30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نہ آسمان کی طرف دیکھا نہ کبھی ہنسے۔ ایک مرتبہ بلا ارادہ آسمان کی طرف دیکھ لیا تو خوف سے کانپ کر گر پڑے اور ان کی آنت اتر آئی اور یہ بھی مشہور ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ کر خدا عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے اپنے بدن کو ٹٹولا کرتے تھے کہ کہیں میں مسخ تو نہیں ہوگیا ہوں ۔ ([1]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۱)
( ۱۲) حضرت صالح مری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیان ہے کہ میں نے ایک عابد کے سامنے یہ آیت پڑھ دی کہ
یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا(۶۶) ([2]) (پ ۲۲ الاحزاب آیت ۶۶)
جس دن ان کے چہرے جہنم میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے اور وہ یہ کہتے ہوں گے کہ کاش! ہم لوگوں نے اللہ و رسول کی اطاعت کرلی ہوتی۔
یہ آیت سن کر وہ بے ہوش ہوگئے۔ پھر ہوش میں آئے تو انہوں نے کہاکہ اے صالح! رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کچھ زیادہ پڑھیے کیونکہ میں اپنے دل میں غم کی کیفیت محسوس کرتا ہوں تو میں نے یہ پڑھ دیا کہ
كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا ([3]) (پ ۲۱، السجدۃ آیت۲۰)
جب جہنمی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ اس میں ڈال دیئے جائیں گے ۔
اس آیت کو سن کر وہ عابد زمین پر گر پڑے اور اسی دم ان کی روح پرواز کر گئی۔([4]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۱)
یہی صالح مری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن السماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو نامور محدث اور باکمال واعظ و عابد تھے ہمارے یہاں آئے اور مجھ سے کہا کہ آپ اپنے یہاں کے عابدوں کے عجائب مجھے دکھلائیے تو میں ان کو محلہ کے ایک چھپر میں لے گیا تو وہاں ایک آدمی ٹوکری بنارہا تھا تو میں نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھ دی کہ
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُؕ-یُسْحَبُوْنَۙ(۷۱) فِی الْحَمِیْمِ ﳔ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ(۷۲) ([5]) (پ۲۴، المومن۷۲)
جب ان( جہنمیوں ) کی گردن میں طوق اور زنجیریں ہوں گی وہ لوگ گھسیٹے جائیں گے کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جلائے جائیں گے۔
تو آیت سن کر اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور بے ہوش ہو گیا پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر ہم ایک دوسرے عابد کے سامنے گئے تو اس کے سامنے بھی میں نے یہی آیت پڑھ دی، تو وہ بھی چیخ مار کر بے ہوش ہوگیا۔ پھر ہم لوگ تیسرے عابد کے پاس گئے تو میں نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھ دی :
ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ(۱۴)([6]) (پ۱۳ابراہیم آیت۱۴)
یہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔
تو وہ بھی چیخ پڑے اور ان کے نتھنوں سے اتنا خون بہا کہ وہ خون میں لت پت ہوگئے، یہاں تک کہ ان کی روح نکل گئی، اسی طرح میں نے ابن السماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو چھ عابدوں کے پاس پھرایا اور جس کے سامنے میں نے آیت پڑھ دی وہ بے ہوش ہوگیا۔ پھر میں ساتویں عابد کے پاس ان کو لے کر چلا تو ایک عورت نے چھپر کے اندر سے ہم لوگوں کو بلایا جب ہم چھپر کے اندر داخل ہوئے تو ایک بوڑھا عابد اپنے مصلے پر بیٹھا ہوا تھا۔ ہم لوگوں نے سلام کیا تو اس کو ہمارے سلام کی خبر نہ ہوئی تو میں نے زور سے چلا کر کہا کہ ان للخلق غدا مقاما (یعنی کل قیامت میں ایک مقام پر تمام مخلوق کو کھڑا ہونا پڑے گا۔) تو اس بوڑھے نے کہا کہ کس کے سامنے؟ پھر وہ منہ کھولے اور آنکھ پھاڑے مبہوت بنارہا اور اوہ اوہ !کہتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی بیوی نے ناراض ہو کر ہم کو اپنے گھر سے نکال دیا۔ پھر میں نے ایک دن ساتوں عابدوں کا حال معلوم کیا تو پتا چلا کہ تین تو ہوش میں آگئے اور تین وفات پاگئے اور ساتواں جو بوڑھا تھا تین دن تک اس طرح مبہوت و حیران رہا کہ اسے فرض نمازوں کی بھی خبر نہیں ہوتی تھی۔([7]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۱)
(۱۳) حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بہت ہی نامور شیخ الحدیث تھے، اور بادشاہ اور گورنروں کو نصیحت کرنے میں مطلق خوف نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کے روبرو کلمہ حق علی الاعلان کہہ دیا کرتے تھے اور اس قدر بارعب تھے کہ کوئی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا جواب دینے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا مگر خوف خداوندی کا یہ عالم تھا کہ بستر پر لیٹتے تو سانپ کی طرح کروٹ بدلتے رہتے پھر بستر لپیٹ کر رکھ دیتے اور فرمایا کرتے کہ جہنم کے ذکر نے خدا عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والوں کی نیندیں اڑا دی ہیں پھر تہجد پڑھ کر مسجد میں چلے جاتے اورنمازفجر اداکرکے اپنے مصلی پرقبلہ رو بیٹھے رہاکرتے تھے۔([8])
(احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۳)
(۱۴) حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
[1] احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف، ج۴، ص۲۲۸
[2] ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کرآگ میںتلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کاحکم ماناہوتااور رسول کاحکم ماناہوتا۔(پ ۲۲، الاحزاب : ۶۶)
[3] ترجمۂ کنزالایمان : جب کبھی اس میں سے نکلناچاہیں گے پھر اسی میں پھیردیئے جائیں گے۔ (پ ۲۱ ، السجدۃ : ۲۰)
[4] احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف، ج۴، ص۲۲۹
[5] ترجمۂ کنزالایمان : جب ان کی گردنوںمیں طوق ہوں گے اور زنجیریں، گھسیٹے جائیں گے کھولتے پانی میں پھر آگ میں دہکائے جائیں گے۔ (پ۲۴، المؤمن: ۷۱، ۷۲)
[6] ترجمۂ کنزالایمان : یہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔(پ۱۳، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع