دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

سے زیادہ سخت ہوں گی، اور رسول  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ قبر سے بڑھ کر خوفناک منظر کبھی میں نے دیکھا ہی نہیں ۔([1]) (مشکوٰۃج۱ص۲۶)

(۳) حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        کسی نے امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قبرستان میں کیوں بہت دیر دیر تک ٹھہرے رہتے ہیں ؟ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں قبر والوں کو بہترین پڑوسی پاتا ہوں ۔ میں قبر والوں کو سچا  پڑوسی جانتا ہوں کیونکہ وہ زبانوں کو ہمیشہ (بدگوئی اور بدکلامی سے) روکے رہتے ہیں اور آخرت کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور رسول  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ میں نے کبھی ایسا خوفناک منظر نہیں دیکھا جو قبر سے بڑھ کر خوفناک ہو۔([2]) (احیاء العلوم للغزالی ج۴ص۴۱۲)

(۴) حضرت ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرت ابوالدردا ء صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اکثر قبرستانوں میں بیٹھا کرتے تھے تو لوگوں نے اس کے بارے میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قبرستان میں اکثر اوقات کیوں بیٹھے رہا کرتے ہیں ؟ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں ایسی قوم کے پاس بیٹھتا ہوں جو مجھے آخرت کی یاد دلاتے ہیں اور جب میں ان لوگوں سے غائب ہوجاتا ہوں تو یہ لوگ میری غیبت نہیں کرتے۔([3]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۲)

(۵) حضرت امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرت امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رات کو قبرستانوں میں تشریف لے جایا کرتے اور فرماتے کہ اے قبر والو! کیا بات ہے کہ میں تم لوگوں کو پکارتا ہوں تو تم لوگ کوئی جواب نہیں دیتے ہو؟ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے : افسوس ! کہ میرے اور تمہارے درمیان ایسا حجاب ہوگیا ہے۔ لیکن آئندہ میں بھی تمہارے ہی جیسا ہوجانے والا ہوں ۔   

 آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہی کلمات فرماتے رہتے یہاں تک کہ صبح صادق نمودار ہوجاتی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز فجر کے لیے مسجدمیں تشریف لے جاتے۔([4]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)

(۶)حضرت یزید رقاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        مشہور وباکمال محدث حضرت یزید رقاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  قبروں کے پاس جاکر فرمایا کرتے کہ اے قبر کے گڑھے میں دفن ہوجانے والو! اور اے تنہائی میں رہنے والو! اور اے زمین کے اندرونی حصہ میں اُنسیت رکھنے والو! کاش! مجھے خبر ہوجاتی کہ میں تمہارے کون سے اعمال پر خوشخبری حاصل کروں ؟ اور میں تم میں سے کون سے بھائی پر رشک کروں ؟ یہ فرما کر پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس قدر روتے کہ آنسوؤں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا عمامہ بھیگ جاتا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب بھی کسی قبر کو دیکھ لیتے تو اتنے زور زور سے رونے کی آواز نکالتے تھے جیسے بیل چیخا کرتا ہے۔([5]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)

(۷) حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        مشہور محدث اور فقیہ حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جو حضرت امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے ہم عصر اور کوفہ کے باشندہ تھے فرمایا کرتے تھے کہ جو مسلمان بکثرت قبروں کا تذکرہ کرتا رہے گا وہ اپنی قبر کو جنت کا باغ پائے گا اور جو قبروں کے ذکر اور ان کی یاد سے غافل رہے گا وہ اپنی قبرکو جہنم کا گڑھا پائے گا۔([6])  (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)   

(۸) حضرت ربیع بن خیثم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہایت بلند مرتبہ محدث اور مشہور ولی کامل ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے گھر کے اندر ایک قبر بنارکھی تھی۔ تو جب بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ محسوس فرماتے کہ غفلت کی وجہ سے میرا دل کچھ سخت پڑ گیا ہے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس قبر میں داخل ہو کر لیٹ جاتے اور جب تک خدا  عَزَّ وَجَلَّ کو منظور ہوتا اس میں لیٹے رہتے پھر کہتے کہ اے میرے رب ! عَزَّ وَجَلَّ مجھے واپس لوٹا دے تاکہ میں کوئی نیک عمل کروں ۔ پھر خود ہی اپنے نفس کو جواب دیتے کہ اے ربیع ہم نے تجھے واپس لوٹا دیا۔ اب تو کوئی نیک عمل کر۔([7]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۳)

(۹) حضرت صالح مری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی جلیل القدر محدث اور نامور محدثین کے شاگرد ہیں اور بڑے بڑے باکمال محدثین ان کی درسگاہ حدیث کے طالب علم ہیں ۔ عبادت و ریاضت اور زہد و تقویٰ میں بھی ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کا عجیب عالم تھا کہ اگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کبھی کسی قبر کو دیکھ لیتے تھے تو دو دن تک حیران رہتے۔ کھانا پینا چھوڑ دیتے ، اور بالکل خاموش رہا کرتے تھے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ایک بڑی خاص کرامت یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قبرستان کے مردوں کی گفتگو سن لیتے تھے اور خود بھی مردوں سے گفتگو اور سوال وجواب کرتے تھے۔ خلیفہ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا سال ۱۷۲ھ لکھا ہے اور امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے  ۱۷۶ ھ میں وفات پائی۔([8]) (نووی، تہذیب التہذیب وطبقات شعرانی)

 



[1]        جامع الترمذی، کتاب الزہد، باب ۵،  الحدیث: ۲۳۱۵،  ج۴، ص۱۳۸

[2]        احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت،  الباب السادس فی اقاویل العارفین علی الجنائز والمقابروحکم زیارۃ القبور، ج۵، ص۲۳۶

[3]        احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت وما بعدہ ،  الباب السادس فی اقاویل العارفین علی الجنائز والمقابروحکم زیارۃ القبور، ج۵، ص۲۳۷

[4]     

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن