30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلیفۂ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی لونڈی نیند سے بیدار ہوئی اور کہا کہ اے امیر المومنین! رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں نے ابھی ابھی ایک خواب دیکھا ہے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا کہ بیان کرو تو لونڈی نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ جہنم بھڑک رہا ہے اور اس کی پشت پر پل صراط قائم کیا گیا ہے تو بنی امیہ کا خلیفہ عبدالملک لایا گیا وہ پل صراط پر چند قدم چلا اور جہنم میں گرگیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے چونک کر پوچھا کہ پھر کیا ہوا تو لونڈی نے کہا کہ پھر ولید بن عبدالملک لایا گیا تو وہ بھی چند قدم چل کر جہنم میں گرگیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے چونک کر سوال کیا کہ پھر کیا ہوا ؟ تو لونڈی بولی کہ پھر خلیفہ سلیمان بن عبدالملک لایا گیا تو وہ بھی تھوڑی دور پل صراط پر چل کر جہنم میں اوندھا ہو کر گر پڑا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ آگے کا حا ل جلد بیان کر تو لونڈی نے کہا کہ اے امیر المومنین!رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پھر آپ لائے گئے۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے تو لونڈی کان میں کہنے لگی کہ اے امیر المومنین!رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں نے دیکھا کہ آپ پل صراط سے پار ہو کر نجات پا گئے قسم کھا کھا کر کہنے لگی کہ آپ سلامتی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوگئے مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ برابر پاؤں پٹخ پٹخ کر چیخ مارتے اور روتے چلاتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔([1]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۳)
(۱۵) حضرت خوا جہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
ایک شخص نے حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا کیا حال ہے؟تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ ایک قوم کشتی پر سمندر میں سوار ہوئی اورجب کشتی بیچ سمندر میں پہنچی تو کشتی ٹوٹ گئی اور ہر آدمی ایک تختہ سے چمٹا ہوا بہنے لگا تو بتاؤ کہ اس قوم کا کیا حال ہوگا؟ تو اس نے کہا کہ یہ لوگ بے حد خوف ناک حال میں انتہائی مبہوت و حیران ہوں گے تو حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ میرا حال اس قوم سے بھی زیادہ خوف ناک و حیران کن ہے۔([2]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۲)
اللہُ اَکْبَرْ !یہ ہے علم و عمل کے پہاڑوں اور آسمان ولایت کے چمکتے تاروں کا حال کہ یہ مقد س بندگانِ خدا اپنے علم و عمل کی عظمت کے باوجود کس حالت میں رہتے تھے اور خوفِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ کے جذبات سے مغلوب ہو کر کیا کیا اور کیسے کیسے دل ہلا دینے والے کلمات بولا کرتے تھے ! ہم بے علم و بے عمل غافل انسانوں کے لیے ان مقدس بزرگوں کا حال بہت ہی عبرت انگیز و نصیحت آموز ہے۔واللّٰہ تَعَالٰی ھو الموفق
یا الٰہی ! جب بہیں آنکھیں حساب ِ جرم میں اُن تبسم ریز ہونٹوں کی دعا کا ساتھ ہو
یا الہی ! جب حسابِ خندئہ بے جا رُلائے چشم گریانِ شفیع مُرتجٰی کا ساتھ ہو
یا الہٰی! رنگ لائیں جب مری بے باکیاں اُن کی نیچی نیچی نظروں کی حیاکا ساتھ ہو (حدائقِ بخشش)
(۱) رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جب قبر میں مردہ رکھ دیا جاتا ہے تو قبر اس مردہ سے کہتی ہے کہ اے ابن آدم ! تو کس فریب میں پڑا رہا۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ میں فتنہ کا گھر ہوں ، میں تاریکی کا گھر ہوں ، میں تنہائی کا گھر ہوں ، میں کیڑوں کا گھر ہوں تو کس گھمنڈ میں تھا جب تو لوگوں کو دھکا دیتا ہوا میرے اوپر سے گزرتا تھا۔ تو اگر مردہ نیک و صالح ہوتا ہے تو ایک فرشتہ اس کی طرف سے قبر کو جواب دیتا ہے کہ اے قبر ! یہ تو زمین پر لوگوں کو اچھی اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا اور بری بری باتوں سے لوگوں کو منع کیا کرتا تھا۔ یہ سن کر قبر کہتی ہے کہ اگر ایسا ہی تھا تو اب میں اس کے پاس ہریالی لاؤں گی اور اس کا بدن نور ہو کرمجھ سے نکلے گا اور اس کی روح اللہ تَعَالٰی کے دربارِ رحمت تک رسائی حاصل کرے گی۔([3]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳)
(۲)عبید بن عمیرلیثی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے تھے کہ میت سے بوقت دفن قبر کہتی ہے کہ میں تاریکی کا گھر ہوں ، میں تنہائی کا گھر ہوں ، میں بے کسی کا گھر ہوں اگر تو اپنی زندگی میں اللہ تَعَالٰی کا فرماں بردار تھا تو آج میں تیرے لیے رحمت بن جاؤں گی اور اگر تو اللہ تَعَالٰی کا نافرمان تھا تو میں تیرے لیے عذاب بن جاؤں گی، میں وہ جگہ ہوں کہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانبردار بندے مجھ میں داخل ہونے کے بعد مسرور ہو کر نکلتے ہیں اور خدا عَزَّ وَجَلَّ کے نافرمان بندے مجھ میں داخل ہو کر رنجیدہ و غم زدہ ہو کر نکلتے ہیں ۔([4]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳)
(۳)محمد بن صبیح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ جب قبر میں میت کو عذاب ہونے لگتا ہے تو دوسرے مردے اس سے کہتے ہیں کہ اے شخص ! کیا تو نے ہم لوگوں کا حال دیکھ کر کچھ بھی عبرت نہیں حاصل کی۔ ہمارے تو اعمال ختم ہوچکے تھے لیکن تو زندہ تھا اور تجھ کو کافی مہلت ملی لیکن تو نے اپنے اعمال کی کچھ بھی اصلاح نہیں کی۔ اے ظاہری دنیا پر فریب کھانے والے! تو نے ان لوگوں سے عبرت نہیں پکڑی جو تجھ سے پہلے ظاہری دنیا پر فریب کھا کر زمین کے اندر چلے گئے حالانکہ تو ہمیشہ دیکھا کرتا تھا کہ سب کے اقرباء و احباب لوگوں کو اس منزل تک پہنچایا کرتے تھے۔([5])
(احیاء العلوم ج ۴ ص۴۲۳)
(۴) حضرت کعب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیان ہے کہ مردہ جب قبر میں وحشتوں کا منظر دیکھتا ہے تو بہت گھبراتا ہے اس وقت اس کے اعمال صالحہ یعنی نماز، روزہ ، زکوۃ، حج ، جہاد اور صدقہ وغیرہ اس کی وحشت اور گھبراہٹ کو دور کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ قبر میں جب عذاب کے فرشتے میت کے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں تو نماز آکر کھڑی ہوجاتی ہے کہ ہٹو تم کچھ نہیں کرسکتے، اس نے نمازوں میں بہت لمبا لمبا قیام کیا تھا۔ پھر عذاب کے فرشتے میت کے سر کی جانب سے آتے ہیں توروزہ کھڑاہوکر کہتاہے کہ ہٹوتمہیں اس طرف سے کوئی راستہ نہیں ملے گااس نے دنیامیں روزہ رکھ کر خدا عَزَّ وَجَلَّ کے لیے بہت زیادہ پیاس برداشت کی تھی۔ پھر عذاب کے فرشتے میت کے دائیں بائیں سے آنا چاہتے ہیں تو حج و جہاد راستہ روک لیتے ہیں کہ اس نے خدا عَزَّ وَجَلَّ کے لیے اپنے بدن کو بڑی
[1] احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف، ج۴، ص۲۳۰
[2] احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء ، بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف، ج۴، ص۲۳۱
[3] اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب السابع ، ج۱۴، ص۳۲۹
[4] احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السابع فی حقیقۃ الموت ۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۵۲
[5] احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السابع فی حقیقۃ الموت۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۵۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع