         (احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳ و۴۲۴)   

(۷)قبرمیں عذاب کس کس طرح ہوگا؟

        عذابِ قبر حق ہے، جو قرآن مجید اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ لہذا اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ عذابِ قبر کیونکر اور کس کس طرح ہوتا ہے اس بارے میں چند حدیثیں پڑھ لیجئے۔

حدیث : ۱

         حضرت زید بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ایک خچر پر سوار ہو کر بنی نجار کے باغ میں گزرے اور ہم لوگ ہمراہ تھے تو ناگہاں خچر اس طرح بدک گیا کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو گرا دینے کے قریب ہوگیا، اچانک وہاں چھ یا پانچ قبریں نظر آئیں تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے پوچھا کہ ان قبر والوں کو کوئی جانتا ہے؟ تو ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ جی ہاں مجھے معلوم ہے یہ ان مشرکین کی قبریں ہیں جوشرک کی حالت میں مرگئے ہیں توحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایاکہ ان قبر والوں کی جماعت اپنی قبروں کے اندر عذاب میں مبتلا ہے اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم لوگ مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں  اللہ   تَعَالٰی سے دعا کرتا کہ تم لوگوں کو وہ عذاب سنادے جو میں سن رہا ہوں ۔ پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہم لوگوں کی طرف اپنا چہرہ انور کرکے متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ سب لوگ جہنم کے عذاب سے پناہ مانگو ، تو ہم لوگوں نے کہا کہ ہم جہنم سے خدا  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ تم سب لوگ قبر کے عذاب سے پناہ مانگو تو سب نے کہا کہ ہم عذاب قبر سے خدا عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں ۔پھر فرمایا کہ تم سب لوگ ظاہری و باطنی فتنوں سے پناہ مانگو تو سب نے کہا کہ ہم ظاہری اور باطنی فتنوں سے خدا  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ۔   

 پھر فرمایا کہ تم سب لوگ فتنہ دجال سے پناہ مانگو تو سب لوگوں نے کہا کہ ہم دجال کے فتنوں سے خدا عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ۔([2]) (مشکوٰۃ ج۱ ص۲۵ بحوالہ مسلم)

 حدیث :  ۲

        حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ راوی ہیں کہ رسول  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ قبر میں دو فرشتے (منکر ونکیر) آتے ہیں اور میت کوبیٹھا کر اس سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تو مومن کہہ دیتا ہے کہ میرا رب  اللہ   تَعَالٰی ہے۔ پھر دوسرا سوال کرتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ تو مومن کہہ دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔ پھر تیسرا سوال کرتے ہیں کہ یہ مرد کون ہیں جو تمہاری طرف بھیجے گئے؟ تو مومن کہہ دیتا ہے کہ یہ رسول  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہیں ۔ پھر آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ میرا یہ بندہ سچا ہے لہذا اس کو جنتی بچھونے پر سلاؤ اور اس کو بہشتی لباس پہناؤ اور اس کی طرف جنت کا ایک دروازہ کھول دو تو اس دروازے سے قبر میں جنت کی ہوا اور خوشبو آنے لگتی ہے اور اس کی نظر کی درازی بھر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔

        اور کافر سے جب منکر ونکیر سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے کہ ہائے ہائے میں تو کچھ جانتا ہی نہیں ۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں توکچھ نہیں جانتا۔ پھر فرشتے سوال کرتے ہیں کہ یہ مرد کون ہیں جو تمہارے اندر بھیجے گئے ؟تو وہ کہتا ہے کہ ہائے ہائے میں تو کچھ بھی نہیں جانتا ۔تو آسمان سے ایک فرشتہ پکارتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے لہٰذا اس کے لیے جہنم کا بستر بچھاؤ اور اس کو جہنمی لباس پہناؤ اور اس کی طرف جہنم کا ایک دروازہ کھول دو تو اس دروازے سے جہنم کی گرمی اور گرم ہوا اور بدبو قبر میں آتی رہتی ہے اور اس کی قبر اس قدر تنگ کردی جاتی ہے کہ میت کی دا     ہنی پسلیاں بائیں طرف اور بائیں پسلیاں دا      ہنی طرف ہوجاتی ہیں اور اس کے اوپر ایک اندھا بہرا (فرشتۂ عذاب) لوہے کے ایک ایسے گرز کے ساتھ مسلط کردیا جاتا ہے کہ اگر وہ اس گرز سے پہاڑ کو مارے تو پہاڑ مٹی ہو کر بکھر جائے، اسی گرز سے وہ فرشتۂ عذاب اس مردہ کو ایسی مار مارتا ہے کہ مشرق و مغرب کی ہر مخلوق سوائے انسانوں اور جنوں کے سب اس مار کو سنتے ہیں ۔([3]) (مشکوٰۃ ج۱ص۵ ۲وص ۲۶بحوالہ ابو داود)

 حدیث : ۳

         حضرت ابوسعید خدر ی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ کافر کی قبر میں ننانوے اژدہے مسلط کردیئے جاتے ہیں جو اس کو کاٹتے اور ڈستے رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے اور وہ اتنے زہریلے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک اژدھا ایک مرتبہ زمین پر پھونک مار دے تو زمین کبھی سبزی نہ اُگائے گی۔([4])

(مشکوٰۃ ج۱ ص۲۲)

حدیث : ۴

         حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دفن میں گئے جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نماز جنازہ پڑھا چکے اور وہ قبر میں اتارے گئے اور مٹی برابر کردی گئی تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے تسبیح پڑھی اور ہم لوگ بھی دیر تک تسبیح پڑھتے رہے۔ پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے تکبیر پڑھی اور ہم بھی دیر تک



[1]       احیاء علوم الدین،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  الباب السابع فی حقیقۃ الموت۔ ۔ ۔ الخ،  ج۵، ص

 

[2]       صحیح مسلم، کتاب الجنۃ، باب عرض مقعدالمیت، الحدیث: ۲۸۲۷، ص۱۵۳۴۔  مشکاۃ المصابیح،  کتاب الایمان،  باب اثبات عذاب القبر،  الفصل الاول،  الحدیث:  ۱۲۹،  ج۱،  ص۴۶

[3]       سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب فی المسألۃ فی القبر، الحدیث: ۴۷۵۳، ج۴،  ص۳۱۶۔  مشکاۃ المصابیح، کتاب الایمان، باب اثبات عذاب القبر، الفصل الثانی،  الحدیث۱۳۱، ج۱، ص۴۶

[4]       سنن الدارمی، کتاب الرقائق، باب فی شدۃعذاب النار

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن