دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

(۴) حضرت ابوسنان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے بیٹے کی قبر پر یوں دعا مانگی کہ اے  اللہ !  عَزَّ وَجَلَّ میرے بیٹے پر کچھ میرے حقوق تھے اور کچھ تیرے حقوق تھے تو میں نے اپنے تمام حقوق کو معاف کردیا ہے، لہذا تو بھی اپنے حقوق کو معاف فرمادے کیونکہ تو مجھ سے بہت زیادہ کریم ہے۔([1])   (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۵)

(۵) حضرت عمر بن ذررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے فرزند کو قبر میں اتار کر یوں دعا کی کہ اے ذربن عمر! خدا  عَزَّ وَجَلَّ تجھ پر رحمت کرے مجھے اس کی امید ہے اور خدا  عَزَّ وَجَلَّ تجھ کو عذاب سے بچائے مجھے اس کا اندیشہ ہے کاش! مجھے خبر ہوجاتی کہ تو نے خدا  عَزَّ وَجَلَّ سے کیا کہا اور خدا  عَزَّ وَجَلَّ نے تجھ سے کیا فرمایا۔ اے  اللہ !  عَزَّ وَجَلَّ میرا بیٹا ذر، تو نے اس سے مجھے فائدہ مند فرمایا تھا اور تو نے اس کی روزی اور عمر پوری کردی اور یقیناً تو نے کوئی ظلم نہیں کیا ہے۔ اے  اللہ !  عَزَّ وَجَلَّ میں نے اس پر اپنی اور تیری اطاعت لازم کردی تھی، اور اے  اللہ !  عَزَّ وَجَلَّ تو نے میری مصیبت پر اجرکا وعدہ فرمایا ہے تو مجھے اجر عطا فرما اور اس کو عذاب سے بچالے۔     

اس دعا پر حاضرین کو رقت طاری ہوگئی اور سب لوگ رونے لگے۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ اے ذر! تیرے بعد اب میرا کوئی خاص باقی نہیں رہ گیا ہے، اور  اللہ   تَعَالٰی کے ہوتے ہوئے مجھے کسی انسان کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے، اے بیٹا!اب ہم تجھے چھوڑ کر جارہے ہیں اور اگر ہم یہاں ٹھہریں بھی تو اس سے تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔

نوٹ :  حضرت عمررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے باپ کا نام بھی ذر تھا اور ان کے بیٹے کا نام بھی ذر تھا۔([2])  (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۵)

(۶) بصرہ کی ایک صابرہ عورت

        بصرہ کی ایک عورت کو دیکھ کر ایک شخص نے کہا کہ تیرے چہرے پر عجیب رونق ہے۔ شاید تجھے کوئی غم نہیں پہنچا ہے تو عورت نے کہا :  غم تو مجھے ایسا پہنچا ہے کہ شاید بہت ہی کم لوگوں کو ایسا غم پہنچا ہوگا۔

        سنو ! میرے دو بچے نہایت ہی خوبصورت تھے، جو ہر وقت میرے سامنے کھیلتے رہتے تھے، بقرہ عید کے دن میرے شوہر نے ایک بکری کی قربانی کی جس کو میرے بڑے لڑکے نے دیکھ لیا تھا تو اس نے میرے چھوٹے لڑکے سے کہا کہ آؤ میں تجھے دکھلادوں کہ کس طرح میرے باپ نے بکری ذبح کی تھی، یہ کہا اور چھری لے کر اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو ذبح کردیا۔ پھر وہ ڈر سے پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ پھر میرا شوہر اس بچے کی تلاش میں پہاڑ پر چڑھا تو وہ پیاس سے مرگیا۔ اے شخص !ایک ہی دن دونوں بیٹے اور شوہر کی موت کا غم مجھ پر پڑ گیا۔اب میں دنیا  میں اکیلی رہ گئی ہوں ۔ مگر  اللہ   تَعَالٰی نے مجھے صبر کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ میں نے کبھی اس اپنی مصیبت پر گریہ و بکا کرکے نہ غم منایا نہ کوئی ناشکری کا لفظ زبان سے نکالا۔([3])  (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۵)

دنیا کی کنجی

      حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں :  دنیا کی کنجی شکم سیری اور آخرت کی کنجی بھوک ہے۔  (نزہۃ المجالس، ج۱، ص۱۷۷)

      حضرت سیدنا سہل بن عبد اللہ  تستری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :  (۱)بروز قیامت کوئی عمل ضرورت سے زیادہ کھانے کو ترک کرنے سے افضل نہ ہوگا کیونکہ یہ سنت نبوی ہے (۲)سمجھدار لوگ دین ودنیا میں بھوک کو بہت زیادہ نفع بخش قرار دیتے ہیں (۳)آخرت کے طلبگاروں کے لیے کھانے سے زیادہ کسی چیز کو میں نقصان دہ نہیں سمجھتا (۴)علم وحکمت کو بھوک میں اور گناہ وجہالت کو شکم سیری میں رکھا گیا ہے (۵)جو اپنے نفس کو بھوکا رکھتا ہے اس سے وسوسے ختم ہو جاتے ہیں (۶)بندہ جب بھوکا، بیمار اور امتحان میں مبتلا ہوتا ہے اس وقت  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے مگر جسے  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ چاہے۔

(احیاء العلوم، ج۳، ص۹۱)

جاندار بدن کی آفتیں      

       حضرت سیدنا یحیی معاذ رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :  جو پیٹ بھر کر کھانے کا عادی ہو جاتا ہے اس کے بدن پر گوشت بڑھ جاتا ہے اور جس کے بدن پر گوشت بڑھ جاتا ہے وہ شہوت پرست ہوجاتا ہے اور جوشہوت پرست ہوجاتا ہے اس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور جس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور جس کا دل سخت ہو جاتا ہے وہ دنیا کی آفتوں اور رنگینیوں میں غرق ہو جاتا ہے۔  (المنبہات للعسقلانی، باب الخماسی، ص۵۹) (فیضان سنت، ج۱)   

(۴) اموات کے لیے کس نے کیا خواب دیکھا؟

        مومن کے اچھے اچھے خوابوں کی بہت وقعت و اہمیت ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات قالوا :  وما المبشرات؟ قال :  الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل المسلم او تری لہ([4])

        نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہ گیا ہے تو صحابہ علیہم الرضوان نے کہا کہ مبشرات کیا ہیں ؟ تو ارشاد فرمایا کہ ’’اچھے اچھے خواب خود مسلمان اس کو اپنے لیے دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لیے دیکھے۔‘‘(مشکوٰۃج۲ص۳۹۴بحوالہ بخاری)

          تو اموات کے بارے میں بزرگوں نے جو اچھے اچھے خواب دیکھے ہیں ۔ ان میں سے چند خوابوں کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان خوابوں سے عبر ت حاصل ہو۔ واللّٰہ  تَعَالٰی



[1]        احیاء علوم الدین،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ،  الباب السادس، بیان اقاویلھم عند موت الولد، ج۵، ص۲۴۱

[2]      احیاء علوم الدین،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ،  الباب السادس، بیان اقاویلھم عند موت الولد، ج۵، ص۲۴۱

[3]      احیاء علوم الدین،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ،  الباب السادس، بیان اقاویلھم عند موت الولد، ج$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن