30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس شخص کو کیسے لگے گی جو عشق الہی کی گرمی سے جل رہا ہو؟ اس کے بعد ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وصال ہوگیا۔([1]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)
( ۴۱) حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
جریری محدث کا بیان ہے کہ میں حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی جانکنی کے وقت جب کہ وہ سکرات کے عالم میں تھے حاضر ہوا تو وہ تلاوت کررہے تھے۔ جمعہ کا دن تھا، جب وہ تلاوت ختم کرچکے تو میں نے عرض کی کہ اس وقت میں بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تلاوت کررہے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے زیادہ تلاوت کا حقدار دوسرا کون ہوگا؟ دیکھ نہیں رہے ہو؟ کہ میری زندگی کا نامہ اعمال لپیٹا جارہا ہے۔پھر کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کلمہ پڑھنے کے لیے کہا تو تڑپ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ میں اس کلمہ کو تو زندگی میں کبھی بھولا ہی نہیں ہوں جو تم مجھے اس وقت یاددلارہے ہو۔
ابوالعباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ میں نزع کے عالم میں حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر تھوڑی دیر کے بعد جواب دیا اور فرمایا کہ مجھے معذور سمجھو، میں اس وقت وظیفہ میں مشغول تھا۔ پھراپنا چہرہ انہوں نے قبلہ کی طرف کرلیا اور نعرہ تکبیر لگایا اور روح نکل گئی۔ ([2])
(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹تا۴۱۰)
( ۴۲) حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
بڑے بڑے اولیاء اللہ کی فہرست میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا نام بہت مشہور اور ممتاز ہے۔ وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا کہ اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو کس چیز کی خواہش وتمنا ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ بس میری ایک ہی خواہش اور بہت بڑی تمنا یہی ہے کہ مرنے سے پہلے ایک ہی لحظہ کے لیے مجھے خداوند قدوس کی معرفت حاصل ہوجائے۔یہ فرمانے کے بعد فوراً ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی روح پاک عالم آخرت کو روانہ ہوگئی اور لوگ ان کا منہ تکتے رہ گئے۔ ([3])(احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
( ۴۳) حضرت ممشاد دینوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
یہ سلسلہ چشتیہ کے مشہور اکابر اولیاء میں سے ہیں ۔ ایک شخص سے منقول ہے کہ میں حضرت ممشاد دینوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر تھا تو ایک درویش آئے اور سلام کرکے پوچھا کہ یہاں کوئی ایسی صاف ستھری جگہ ہے جہاں ایک انسان کے لیے مرنا آسان ہو۔ تو لوگوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کردیا جہاں پانی کا چشمہ تھا تو اس درویش نے وضو کیا اور کچھ نمازیں پڑھتا رہا۔ پھر پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا اور اس کی وفات ہوگئی۔([4])
بعض مشائخ حضرت ممشاد دینوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس عالم سکرات میں آئے اور دعائیں کرنے لگے کہ اللہ تَعَالٰی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو یہ نعمت دے وہ نعمت دے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ہنس کر فرمایاکہ آپ لوگ میرے لیے کیا کیا دعائیں مانگ رہے ہیں تیس برس سے برابر میرے سامنے جنت پیش کی جارہی ہے، مگر میں نے تو ایک مرتبہ نگاہ اٹھا کر اس کو دیکھا بھی نہیں ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ فرمایا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات ہوگئی۔([5]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)
( ۴۴ ) حضرت ابوعلی روذباری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
بزرگ ترین اولیاء اللہ میں سے ہیں ان کی بہن کا بیان ہے کہ میں نزع کے عالم میں ان کے سر کو اپنی گود میں لیے ہوئے بیٹھی تھی کہ ایک دم انہوں نے آنکھ کھول دی اور فرمایا کہ دیکھو یہ آسمان کے دروازے کھلے ہیں اور یہ جنت کے پھاٹک مزین کیے ہوئے ہیں اور یہ (کوثر و سلسبیل کے) برتن رکھے ہوئے ہیں اور اللہ تَعَالٰی فرمارہا ہے کہ اے ابو علی!رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہم نے تمہیں بڑے مراتب پر پہنچادیا ہے، حالانکہ تم اس کے طلب گار نہیں تھے۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ شعر بار بار پڑھنے لگے :
بحقک لانظرت الی سواکا بعین مودۃ حتی اراکا
یعنی تیرے حق کی قسم میں نے تیرے سوا کسی کو محبت کی نظر سے دیکھا ہی نہیں ہے، یہاں تک کہ میں تجھے دیکھ لوں ۔ یہی فرماتے ہوئے انہوں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور ان کی پاک باز روح عالم قدس کو روانہ ہوگئی۔([6]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)
( ۴۵) حضرت ابوسلیمان دارانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
مشہور اولیاء کبار میں سے ہیں ان کی وفات کے وقت بہت سے لوگ حاضر تھے تو ان کی بے چینی و بے قراری دیکھ کر کسی نے کہا ابشر فا نک تقدم علی رب غفور رحیمآپ خوشخبری حاصل کیجئے کہ آپ اس رب عَزَّ وَجَلَّ کے دربار میں جارہے ہیں جو غفور رحیم ہے۔ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ تم لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ احذرفانک تقدم علی رب یحاسبک بالصغیر ویعاقبک بالکبیر۔ آپ ڈریے کہ آپ اس رب کے دربار میں جارہے ہیں جو چھوٹے گناہوں کا حساب لے گا اور بڑے گناہوں پر سزا دے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ فرمایا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ
[1] احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۳۳۔ تذکرۃ الاولیائ، ذکر سری سقطی، ص۲۴۶
[2] احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۳۲۔ ۲۳۴
[3] احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۳۲۔ تذکرۃ الاولیاء ، ذکرذوالنون مصری، ص۱۲۸
[4] احیاء علوم الدین ، کتاب ذکر الموت، الباب الخامس فی کلام المحتضرین۔ ۔ ۔ الخ، ج۵، ص۲۳۲
[5] احیاء علوم الدین ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع