30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات ہوگئی اور پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کوئی آواز نہیں سنی گئی۔([1]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)
( ۴۶) حضرت احمد بن عبدالملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
حضرت معتمرمحدث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں احمد بن عبدالملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس ان کی نزع روح کی حالت میں گیا اور دعائیں کرنے لگا کہ یا اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ ان پر سکرات موت کو آسان فرمادے کیونکہ یہ تو ایسے تھے یہ تو ایسے تھے چند تعریفی کلمات میں نے کہے تو انہوں نے تڑپ کر کہا کہ یہ بولنے والا کون ہے؟ تو میں نے کہا کہ میں معتمر ہوں ، تو انہوں نے فرمایا کہ ملک الموت علیہ السلام مجھ سے فرمارہے ہیں کہ میں ہر سخی مومن کے ساتھ نزع روح میں نرمی برتتا ہوں ۔ یہ فرما کر پھر ایک دم وہ بجھ گئے۔ یعنی ان کی وفات ہوگئی۔([2]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)
( ۴۷) حضرت احمد بن خضرویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بہت بلند درجے کے ولی کامل ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات کے وقت کسی نے ان سے کوئی مسئلہ پوچھا تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے کہ اے میرے پیارے بیٹے! میں ایک دروازہ جس کو پچانوے برس سے کھٹکھٹاتا رہا ہوں وہ آج اس وقت کھل رہا ہے لیکن میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ دروازہ سعادت کے ساتھ کھلے گا یا شقاوت کے ساتھ کھلے گا تو ایسی حالت میں میرے لیے کسی مسئلہ کے جواب کا بھلا کہاں موقع ہے۔([3])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ فرمایا اور بالکل خاموش ہوگئے، جب لوگوں نے انہیں غور سے دیکھا تو وہ وفات پاچکے تھے۔(احیاء العلوم ج۴ص۴۱۱)
( ۴۸) ایک عاشق صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
لغت کے امام جناب اصمعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیان ہے کہ میں نے ایک سنسان جگہ میں ایک پتھر پر یہ شعر لکھا ہوا دیکھا کہ
ایا معشر العشاق باللّٰہ خبروا اذا حل عشق بالفتی کیف یصنع
اے عاشقوں کی جماعت! تم لوگ مجھے خبر دو میں تم لوگوں کو خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ جب عشق کسی جوان پر اتر پڑے تو وہ کیا کرے۔
اصمعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ میں نے اس شعر کے نیچے یہ شعر لکھ دیا :
ید اری ھواہ ثم یکتم سرہ ویخشع فی کل الامور ویخضع
اپنے عشق کے ساتھ نرمی برتے پھر اپنے راز کو چھپائے رکھے اور تمام کاموں میں عاجزی و انکساری رکھے، اصمعی کہتے ہیں کہ میں دوسرے دن وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک دوسرا شعر اسی پتھر پر لکھا ہوا ہے کہ
وکیف یداری والہوی قاتل الفتی وفی کل یوم قلبہ یتقطع
عاشق کیسے نرمی برتے؟ حالت تو یہ ہے کہ عشق جوان کو قتل کیے جارہاہے اور روزانہ اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہورہا ہے۔
اصمعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ میں نے اس شعر کے نیچے یہ شعر لکھ دیا کہ
اذا لم یجد صبرا لکتمان سرہ فلیس لہ شیء سوی الموت ینفع
جب عاشق اپنے راز کو چھپانے کے لیے صبر نہیں کرپاتا تو اس کو موت کے سوا کوئی دوسری چیز کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
اصمعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ پھر میں تیسرے دن وہاں گیا تو دیکھتا ہوں کہ ایک جوان کی لاش وہاں پڑی ہوئی ہے اور یہ دو شعر اس پتھر پر لکھے ہوئے ہیں کہ
سمعنا اطعنا ثم متنا فبلغوا سلامی علی من کان للوصل یمنع
ھنیئا لارباب النعیم نعیمھم وللعاشق المسکین مایتجرع
ہم نے سن لیا اور آپ کی بات مان لی پھر ہم مرگئے تو ہمارا سلام اس شخص کو پہنچا دو جو وصال سے ہمیں روکتا تھا۔
نعمت والوں کو ان کی نعمت مبارک ہو اور عاشق مسکین کو عشق کا کڑوا گھونٹ مبارک ہو جس کو وہ گھونٹ گھونٹ پی رہا ہے۔
(۴۹) حضرت خوا جہ قطب الدین بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت خوا جہ معین الدین اجمیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بڑے بلند مرتبہ خلیفہ ہیں ۔ یہ اللہ تَعَالٰی کے ذکر میں ہر وقت غرق رہا کرتے تھے۔ ایک دن قوال نے شیخ احمد جام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ شعر پڑھ دیا کہ
کشتگانِ خنجر تسلیم را ہر زمان از غیب جانی دیگر است
تسلیم و رضا کے خنجرسے قتل کیے ہوئے شخص کوہرگھڑی غیب سے ایک نئی زندگی ملاکرتی ہے ۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ شعر سن کر تین شب و روز حیرت کے عالم میں رہے اور کچھ بھی نہیں بولے اور پانچویں رات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وصال ہوگیا، خواجہ میر حسن دہلوی نے اسی زمین پر اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع