30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قیامت کے دن جب ایک بہت ہی سخت مزاج کھینچنے والا اور ہانکنے والا فرزدق کو لے چلے گا
لقد خاب من اولاد آدم من مشی الی النار مغلول القلادۃ ازرقا
اولاد ِ آدم میں سے جو شخص جہنم کی طرف گردن میں طوق پہنے ہوئے روسیاہ ہو کر جائے گا وہ بہت ہی نامراد ہوگا۔([1])(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)
(۳)اولاد کی موت پر کس نے کیا کہا؟
اولاد کی موت بڑا دل سوز، روح فرسا اور صبر آزما حادثہ ہوا کرتا ہے اس سانحہ پر بزرگوں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ م کے چند اقوال پڑھیے اور عبرت حاصل کیجئے۔
و اللہ تَعَالٰی ھوالموفق
(۱) حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
(۱) حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی کافرزند وفات پا جاتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ کیا تم نے میرے بندے کے فرزند کو وفات دے دی؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ جی ہاں پھر اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ کیا تم نے اس کے دل کے پھل کو چھین لیا؟ تو فرشتے کہتے ہیں کہ جی ہاں تو اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ اس وقت میرے بندے نے کیا کہا ؟تو فرشتے کہتے ہیں کہ تیرے بندے نے تیری حمد کی اورانا للّٰہ پڑھا۔ تو اللہ تَعَالٰی فرماتاہے کہ تم میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس گھر کا نام ’’بیت الحمد‘‘(حمد کا گھر) رکھ دو۔([2]) (مشکوٰۃج۱ص۱۵۱ بحوالہ ترمذی)
(۲) حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فرزند حضرت ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کے وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ گئے تو صاحبزادہ کی جانکنی کا منظر دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تو عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! کیا آپ رو رہے ہیں ؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا اے عوف کے بیٹے! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میرا یہ آنسو بہانا شفقت ہے، پھر دوبارہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آنسو بہنے لگے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ان العین تدمع والقلب یحزن ولا نقول الا ما یرضی ربنا وانا بفراقک یا ابراہیم لمحزونون۔ یعنی آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم وہی بات کہتے ہیں جس سے ہمارا رب عَزَّ وَجَلَّ راضی ہو اور بلاشبہ اے ابراہیم! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں ۔([3]) (مشکوٰۃج۱ص۱۵۰ بحوالہ بخاری ومسلم)
(۳) حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صاحبزادی حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے فرزند کی وفات کے وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ سعد بن عبادہ و معاذ بن جبل و اُبی بن کعب و زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُموغیرہ بھی تھے تو بچہ اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گود میں دیا گیا جب کہ وہ جانکنی کے عالم میں تڑپ رہا تھا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تو حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ کیا؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ یہ شفقت ہے جو اللہ تَعَالٰی نے اپنے بندوں کے دل میں ڈال دی ہے اور اللہ تَعَالٰی انھیں بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں ۔([4])
(مشکوٰۃج۱ص۱۵۰ بحوالہ بخاری ومسلم)
(۴) ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہمیشہ اپنے بچے کو لے کر بارگاہ رسالت میں آیا کرتے تھے ایک بار وہ تنہا آئے تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پوچھا کہ تمہارے بچہ کوکیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تو مر گیا یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس پھاٹک پر بھی جاؤ گے تو وہ تمہارا بچہ تمہارا انتظار کررہا ہوگا۔([5]) (مشکوٰۃج۱ص۱۵۳ )
(۲) حضرت داؤد علی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام
حضرت داؤد علی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام کا ایک فرزند وفات پاگیا تو آپ کو بے حد غم ہوا۔ آپ سے کسی نے کہا کہ اے داؤد! علی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام تم اس بچے کو بچانے کے لیے کتنا فدیہ دے سکتے تھے ٰ؟ تو آپ نے عرض کیا کہ زمین بھر کر سونا۔ توآپ سے کہاگیا کہ اے داؤد! علی نبیناوعلیہ الصلاۃو السلام تم کو اتنا ہی بڑا ثواب ملے گا۔([6]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۵)
( ۳) حضرت محمد بن سلیمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
یہ ایک مشہور ونامور تابعی محدث ہیں انہوں نے اپنے فرزند کی قبر پر اس
طرح دعا مانگی کہ یا اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ میں اس فرزند کے بارے میں تجھ سے کچھ امیدیں رکھتا ہوں اور کچھ تیرا خوف بھی رکھتا ہوں تو اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ تو میری امیدوں کو پورا فرمادے اور مجھے خوف سے اپنے امن میں رکھ لے۔([7]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع