30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اچھا ہوتا تاکہ میں قیامت کے دن حساب اعمال سے بچ جاتا۔)([1]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۶) حضرت مسور بن مخرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
آ پ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مشہور صحابی ہیں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پرخوفِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کا ایسا غلبہ تھا کہ قرآن مجید سننے کی تاب نہیں رکھتے تھے، اگر کبھی کوئی آیت سن لیتے تو چیخ مار کر بے ہوش ہوجاتے تھے اور کئی کئی دن بے ہوش رہا کرتے تھے۔ا یک دن قبیلہ خثعم کا ایک قاری آیا اور اس نے یہ آیت تلاوت کردی ۔
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ(۸۵) وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ(۸۶) ([2]) (پ۱۶، مریم آیت۸۶)
(جس کا ترجمہ یہ ہے کہ) ہم قیامت کے دن متقی لوگوں کو مہمانوں کی صورت میں رحمٰن کے دربار میں جمع کریں گے اور مجرموں کو ہانک کر جہنم کی طرف پیاسا لے جائیں گے
آیت سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں تو متقی لوگوں میں سے نہیں ہوں ، بلکہ میں تو مجرمین میں سے ہوں ۔ اے قاری! اس آیت کو پھر پڑھ چنانچہ قاری نے اس آیت کو دوبارہ پڑھا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے زور سے ایک چیخ ماری اور فوراً آپ کی وفات ہوگئی۔([3]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۷) حضرت امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب بھی نماز کے لیے وضو کرتے تو خوفِ خداوندی سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا چہرہ پیلا پڑ جاتا تو گھر والوں نے پوچھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ کیا عادت ہوگئی ہے؟ کہ ہمیشہ وضو کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس قدر ڈر جاتے ہیں کہ چہرہ پیلا پڑ جاتا ہے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کانپنے لگتے ہیں ؟ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا
کہ کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ میں کس کے سامنے نماز میں کھڑا ہونے والا ہوں ۔([4]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۸) حضرت خوا جہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک آدمی کو زور سے قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے دیکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس سے فرمایا کہ اے نوجوان! کیا تو پل صراط پر سے گزرچکا ہے؟ تو اس نے کہا کہ جی نہیں پھر پوچھا کہ کیا تجھے معلوم ہوچکا ہے کہ توجنتی ہے یا جہنمی ؟ تو اس نے جواب دیا کہ جی نہیں ، تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ پھر یہ ہنسی کیسی اور کس بنا پر ہے؟ تو اس نوجوان پر یہ اثر ہوا کہ پھر وہ زندگی بھر کبھی نہیں ہنسا۔([5]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۹) حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیان ہے کہ میں نے طواف کعبہ کے دوران ایک لڑکی کو دیکھا وہ کعبہ معظمہ کے پردوں سے چمٹی ہوئی رو رہی ہے کہ یارب! عَزَّ وَجَلَّ بہت سی شہوتوں کی لذتیں جاتی رہیں اور ان کی سزائیں میرے سر پر رہ گئیں ، اے میرے رب! کیا جہنم کے سوا مجھے سزا دینے کی اور کوئی دوسری صورت نہیں ہے! وہ لڑکی ساری رات صبح تک اپنی جگہ پر بیٹھی روتی اور دعائیں مانگتی رہی ۔حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کا حال اور اس کی دعاؤں کو سن کر اپنا سر پکڑلیا اور میری چیخ نکل گئی اور میں نے کہا کہ مالک بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ماں مالک بن دینارکو روئے۔ (یعنی مالک بن دینار مرجائے) ([6]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۱۰) حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے کہ اچھے مکان پر ناز نہ کرو، جنت سے زیادہ اچھا مکان اور کو ن سا ہوگا ؟ مگر حضرت آدم علی نبیناوعلیہ الصلاۃوالسلام کے ساتھ جوکچھ ہوااسی جگہ ہوا اور عبادت کی کثرت پر غرور نہ کرو، ابلیس سے بڑا کون عابد ہوگا مگر اس کو کیا ملا ؟ اور علم کی زیادتی پر گھمنڈ نہ کرو دیکھو بلعم بن باعوراء کو خدا عَزَّ وَجَلَّ کا اسم اعظم معلوم تھا مگر اس کا کیا انجام ہوا؟ کہ وہ کافر ہوگیا اور اس کی زبان لٹک کر سینے پر آگئی اور نیکوں کی زیارت سے بھی فریب نہ کھاؤ، دیکھو حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ابولہب اور ابو طالب نے دیکھا صحبت بھی اٹھائی، قرابت بھی تھی مگر ان دونوں کو کچھ نفع نہیں پہنچا۔ ([7]) (احیاء العلوم ج ۴ ص۱۶۰)
(۱۱) حضرت سری سقطی و عطاء سلمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ما
یہ دونوں اولیاء کاملین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ممیں سے ہیں ، حضرت سری سقطیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ اپنی ناک کو بغور دیکھتا ہوں کہ کہیں گناہوں کی وجہ سے میرا منہ کالا تو نہیں ہوگیا ؟
حضرت عطاء سلمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کبھی جنت کی دعا نہیں مانگتے تھے بلکہ ہمیشہ گناہ معاف ہونے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ مرض الموت میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو کس چیز کی خواہش ہے ؟تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ جہنم کا خوف میرے دل میں کوئی خواہش پیدا ہونے ہی نہیں دیتا ۔اور لوگوں کا بیان ہے کہ چالیس برس تک حضرت عطاء سلمی رَحْمَۃُ اللہِ
[1] احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء ، بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف، ج۴، ص۲۲۷
[2] ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔ (پ۱۶، مریم: ۸۵، ۸۶)
[3] احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف، ج۴، ص۲۲۷
[4] احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان أحوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف، ج۴، ص۲۲۷
[5] احیاء علوم الدین$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع