30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۰) حضرت عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
یہ بھی بزرگان سلف میں بڑے پائے کے بزرگ ہیں ۔ منقول ہے کہ ان کا ایک پڑوسی جو بہت ہی بدکار اور نہایت ہی گنہگار تھا۔ اس کا انتقال ہوگیا تو اس کے فسق و بدکاری کی وجہ سے تمام اہلِ محلہ نے اس کے جنازہ کا بائیکاٹ کردیا اور گھنٹوں اس کا جنازہ پڑا رہا کوئی اس کو اٹھانے کے لیے نہیں آیا۔ جب حضرت عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اس کی خبر ملی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آکر اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کو دفن کیا پھر اس کی قبر پر کچھ دیر ٹھہر کر فرمایا کہ اے ابوفلاں ! خداوند کریم تجھ پر رحمت فرمائے تو عمر بھر عقیدہ توحید و رسالت پر قائم رہا اور ہمیشہ تو خداوند قدوس کو سجدہ کرتارہا۔ آج لوگوں نے تجھے بدکار وگنہگار کہہ کر تیرے جنازہ کا بائیکاٹ کردیا۔ افسوس! آج ہم میں کون ایسا ہے جو گنہگار نہیں ہے۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس گنہگارمیت کے لیے دیر تک دعائے مغفرت فرمائی اور روتے رہے۔([1]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۲)
منقول ہے کہ ایک شرابی اور بڑا ہی پاپی بدکار بصرہ کے اطراف میں رہتا تھا۔ اس کا انتقال ہوا تو چونکہ پورا گاؤں اس سے ناراض و بیزار تھا کوئی شخص اس کا جنازہ اٹھانے اور نماز جنازہ پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوا مجبورا ً اس کی بیوی نے دو مزدوروں سے جنازہ اٹھوا کر قبرستان تک پہنچایا اور گاؤں کا ایک بھی آدمی قبرستان تک نہیں آیا۔ اس گاؤں کے قریب ایک پہاڑ پر ایک بڑے بزرگ زاہد و عابد عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے اور یہ بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تمام گاؤں والوں کے پیرومُرشدتھے۔ اس بزرگ نے پہاڑ کے اوپر سے دیکھا کہ ایک عورت جنازہ کے پاس ہے اور کوئی نماز جنازہ پڑھنے والا نہیں ہے تو یہ بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو کبھی پہاڑ سے نہیں اترتے تھے پہاڑ سے اتر پڑے جب گاؤں والوں کو معلوم ہوا کہ ہمارے پیرومرشد اس بدکار کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے پہاڑ سے اتر پڑے ہیں تو سارا گاؤں قبرستان میں پہنچ گیا پھر اس بزرگ اور تمام گاؤں والوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ کر اس کو دفن کیا۔
پھر اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ میں سورہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک عورت جنازہ لیے بیٹھی ہے اور کوئی نماز جنازہ پڑھانے والا نہیں ہے تو خواب ہی میں کسی نے مجھ سے کہا کہ تم پہاڑ سے اتر کر اس کے جنازہ کی نماز پڑھاؤ کیونکہ اس میت کی مغفرت ہوچکی ہے اس خواب کو سن کر لوگ تعجب سے سردھننے لگے۔ پھر اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس عورت سے اس کے شوہر کا حال پوچھا تو اس عورت نے بتایا کہ لوگ سچ کہتے ہیں کہ میرا شوہر بہت بدکار اور بڑا گناہ گار تھا۔ واقعی وہ دن بھر شراب خانہ ہی میں رہتا تھا۔ پھر بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دریافت کیا کہ تم نے اس کا کوئی نیک عمل بھی دیکھا ہے ؟تو عورت نے کہا کہ ہاں وہ گناہ گار ہونے کے باوجود تین اچھی باتوں کا پابند تھا۔ ایک تو یہ کہ وہ رات بھر شراب خانہ میں شراب پیتا تھا مگر جب صبح کو اس کا نشہ اتر جاتا تو وہ غسل و وضو کرکے کپڑے بدلتا اور نماز فجر جماعت سے پڑھا کرتا تھا۔ پھر وہ شراب خانہ میں جا کر فسق و فجور میں پڑ جاتا تھا۔ دوسری اچھی بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ایک یاد و یتیم بچوں کو اپنے گھر میں رکھتا تھا اور ان یتیموں کے ساتھ اپنے بچوں سے بڑھ کر اچھا سلوک کیا کرتا تھا۔ تیسری اچھی بات یہ ہے کہ رات میں جب کبھی بھی اس کا نشہ اترتا تھا تو وہ اکیلا زار زار روتا تھا اور یہی کہتا تھا کہ اے میرے رب! عَزَّ وَجَلَّ تو جہنم کے کون سے گوشہ میں مجھ خبیث کو ڈالے گا۔ یہ سن کر بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کی مغفرت کا راز سمجھ گئے۔ پھر وہ اس میت کے لیے دعائیں کرتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔([2]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۲)
(۱۲)حضرت فاطمہ بنت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
یہ حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی صاحبزادی ہیں جو عام طور پر ’’ فاطمہ صغریٰ‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں جب ان کے شوہر حسن بن امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا وصال ہوگیا تو انہوں نے ان کے جنازہ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھا کہ
وکا نوا رجاء ثم امسوا رزیۃ لقد عظمت تلک الرزایا وجلت
یہ لوگ امید تھے پھر شام کو مصیبت بن گئے تو یہ مصیبتیں بہت زیادہ اور بڑی شاندار ہوگئیں ۔ پھر انہوں نے اپنے شوہر کی قبر کے پاس ایک خیمہ گاڑا اور مسلسل ایک سال تک وہ اسی خیمہ میں رہیں ۔ سال بھر کے بعد خیمہ اکھاڑ کر جب وہ اپنے مکان پر جانے لگیں تو مدینہ منورہ کے قبرستان جنۃ البقیع کے ایک جانب سے ایک غیبی آواز آئی۔ کہ الا ھل وجدوا مافقدوا (خبردار!کیا ان لوگوں نے اس چیز کو پالیاجس کو کھودیا تھا) تو دوسرے کنارے سے یہ آواز آئی کہ بل یئسوا فانقلبوا( نہیں بلکہ ناامید ہوگئے لہٰذا پلٹ کر اپنے گھر چلے گئے) ان دونوں آوازوں کو لوگوں نے سنا مگر آواز دینے والوں کو کسی نے نہ دیکھا۔([3]) (مشکوٰۃج۱ص۱۵۲واحیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)
یہ بہت ہی مشہور شاعر ہے جو اہلِ بیت کا بہت ہی محب و مداح تھا۔ جب اس کی بیوی کا انتقال ہوا تو بصرہ کے تمام شرفاء و رؤساجنازہ میں شامل ہوئے۔ قبرستان میں حضرت خوا جہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرزدق سے پوچھا کہ کیوں فرزدق! تم نے اس دن کے لیے کون سی تیاری کررکھی ہے؟ تو فرزدق نے جواب دیاکہ میری بس یہی تیاری ہے کہ ساٹھ برس سے کلمہ پڑھتا رہا ہوں ، پھر فرزدق اپنی بیوی کی قبر کے پاس دردناک لہجے میں یہ اشعار پڑھنے لگا :
اخاف وراء القبر ان لم تعافنی اشد من القبر التھابا واضیقا
(اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ ) اگر تو نے مجھے معاف نہ کردیا تو قبرکے علاوہ قبرسے زیادہ تنگ جگہ اوربھڑکنے والی آگ کا مجھے خوف ہے
اذا جاء یوم القیامۃ قائد عنیف وسواق یسوق الفرزدقا
[1] احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس فی اقاویل العارفین۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۳۶
[2] احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب السادس فی اقاویل العارفین۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۳۶
[3] صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب مایکرہ من اتخاذالمسجد، ج۱، ص۴۴۸۔ احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، الباب السادس، فصل بیان حال القبر واقاویلھم عند القبور، ج۵، ص۲۳۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع