30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی تضمین کی ہے جس میں اس واقعہ کو نظم کیا ہے۔
جان برین یک بیت دادہ است آں بزرگ آرے ایں گوہر زکانے دیگر است
کشتگانِ خنجر تسلیم را ہر زمان از غیب جانے دیگر است([1])
اس ایک شعر پر ان بزرگ نے جان دیدی ہاں یہ گوہر کسی دوسری کان سے نکلا ہوا ہے۔ تسلیم و رضا کے خنجر سے قتل کیے ہوئے شخص کوہرگھڑی غیب سے ایک نئی زندگی ملا کرتی ہے۔
(اخبار الاخیار شیخ محقق ص۳۲)
یہ خلفائے بنوامیہ میں سے انتہائی سفاک وخونخوارظالم گورنرتھا۔اس نے ایک لاکھ انسانوں کواپنی تلوارسے قتل کیااورجولوگ اس کے حکم سے قتل کئے گئے ان کوتوکوئی گن ہی نہیں سکا۔بہت سے صحابہ اورتابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کواس نے قتل کیایاقیدوبند رکھا۔ حضرت خوا جہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ِ فرمایاکرتے تھے کہ اگرساری امتیں اپنے اپنے منافقوں کوقیامت کے دن لے کرآئیں اورہم اپنے ایک منافق حجاج بن یوسف ثقفی کوپیش کردیں توہماراپلہ بھاری رہے گا۔یہ حجاج بن یوسف جب کینسرکی خبیث بیماری میں مرنے لگاتواس کی زبان پریہ دعاجاری ہوگئی۔یہی دعامانگتے مانگتے اس کادم نکل گیا۔ اس کی دعایہ تھی کہ اللہ م اغفرلی فان الناس یقولون انک لاتغفرلی۔ اے میرے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ تومجھے بخش دے کیونکہ سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ تومجھے نہیں بخشے گا۔
خلیفہ عادل حضرت عمربن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوحجاج بن یوسف ثقفی کی زبان سے مرتے وقت کی یہ دعابہت اچھی لگی اوران کوحجاج کی موت پررشک ہونے لگااورجب حضرت خواجہ حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے لوگوں نے حجاج کی اس دعاکا ذکرکیا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تعجب سے فرمایاکہ کیاواقعی حجاج نے یہ دعامانگی تھی؟ تولوگوں نے کہاکہ جی ہاں اس نے یہ دعامانگی تھی۔توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ شاید(خدااس کوبخش دے)۔ ([2]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
(۲)جنازہ یا قبر دیکھ کر کس نے کیا کہا؟
جنازہ یا قبر دیکھ کر موت کی یاد آجاتی ہے اس خوفناک اور بھیانک منظر کو دیکھ کر بزرگوں نے کیا فرمایا؟ اس بارے میں ہم چند حوالے نقل کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس سے عبرت حاصل ہو اور لوگ اپنی زندگی میں قبر کا سامان کرلیں ۔
(۱) حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
(۱)حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قبروں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ القبرروضۃ من ریاض الجنۃ اوحفرۃ من حفرالنار رواہ الترمذی([3]) قبرجنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یاجہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیاہے۔(مشکوٰۃج۲ص۴۵۸)
(۲)کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس میت کو اچھا بتایا تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ وَجَبَتْ (واجب ہوگئی) پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس میت کو برا بتایا تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ وَجَبَتْ (واجب ہوگئی) تو حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی کہ کیا چیز واجب ہوگئی ؟ یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ایک جنازہ کی میت کو تم لوگوں نے اچھا بتایا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے جنازے کی میت کو تم لوگوں نے برا بتایا تو اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی کیونکہ تم (مومنین صالحین)روئے زمین پر اللہ تَعَالٰی کے گواہ ہو۔([4])
تو جس میت کو تم لوگوں نے اچھا بتایا وہ اللہ تَعَالٰی کے نزدیک بھی اچھاٹھہرا اور جس میت کوتم لوگوں نے برابتایاوہ اللہ تَعَالٰی کے نزدیک بھی برا قرار پایا۔ (مشکوٰۃج۱ص۱۴۵)
(۳) حضرت ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ دیکھ کر حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ مستریح اور مستراح منہ ( یہ آرام پانے والا ہے یا لوگوں کو اس سے آرام مل گیا ہے ) تو لوگوں نے عرض کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ مومن بندہ (جو نیک ہو وہ تو) وفات پاکر دنیا کی ایذاؤں اور مصیبتوں سےآرام پاکر اللہ تَعَالٰی کی رحمت میں پہنچ جاتا ہے، اور بد کار بندہ (جب مرجاتا ہے تو اس) سے تمام بندے تمام شہر یہاں تک کہ تمام درخت اور تمام چوپائے آرام پا جاتے ہیں ۔([5]) (مشکوٰۃج۱ص۱۳۹)
( ۲) حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
امیر المومنین حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے تھے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھی تر ہوجایاکرتی تھی۔ تو کسی نے کہا( اے امیرالمومنین) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنت و دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کے پاس کیوں روتے ہیں ؟ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ یقین رکھو کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے اگر اس سے نجات مل گئی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہوں گی اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو اس کے بعد کی منزلیں اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع