دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

کرتاتھا۔([1])  

(اولیاء رجال الحدیث ص۳۰)

(۸) حضرت امام ابویوسف    رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        بغداد کے مشہور بزرگ حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے ایک رفیق سے کہا کہ تم مجھے امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی وفات کی خبر دینا۔ رفیق کا بیان ہے کہ میں بغداد کے ایک دروازے پر پہنچا تو امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا جنازہ جارہا تھا میں نے سوچا کہ اگر حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو خبر دینے جاتا ہوں تو نماز جنازہ فوت ہوجائے گی اس لیے میں نماز جنازہ پڑھ کر ان کے پاس گیا اور ان کو خبر سنائی تو ان کو بے حد صدمہ ہوا بار بار انا للّٰہ پڑھتے رہے اورافسوس کرتے رہے کہ ہائے! میں ان کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوسکا پھر فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں جنت میں داخل ہوا وہاں دیکھتا ہوں کہ ایک محل تیار ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ محل امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے لیے بنا ہے ان کی اچھی تعلیم اور تعلیمِ دین کے شوق کے صلہ میں ، اور انہوں نے لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کیا اس کے اجر میں خدا  عَزَّ وَجَلَّ نے ان کو یہ بلند مرتبہ عطا فرمایاہے۔۵ ربیع الاول ۱۸۲ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ مزار شریف بغداد میں ہے۔([2])

 (اولیاء رجال الحدیث واحیاء العلوم ج۴)

(۹) حضرت امام مالک  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ کون سے عمل پر آپ کی مغفرت ہوگئی؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ میرا تو ایک ہی کلمہ  اللہ   تَعَالٰی کو پسند آگیا اور اسی پر میری مغفرت ہوگئی اور وہ کلمہ وہی ہے جو حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر جنازہ دیکھ کر پڑھا کرتے تھے : سُبْحَانَ الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ(پاک ہے وہ ذات جو ہمیشہ سے ہے اور اس کے لیے کبھی موت نہیں ہے)۔ ([3])  (احیاء العلوم ج۴ص۴۳۳)

(۱۰) حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        حضرت ربیع بن سلیمان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا تو ان کا حال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ارحم الراحمین نے مجھے سونے کی کرسی پر بٹھا کر میرے اوپر تازہ چمکدار موتیوں کو نثار فرمایا۔ ([4])   (احیاء العلوم ج۴ ص۴۳۳)

(۱۱) حضرت خوا  جہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے شاگردوں میں سے ایک نے اس رات میں خواب دیکھا جس رات میں خوا جہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا وصال ہوا کہ ایک منادی یہ اعلان کر رہا ہے کہ ان اللّٰہ اصطفی آدم ونوحا وآل ابراہیم وآل عمران علی العلمین واصطفی الحسن البصری علی اھل زمانہ’’ کہ یقیناً  اللہ   تَعَالٰی نے حضرت آدم اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام کی اولاد اور حضرت عمران  کی اولاد کو سارے جہان والوں پر فضیلت میں برگزیدہ بنالیا ہے اور حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو ان کے زمانے والوں پر فضیلت میں برگزیدہ بنالیا ہے۔ ([5])   (احیاء العلوم ج۴ص۴۳۳)

(۱۲) حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

        استاذ المحدثین حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی وفات ہوگئی تو لوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ آپ کا کیا انجام ہوا؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ میں نے ایک قدم پل صراط اور دوسرا قدم جنت میں رکھا اور حضرت ابن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے یہ بھی منقول ہے کہ میں نے خواب میں حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو دیکھا کہ وہ جنت میں ایک درخت سے دوسرے درخت پر اڑ کر آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ آیت پڑھتے ہیں کہ

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ(۶۱)([6]) 

ان نعمتوں جیسی نعمت کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرناچاہئے۔

          پھر میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے کچھ وصیت فرمائیے۔ تو فرمایا کہ تم دنیا کے لوگوں سے جان پہچان اور میل میلاپ کم رکھو اور قبیصہ بن عقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو خواب میں دیکھااور پوچھا کہ خدا عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو انہوں نے یہ تین اشعار پڑھے کہ   

نظرت  اِلی  ربی کفاحا  فقال  لی                                                        ھنیئًا   رضائی  عنک   یا  ابن   سعید

میں نے اپنے رب کا آمنے سامنے دیدار کیا، تو اس نے مجھ سے فرمایا کہ اے سعید کے فرزند میری رضا و خوشنودی تجھے مبارک ہو

قد  کنت  قواما  اذا  اظلم  الدجی                                     بعبرۃ    مشتاق    وقلب     عمید

 



[1]        الطبقات الکبری للشعرانی، ج۱، ص۷۷

[2]        تاریخ بغداد،  یعقوب بن ابراہیم، ج۱۴، ص۲۶۲

[3]      احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن، بیان منامات المشائخ،  ج۵، ص۲۶۶

[4]       احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ،  الباب الثامن، بیان منامات المشائخ،  ج۵، ص۲۶۷

[5]      احیاء علوم الدین،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ،  الباب الثامن، بیان منامات المشائخ،  ج۵، ص۲۶۷

[6]       ترجمۂ کنزالایمان  : ایسی ہی بات کے لئے کامیوںکوکام کرناچاہیے۔(پ۲۳$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن